ہندو خطرے میں ہے یا زعفرانی اقتدار؟

(Dr Salim Khan, India)

مولانا کلیم صدیقی کو اغواء کرنے کے بعد گرفتاری کا اعتراف کیا گیا۔ اس موقع پراترپردیش کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس (امن و قانون) پرشانت کمار نے دعویٰ کیا کہ مولانا صدیقی ہندوستان میں ”غیر قانونی" تبدیلی مذہب کے ریکٹ چلا ر ہے تھے حالانکہ غیر قانونی ریکٹ کا تبدیلیٔ مذہب سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے لیکن جو لوگ دن رات یہ کرتے ہیں انہیں ہر جگہ یہی دکھائی دیتا ہے۔ پرشانت کمار کے مطابق مولانا کلیم صدیقی تعلیمی اور سماجی تنظیموں کی آڑ میں پورے ملک کے اندر بڑے پیمانے پر غیر قانونی تبدیلی مذہب کی سرگرمیو ں میں ملوث تھے حالانکہ مذہب کی تبدیلی یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ۔ وہ کبھی بھی غیر قانونی نہیں ہوتی۔ اے ٹی ایس کے بیان میں کہا گیا کہ مولانا صدیقی اتحاد انسانیت کا پیغام دینے کی آڑ میں جنت اور جہنم کا ذکر کر کے لوگو ں کے ذہنوں میں خوف اور لالچ پیدا کرتے تھے۔ یہ تو ایسا ہے کہ جیسے کو ئی استاد طالب علم سے کہے اگر تم نے پڑھائی نہیں کی تو ناکام و نامراد ر ہوگے اور محنت کی تو اول آکر انعام و اکرام سے نوازے جاوگے۔ اس میں کیا غلط ہے؟ اب یہ طالبعلم پر منحصر ہے کہ وہ استاد کی بات مانے یا نہ مانے؟ اس خیر خواہی میں لالچ اور ڈر کہاں سے آیا؟ یہ تو طالبعلم کے لیے مفید تلقین ہے اور اس کے لیے استاد کو موردِ الزام ٹھہرانا غلط ہے۔

اے ٹی ایس کا یہ الزام کہ وہ دوسروں کو اسلام قبول کرنے کے لیے آمادہ کرتے تھے بھی بے بنیاد ہے۔ اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت ایک بنیادی حق ہے جسے ملک کا آئین تسلیم کرتا ہے۔ اسلام قبول کرنے والے کا دوسروں کو دعوت دینا فطری ہے بلکہ اس کا سراپا وجود اسلام کی دعوت ہوتا ہے ۔ اس کے لیے کسی پر زور یا زبردستی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ۔ اے ٹی ایس کے انسپکٹر جنرل جی کے گوسوامی کا یہ کہنا کہ مولانا کلیم صدیقی اسلام کی طرف مائل کرنے کے لیے لوگوں کوبتاتے تھے، ”اگر دنیا میں شریعت کے مطابق نظام قائم ہوجائے تو ہر ایک کو انصاف مل جائے گا۔" انصاف کے حصول کی خاطرہر متبادل پر غور ہونا چاہیے ۔ اس کو پیش کرنے کا موقع اور برضا و رغبت قبول کرنے اجازت ہونی چاہیے۔ یہی تو اپنے پسندیدہ مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ کا حق ہے؟ مولانا کلیم صدیقی پر بیرونی ممالک سے مالی امدادلینے کا الزام بھی لگایا حالانکہ اس کا بھی ضابطہ اور اجازت ہے ان پر جو کروڈوں کی رقم جمع کرنے کا شور مچایا جارہا ہے وہ کل تین کروڈ ہے جبکہ نرنجنی اور باگھنبری اکھاڑے کے پاس مشترکہ تیس ہزار کروڈ کی جائیداد ہے۔

مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا کہ اس کا ایک پیغام تو یہ ہے کہ آئین کی روُ سے مذہب کو ماننے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کی اجازت نہیں ہے یہ دراصل بھارتی آئین کی پامالی ہے۔نوید حامد کے مطابق اس کا دوسرا پیغام یہ ہے کہ ہندوتوا کی مربی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ کے ساتھ رسم و راہ بھی دستور کے تحت حاصل حقوق کی ضمانت نہیں ہے۔ اس گرفتاری کا تیسرا اور سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ بی جے پی اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ، ”یہ دنیا کی واحد حکومت ہے جو اکثریتی طبقے کے اندر اقلیت کے تعلق سے خوف و ہراس پیدا کرکے اقتدار میں رہنا چاہتی ہے۔وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کا زہریلا پروپیگنڈا کرسکتی ہے تاکہ برادران وطن میں خوف و ہراس پیدا ہو‘‘۔

سوال یہ ہے کہ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ اور’ اچھے دن آنے والے ہیں‘ جیسے خوشنما نعرے لگا کر برسرِ اقتدار آنے والی مودی سرکار نے اپنی حکمت عملی کیوں بدل دی ؟ اس کی بنیادی وجہ ہر محاذ پر بری طرح ناکامی کے سبب اترپردیش کے اندر آئندہ انتخاب میں اس کی کامیابی مشکوک ہوگئی ہے۔ اب اس کے پاس عوام کو اسلام اور مسلمانوں سے ڈرانے کی خاطر’ ہندو خطرے میں ہے‘ کے کھوکھلے نعرے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں بچا ہے۔ اس دعویٰ کی حقیقت جاننے کے لیے ناگپور شہر کے ایک آر ٹی آئی جہد کار موہنیش جبلپورے نے وزارت داخلہ سے ’ملک میں ہندو دھرم کے لیے خطرے‘ کا ثبوت مانگا ۔ ایک ماہ کے بعد وزارت داخلہ کے سی پی آئی او( برائے داخلی تحفظ) وی ایس رانا نے یہ جواب دیا کہ وہ ہندو مذہب کے لیے نام نہاد خطروں کے بارے میں نہ تو جانتے ہیں اور نہ ان کے پاس کوئی ثبوت ہے۔ اس وضاحت کے بعد یہ نصیحت بھی کی گئی کہ آر ٹی آئی قانون کے مطابق عوامی نشریات کا افسر ( پی آئی او) صرف وہی معلومات فراہم کرسکتا ہے جو اس کے پاس موجود ہو یا جو اس کے اختیار میں ہو۔ مرکز کے پاس چونکہ کوئی ریکارڈ نہیں ہےاس لیے موہنیش جبلپورے کے خیالی استفسار کو مطمئن کرنا ممکن نہیں۔ اس وجہ سے اسے صفر مانا گیا(یعنی مسترد کردیا گیا) ۔

تعجب کی بات یہ ہے امیت شاہ کی وزرات داخلہ تو ہندو مذہب یا ہندو عوام کے خطرے کا انکار کرتی ہے مگر یوگی سرکار ہندو عوام کو تصوراتی خطرات سے ڈرا کر ا ن کے ووٹ کی خاطر کبھی مولانا عمر گوتم کو گرفتار کرلیتی ہے اور کبھی مولانا کلیم صدیقی کو حراست میں لے لیتی ہے۔ یہ اس جمہوری نظام کا بدترین جبر ہے جس کی قیمت مسلمان چکارہے ہیں ۔ اس معاملے میں موہنیش جبلپورے نے بڑی اہم بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار وزارت داخلہ کے ایک اہم اہلکار نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ’ ہندو مذہب کے تعلق سے کوئی بھی سوال خیالی ہے اور باضابطہ تسلیم کیا کہ ان اندیشوں کی حمایت میں ان کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہے‘۔ موہنیش کو حیرت ہے کہ اس کے باوجود بی جے پی اور اس کے حامی اپنے ناجائز سیاسی مفاد کی خاطر اکثریتی ہندو وں کے اندر خوف کی منفی نفسیات کیوں پیدا کرتے ہیں؟ یہ کہہ کر انہیں کیوں ڈرایا جاتاہے ہیں ان کا مذہب اور مذہبی شناخت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

موہنیش کے مطابق اس خوف کو قلب و ذہن میں بٹھانے کے لیے آر ایس ایس ہر روز اپنی شاکھا میں دو مرتبہ تمام شرکاء کو ایک سنسکرت دعا سکھاتی ہے۔ اس میں ’ہندو دھرم اور اور بھارت ماتا کو بچانے کی ‘ گہار لگائی جاتی ہے۔ موہنیش نے حیرت سے کہا کہ جب مرکزی حکومت نے یقین دہانی کرادی کہ ہندو مذہب کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تو آر ایس ایس اپنے نظریات کو عام کارکنان میں اس طرح کیسے ذہن نشین کرسکتا ہے؟ موہنیش چونکہ اس دعائیہ ترانے کو ہندوستانی آئین اور اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں اس لیے عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی دلیل تو معقول ہے لیکن عدلیہ کو اس سے کس حد تک اتفاق کرتا ہے یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ موہنیش جبلپورے تو سرکاری وضاحت سے اکثریتی اور اقلیتی طبقات کے بیچ سیاسی تنازعات کو دفن کرنا چاہتے ہیں مگر اس بات کا امکان کم ہے کہ زعفرانی سیاستداں بھی اس کا پاس و لحاظ کریں ۔

آئین کے مطابق ہر فرد سے تفتیش کے لیے اصول وضابطے طے ہیں لیکن موجودہ حکمراں اس پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ ان کو موہنیش جیسے لوگوں کے معقول دلائل سمجھ میں نہیں آتے۔ موجودہ سیاستدانوں کی آلۂ کار ’اے ٹی ایس نے تین صفحات پر مشتمل جو فرقہ وارانہ اعلامیہ میڈیا کو جاری کیا وہ عدالت میں ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے کی گئی درخواست سے یکسر مختلف تھا ۔ اس کی تصدیق وہاں موجود مولانا کلیم صدیقی کے وکیل ابوبکر سباق نے کی ۔ ان کے مطابق میڈیا کو فراہم کردہ پریس نوٹ میں تو قومی سطح پر جبری مذہب تبدیل کرنے کے الزامات سے لے کر، آبادی میں عدم توازن ، حکومت کا تختہ پلٹ کر اسلامی حکومت نافذ کرنا اور ہزاروں کی تعداد میں ہندؤوں کو مسلمان بنانے کی بہتان تراشی کی گئی مگر عدالت میں صرف یہ الزام لگایا گیا کہ مولانا مدرسے چلاتے ہیں، دعوت کا کام کرتے ہیں اور جو لوگ مذہب تبدیل کرتے ہیں ان کے دستاویزات بنواتے ہیں ۔ عرب ممالک سے فنڈ لینے کا الزام لگاکر کہا گیا کہ یہ کام وہ مولانا عمر گوتم کے ساتھ مل کر کرتے ہیں۔

ابوبکر سباق نے وضاحت کی کہ بیرون ملک سے آنے والے فنڈز قانون کے تحت آتے ہیں اور مولانا کے پاس حکومت کا جاری کردہ اجازت نامہ موجود ہے۔ ان کے مطابق چونکہ پولیس جبراً تبدیلیٔ مذہب کا ایک بھی براہ راست گواہ یا ثبوت نہیں پیش کرسکی اس لیے یہ سیاسی شعبدہ لگتا ہے۔ یو پی انتخابات میں اپنی مدافعت کے لیے سرکار کے پاس سماج کو بانٹنے کے سوا کوئی اور حربہ نہیں ہے۔ ان کی باتوں میں اس لیے بھی دم ہے کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے وہاں تو ہندو دھرم کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا اور جہاں ہندو مذہب کے یہ محافظین اقتدار میں آجاتے ہیں خطرہ منڈلانے لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ خطرہ اصلی نہیں بلکہ خیالی ہے۔ یہ در اصل ایک ہواّ ہے جو انتخاب جیتنے کی خاطر کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس طرح نوید حامد کے اس الزام کی تائید ہوجاتی ہے کہ حکومت اکثریتی طبقے کے اندر اقلیت کے تئیں خوف و ہراس پیدا کرکے اقتدار میں رہنا چاہتی ہے۔ فی زمانہ ’ہندو خطرے میں ہے‘ کے نعرے پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1423 Articles with 590650 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Oct, 2021 Views: 334

Comments

آپ کی رائے