رکھیو مودی مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

(Dr Salim Khan, India)

2؍ اکتوبر کو ملک بھر میں گاندھی جینتی جوش و خروش کے ساتھ منائی جاتی ہے اور بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے لیکن امسال ایودھیا کے سنت پرم ہنس اور کرناٹک کے دھرمیندر نے گاندھی جی حوالے سے نیا تنازع برپا کردیا ۔ پریاگ راج میں مہنت نریندر گیری کے سمادھی کی مٹی ابھی خشک نہیں ہوئی کہ ایودھیا کے جگد گرو پرم ہنس آچاریہ مہاراج نے جل سمادھی لینے کا اعلان کردیا۔ پرم ہنس کا مطالبہ ہے کہ اگر 2؍ اکتوبر تک ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا جاتا تو وہ سریو ندی میں ڈوب مریں گے۔ ویسے تو یوگی راج میں اترپردیش پوری طرح ہندو راشٹر بن چکا ہے لیکن سنت پرمہنس کے ارمان ابھی نہیں نکلے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ملک میں رہنے والے تمام مسلمانوں اور عیسائیوں کی شہریت ختم کر دی جائے یعنی این آر سی وغیرہ کی جھنجھٹ پالنے ضرورت ہی نہیں ۔ ویسے پرمہنس کی یہ نوٹنکی نئی نہیں ہے ۔ اس سے قبل ہندو راشٹر کے مطالبہ پر وہ تاحیات بھوک ہڑتال کا اعلان کرچکے ہیں لیکن 15 دنوں کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرنے کے بعد انہوں اپنا احتجاج ختم کر دیا۔ اس لیے اب یوگی یا مودی سرکار ان کے مطالبے کو سنجیدگی سے نہیں لے گی ۔

دہلی اور لکھنو دربار کی سرد جنگ میں اس بات کا بھی قومی امکان ہے کہ یوگی کے اشارے پر پرم ہنس مرکزی حکومت کی گھیرا بندی کررہے ہوں تاکہ مودی سرکار کو پریشان کیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس شور شرابے سے پرم ہنس خود اپنی اہمیت بڑھانا چاہتے ہوں تاکہ مہنت نریندر گیری کی موت سے خالی ہونے والی نشست ان کے سپرد کردی جائے اس لیے داخلی سیاست میں یہ مذہبی رہنما بھی کسی کم نہیں ہیں ۔ ویسے جگد گرو کی اس گیدڑ بھپکی سے ان کے چیلے تو متاثر ہوسکتے ہیں لیکن بی جے پی کے گھاگ سیاستدانوں پر شاید ہی اس کا کوئی اثر پڑے ۔ اتر پردیش کے علاوہ کرناٹک میں بھی ہندو مہاسبھا کے سکریٹری دھرمیندر نے بھی پچھلے دنوں اپنا بھاو بڑھانے کی خاطر کرناٹک کے نومنتخب وزیر اعلی کی مخالفت میں دل کھول کر بیان بازی کی ۔

دھرمیندر نے برملا کہا کہ بر سر اقتدار بی جے پی نے میسور میں ایک تاریخی مندر کے انہدام کی اجازت دے کر ہندوؤں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ انہوں نے مندر کے ٹوٹنے کا دکھ بیان کردیا لیکن آگے جو من بات کہی اس نے بی جے پی اور ہندو مہاسبھا دونوں کو پریشان کردیا۔وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرکے دھر میندر بولے کہ ہندوؤں کے خلاف حملوں کو لے کر اگر گاندھی جی کو مارنا ممکن تھا تو آپ کیا ہیں؟ ہندو مہاسبھا کی گاندھی دشمنی کو ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے مگر کھلے عام اس طرح کے اشتعال انگیز بیان کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ اس پر منگلورو پولیس نے ریاست کے وزیر اعلی کو دھمکی دینے کے الزام میں انہیں گرفتار کرلیا ۔ حیرت کی بات یہ کہ گاندھی جی کے قتل کو جائز قرار دینے پر حکومت کو اعتراض نہیں ہےلیکن وزیر اعلیٰ کو اسی سے انجام سے دوچار کرنے کا اشارہ جرم ہے۔

یہ بات بھی کسی کے خواب و خیال میں نہیں تھی کہ گاندھی جی کی موت کے صرف 70؍ سال بعد خود ان کے ہم مذہب انہیں اس طرح خراج عقیدت پیش کریں گے۔ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کا دھمکی آمیز لب و لہجہ استعمال کرتے کرتے ہندو مہا سبھا کے لوگ بے لگام ہوگئے ہیں۔ اس لیے گاندھی جی کیا اور وزیر اعلیٰ کون ؟دھرمیندر کے لیے سب برابر ہیں لیکن ان کے اس بیان سے ہندو مہا سبھا گھبرا گئی۔ اس نے اپنی مدافعت میں اعلان کردیا کہ مہا سبھا نے دھرمیندر کو سال 2018 میں نکال دیا گیا تھا۔ اس سے آگے بڑھ کر ہندو مہاسبھا کے ریاستی صدر نے ازخود دھرمیندر کے خلاف شکایت درج کرادی ۔ بسورواج بومئی کے بارے میں یہ بات سب جانتے ہیں کہ ان کی تربیت آر ایس ایس کی شاکھا میں نہیں ہوئی بلکہ ان کے والد ایس آر بومئی سنگھ کے دشمن تھے لیکن اس کی وجہ سے ہندو مہا سبھا اس قدر ڈر جائے گی اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا ۔

دھرمیندر بی جے پی کے ساتھ ساتھ سنگھ پریوار پر بھی کھلا وار کر دیا۔ انہوں نے آر ایس ایس پر الزام لگایا کہ وہ اب اس لڑائی کا استعمال کر اپنی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مندر کو منہدم کئے جانے کے خلاف سنگھی تنظیموں کی لڑائی بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو چھپانے کی سعی ہے۔دھرمیندر نے کہا کہ اس جنگ میں ملوث سنگھی تنظیموں کی حالت قابلِ رحم ہے ۔ وہ اگر اپنی لڑائی میں ایماندار ہیں تو آئندہ انتخابات میں انہیں بی جے پی کو ہرانےکی خاطر ہندو مہاسبھا کی حمایت کرنی چاہئے۔ ان کے مطابق ہندو مہاسبھا ہندوتوا کی بنیاد پر بنائی گئی پارٹی ہے۔ یہ بات درست ہے مگر بی جے پی کی بنیاد بھی تو ہندوتوا ہے لیکن وقت کے ساتھ وہ موقع پرست بن گئی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ میسور کے ننجن گڈھ مندر کی انہدامی کاروائی پر لیپا پوتی کے لیے دودن کے اندر غیر قانونی طور پر عوامی جگہوں پر تعمیرشدہ مذہبی مقامات بالخصوص مندروں، مسجدوں ، مزاروں اور گرجا گھروں کو تحفظ فراہم کرنے کی غرض سے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے مذہبی عمارتوں کے تحفظ کا بل ریاستی اسمبلی میں پیش کردیا تاکہ تمام اہم عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے ۔

ہندو مہاسبھا ا س انہدامی کارروائی پر چراغ پا ہے جو سپریم کورٹ کے ایک حکم پر کی گئی۔ اس میں عوامی مقامات اور سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا کرنے والی عمارتوں بشمول مذہبی مقامات منہدم کرنے کو لازمی قرار دیا گیا تھا ۔ مذہبی مقامات کی بابت سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ یا تو انہیں منہدم کیا جائے یا دوسرے مقام پر منتقل کیا جائے۔ اس معاملے میں ریاستی حکومت کی کوتاہی سے تنگ آکر ہائی کورٹ نے اپنی نگرانی میں عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد شروع کیا اور رخنہ انداز عمارتوں کو ڈھادیا ۔ عوام کے ساتھ ساتھ کانگریس اور جے ڈی ایس رہنماوں کی طرف سے بھی اس کی سخت مخالفت شروع ہوگئی تو بی جے پی نیا قانون بناکر عوامی جگہوں پر تعمیر کئے گئے مندر، مسجد، مزار اور گرجا گھر کو تحفظ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس قانون کی منظوری کے دوران بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب اختلاف کےکانگریسی رہنما سدارامیا نے حکومت پر الزام لگایا کہ ننجن گوڈو میں مندر کا انہدام حکومت کے علم کے بغیر ناممکن ہے اس تھا ۔ سدارامیا نے الزام لگایا کہ مندر توڑنے کے بعد بی جے پی حکومت نے ہندو مہا سبھا کے دباو میں آ کر یہ قانون بنایا ہے۔

اس موقع پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جے ڈی ایس کے بنڈیپا کاشیمپور نے کہا کہ ” سپریم کورٹ کی ہدایت کو کئی سال بیت چکے ہیں ۔ اب صرف پبلسٹی کے لئے بی جے پی حکومت یہ قانون لارہی ہے ۔ انہوں نے اس سے قبل ڈھائے جانے والے مذہبی مقامات کی از سر نو تعمیر کا مطالبہ کیا ‘‘۔ کانگریس کے یو ٹی قادر نے جب کہا کہ ہم پہلے سے پڑھتے آ رہے ہیں کہ ” باہر سے آنے والے غیر ملکیوں نے مندر اور عبادت گاہوں کو منہدم کیا تھا لیکن بی جے پی حکومت کا مندر کو منہدم کرنا اب تاریخ کا حصہ بنے گا ۔‘‘ تو بی جے پی والے آگ بگولا ہوگئے ۔ تمام ارکان اسمبلی کی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر برائے قانون و پارلیمنٹری ایفیئرس جے سی مادھو سوامی نے کہا کہ ” سپریم کورٹ کے حکم پر عمل پیرائی کے لئے پرجوش افسران کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہے ۔ تمہارے دور اقتدار میں بھی بہت سے مندروں کو توڑا گیا ہے ، کیا اس کے لئے تم لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے؟‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ اس مسودہ قانون کے کے بعد غیر قانونی طور پر مذہبی مقام تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ اس قانون میں نیک نیتی کے ساتھ مذہبی عمارت منہدم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے نہیں ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔ یہ وفادار بیوروکریسی کو دیا جانے والا تحفظ ہے ۔

دھرمیندر نے ہندو مہا سبھا کی تعریف و توصیف تو خوب کی مگرانہیں نہیں معلوم کہ اس کے بانی ونایک دامودر ساورکر کی قائم کردہ روایت بھی انگریزوں کے ساتھ مصالحت کی رہی ہے اس لیے بی جے پی اور ہندومہا سبھا میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اپنی تاریخ سے ناواقف دھرمیندر نے بی جے پی کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر مندروں پر حملے جاری رہے تو بی جے پی اور ریاست کی ریڑھ کی ہڈی کے بغیر والی حکومت کو ہندو مہاسبھا نہیں بخشے گی لیکن جس تنظیم کے بل بوتے پر وہ اچھل رہے ہیں اس کے صدر نے تو اپنے بانی کے نقشِ قدم پر چلتے انہیں پارٹی سے نکال باہر کیا ہے ۔ بی جے پی مندر انہدام کی کارروائی کو سپریم کورٹ کا حکم بتا رہی ہے اور اگر رام مندر کو بنانے کا جواز سپریم کورٹ کے حکم سے نکلتا ہے تو مندر توڑنے کا جواز کیوں نہیں نکل سکتا؟ دھرمیندر کے مودی سرکار پر اترنے والے نزلے اور پرم ہنس کی مرکزی حکومت دی جانے والی دھمکی پر غالب کا یہ شعر معمولی سی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
رکھیو مودی مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1461 Articles with 629839 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Oct, 2021 Views: 249

Comments

آپ کی رائے