پی ڈی ایم سراپا احتجاج مگر کیوں ۔۔؟

(Ghulam Murtaza Bajwa, Sialkot)

اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے احتجاج انسان کا بنیادی حق ہے ۔ لیکن اس بنیادی حق کی آڑ میں اپنے بہن بھائیوں اور قوم کو دھوکہ دینا قومی جرم ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا ہنگامی اجلاس ہواجس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال، بدترین مہنگائی، نیب آرڈیننس، نام نہاد انتخابی اصلاحات سمیت ملک کو درپیش داخلی و خارجی امور پر تفصیلی غور وخوص کیا گیا جبکہ پی ڈی ایم قیادت نے نیب ترمیمی آرڈیننس، انتخابی اصلاحات، الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم) اور انٹرنیٹ ووٹنگ کوحکومت کی بد نیتی قراردیکر مکمل طور پر مسترد کردیا حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ بھی کردیا۔

انسداد مہنگائی کیلئے کراچی، کوئٹہ، پشاور، لاہور اوراسلام آباد میں احتجاج کیا جائے گا۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، گھی، چینی، دوائی اور دیگر اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں بد ترین اضافہ کو واپس لے کر عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے اگر مطالبات منظور نہیں کئے جاتے تو 13 نومبر کو کراچی، 17 نومبر کو کوئٹہ، 20 نومبر کو پشاور میں پی ڈی ایم جماعتیں مرکزی قیادت کی سربراہی میں سڑکوں پر نکلیں گی آخری ریلی لاہور میں ہوگی جس کے بعد اسلام آباد کی طرف مہنگائی کیخلاف فیصلہ کن لانگ مارچ ہوگا۔

خبر یہ بھی ہے کہ شہباز شریف نے جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا گفتگو میں قائد حزب اختلاف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی حکمت عملی اور نیب ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے مشاورت کی دونوں قائدین نے مہنگائی کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور ردعمل دینے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی شہباز شریف کی تجویز سے اتفاق کیا پی ٹی آئی عوام کیلئے پریشانی، تکلیف اور انتقام بن چکی ہے قائدین نے نیب کے کالے قانون کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر چیلنج کرنے کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا دونوں رہنماؤں نے شہباز شریف کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس پاکستان کی امیر شخصیات کا تعلق پی ڈی ایم سے تھا اور ہے سابق صدر ، شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری پاکستان کے پانچویں امیر ترین آدمی ہیں۔ اس کی خالص آمدنی کا تخمینہ 1.8 بلین ڈالر ہے۔ زرداری پاکستان کے سابق صدر اور ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ تاہم، اس کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ زمین سے آتا ہے۔ وہ سندھ میں سینکڑوں ایکڑ کاشت شدہ زمین کے مالک ہیں۔ زرداری کی زیادہ تر آمدنی پورے پاکستان کی شوگر ملوں سے آتی ہے۔ اس کے پاس سرمایہ کاری کمپنیوں میں بھی حصص ہیں۔

چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض 2021 میں پاکستانی امیر ترین افراد میں چھٹی پوزیشن حاصل کر رہا ہے۔ ان کی آمدنی کا تخمینہ 1.5 بلین ڈالر ہے۔ ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ بحریہ ٹاؤن گروپ ہے، جس کی خدمات پاکستان کے بڑے شہروں بشمول لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ہیں۔

میاں محمد منشا کو پاکستان کا چوتھا امیر ترین شخص قرار دیا گیا ہے۔ اس کی مجموعی مالیت 2.7 بلین ڈالر ہے۔ وہ نشاط گروپ کے بانی ہیں اور سی ای او کا عہدہ بھی رکھتے ہیں۔ منشا کی آمدنی کا ذریعہ، نشاط گروپ، پاکستان میں قائم ایک کثیر القومی جماعت ہے جس کا مرکزی دفتر لاہور میں ہے۔ 2.7 ملین ڈالر کی بنیادی دو۔ نشاط گروپ ان کا کاروبار ہے۔ وہ ایک امیر بنگالی خاندان سے آتا ہے جو 1930 کی دہائی میں امریکہ ہجرت کر گیا تھا۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان پنجاب واپس آ گیا۔ وہ ایک کاٹن کمپنی شروع کرتے ہیں، جو تیزی سے پاکستان کی سب سے بڑی فیبرک مینوفیکچرنگ مل بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، وہ ایک مسلم کمرشل بینک کا مالک ہے۔ 2010 میں، یہ فوربز میگزین کی دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل تھے۔صدرالدین ہاشوانی تیسرے امیر ترین پاکستانی ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریبا 3.4 بلین ڈالر ہے۔ وہ ہاشو گروپ کے بانی اور موجودہ چیئرمین ہیں۔ گروپ کے اہم کاروباری اداروں میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل اور ریزورٹس شامل ہیں۔

قائد مسلم لیگ ن سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف 1.4 بلین ڈالر کی مالیت کے ساتھ پاکستان کے ساتویں امیر ترین آدمی ہیں۔ وہ ایک ممتاز سیاستدان ہیں اور تین بار پاکستان کے وزیر اعظم رہے۔ شریف ایک کاروباری خاندان میں پیدا ہوئے، اور اسی طرح ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ ان کے والد شریف گروپ اور اتحاد گروپ کے بانی تھے۔ دونوں گروہ چینی، سٹیل اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں میں کام کرتے ہیں۔ ناصر شون پاکستان کے آٹھویں امیر ترین شخص ہیں۔ وہ اپنے بھائی طاہر شان کے ساتھ شون پراپرٹیز کا مالک ہے۔ یہ کمپنی 1971 میں بنائی گئی تھی۔رفیق ایم حبیب پاکستان کے نویں امیر ترین آدمی ہیں۔ وہ ہاؤس آف حبیب، حبیب انشورنس کمپنی کے گروپ چیئرمین ہیں۔ لمیٹڈ، شبیر ٹائلز اینڈ سیرامکس، اور تھل لمیٹڈ حبیب تقریبا 100 کمپنیوں کے سربراہ ہیں، بشمول حبیب بینک اور حبیب یونیورسٹی۔اورطارق سیگول پاکستان کے دس امیر ترین لوگوں میں شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت 0.9 بلین ڈالر ہے۔ سیگول ''کوہ نور-میپل گروپ’’کے مالک ہیں اور کوہ نور اور پاک الیکٹرون لمیٹڈ کی ٹیکسٹائل مل میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ودیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔

پی ڈی ایم کو اپنے احتجاج سے قبل اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہئے کیوں ۔ پاکستان کے تاجر رہنماؤں ان کے ساتھ ہیں ۔ احتجاج کئے بغیر ہی عوام کو ریلیف دے سکتے ہیں ۔ دوسری جانب یہ جنگ اسمبلیوں میں ہونے چاہئے ۔پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کثرت تعدادمیں ارکان اسمبلیوں کی صورت میں موجود ہے ۔

ضرورت اس امرکی ہے پی ڈی ایم ایک سیاسی قوت کا نام ہے یہ سب لوگ موجود ہ صورت حال سے باخبر ہیں ۔احتجاج ہرمسئلہ کا حل نہیں ہوتا ۔بغیر کسی نقصات کے عوام کو ریلیف دینا حکومت اور اپوزیشن کا کام ہے۔ کیوں جھوٹا کا جلد پردہ چاک ہوجاتاہے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa

Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 269 Articles with 122659 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Nov, 2021 Views: 297

Comments

آپ کی رائے