شمع جمہوریت! بے نظیر بھٹو

(Muhammad Riaz, )

اللہ کریم نے بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات پیدا فرمایا۔ یوں تو مرد و زن برابر ہیں مگر بہت سے معاملات میں مردوں کو عورتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ بنی نوع انسان کی تاریخ میں مردوں کی شجاعت، بہادری، عقل، دانائی کے قصے زبان زد عام ملیں گے مگر تاریخ انسانی میں بہت کم ایسی عورتیں منظر عام پر آئیں جن کی شجاعت، دلیری اور عقل مندی نے اک تاریخ رقم کی، تاریخ مذہب اسلام میں ازواج مطہرات خصوصاً حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا رضوان اللہ تعالیٰ عنہما کی ذات مقدسات ہمارے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ قرآن مجید میں باہمت اور عقل و دانائی کی حامل خواتین کا تذکرہ بھی ملتا ہے جیسا کہ فرعون کی بیوی، حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی (جو بعد میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بیوی بنیں) اللہ کی کروڑہاں رحمتیں نازل ہوں ان عظیم عورتوں پر۔ آمین ثم آمین۔ زمانہ جدید اور خصوصاً برصغیر پاک و ہند کی سیاست کی بات کی جائے تو اندرا گاندھی، حسینہ واجد، خالدہ ضیاء، نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کا شمار نمایاں ترین عورتوں میں ہوتا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی بات کی جائے تو پاکستان کی سیاسی تاریخ انکی ہمت، شجاعت، دانائی اور دور اندیشی اور سیاسی فراست کے بغیر ہمیشہ نامکمل رہے گی۔ اک سیاسی، رئیس اور حکمران گھرانے میں آنکھ کھولنے والی بے نظیر بھٹو (جنکو خاندان میں پنکی کے نام سے جانا جاتا تھا) نے زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ بےنظیر بھٹو نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں فلسفہ، سیاست اور اقتصادیات کی تعلیم حاصل کی۔ لیڈی مارگریٹ ہال سے وہ سینٹ کیتھرائن کالج آکسفورڈ گئی۔ وہ آکسفورڈ یونین ڈیبیٹنگ سوسائیٹی کی صدر بھی رہیں۔ یورپ میں رہ کر گوروں سے علمی و سیاسی میدان میں پیچھے نہ رہیں۔ انہوں نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ کئی غیر ملکی دورے کئے خصوصا بھارت کے دورہ کے دوران اندرا گاندھی کیساتھ ملاقات انتہائی یادگار تھی۔ سیاست کی گھٹی اپنے والد سے سیکھی، باقی کی سیاست ملکی حالات نے سیکھا دی۔ پاکستان کا آئین دینے اور مملکت کو اٹیمی ملک بنانے والے عظیم والد کو پابند سلاسل کیا گیا اور پھر ان پر بوگس مقدمہ میں وقت کے آمر حکمران ضیاء کے ایماء پر تختہ دار پر لیجا کر پھانسی دے دی گئی، ان حالات میں جہاں ایک طرف والد کی موت کا غم وہیں پر پاکستان پر ڈیکٹیٹر شپ کے کالے اندھیرے چھائے ہوئے تھے، جمہوریت کو تابوت میں بند کردیا گیا دوسری طرف جبری جلاوطنی نے اس صنف نازک کو صنف آہن بنا دیا۔ پھر اس صنف آہن نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔جب بڑے بڑے بہادر مرد ڈکٹیٹر شب کا سامنا کرنے سے کتراتے تھے اس بہادر خاتون نے ڈکٹیٹر شپ کا سامنا بڑی جوان مردی سے کیا۔ وقت کا دھارا بدلا، ملک سے ڈیکٹیٹر شپ کے کالے بادل چھٹتے ساتھ ہی پاکستان کی عوام نے اک مرتبہ پھر اپنے ہردلعزیز لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کو اپنی آنکھوں کو تارا بناتے ہوئے وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچا دیا۔ 88 سے لیکر 99 تک سیاسی حکومتیں بظاہر جمہوری حکومتیں تھیں مگر آمر ضیاء الحق کی 8 ویں آئینی ترمیم (58 ٹو بی) کے ذریعہ سے ان جمہوری حکومتوں کو بار بار ختم کیا گیا۔ یاد رہے اس جمہوری دور میں جہاں پاکستان میں معاشی ترقی ہوئی وہیں پر پاکستان کو اٹیمی میزائلوں کی ٹیکنالوجی دینے میں بے نظیر حکومت کا کردار سہنری حروف لکھنے کے قابل ہے۔ جہاں ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو اٹیمی قوت بنانے کی سعی کی وہیں پر انہی کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے پاکستانی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے میزائیل ٹیکنالوجی کا اضافہ کیا۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ 74 سالوں میں ریاست پاکستان میں آدھے سے زائد دورانیہ غیر جمہوری اور غیر منتخب حکمرانوں نے حکومت کی اور ان غیر جمہوری قوتوں کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی میں بے نظیر بھٹو کا کردار ناقابل فراموش ہے پہلے ضیاء کی ڈکٹیٹر شب کا مقابلہ کیا پھر جمہوری دور میں بھی بار بار غیر جمہوری طاقتوں کا سامنا کیا اور 1999 سے لیکر 2007 تک مشرف کی آمریت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بھٹو خاندان پاکستان کا بدقسمت ترین خاندان ہے جس نے جمہوریت کی بحالی میں اپنا پورا خاندان اس وطن کی مٹی کے سپرد کردیا۔ بے نظیر بھٹو کا شمار دنیا کی باہمت خاتون کے طور پر کیا جاتا ہے جنہوں نے جمہوریت کی خاطر اپنی آنکھوں کے سامنے بھائیوں اور باپ کی موت کے صدمے برداشت کئے۔ باربار جبری جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر ہمت نہ ہاری۔ جمہوریت اور آئین کی سربلندی کی خاطر بھٹو خاندان خصوصا محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانیاں سہنری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں۔ اپنے سیاسی حریف میاں محمد نواز شریف کیساتھ میثاق جمہوریت کا معاہدہ کرنا پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور دیرپا جمہوری روایات کو برقرار رکھنے کے لئے بہت بڑا کارنامہ تھا، مگر افسوس انکی وفات کے بعد میثاق جمہوریت پر من و عن عملدرآمد نہ ہوسکا۔ سیاسی و آئینی ماہرین کے نزدیک میثاق جمہوریت صحیح معنوں میں آئین پاکستان کے بعد سب سے اہم دستاویز ہے، جس پر اگر حقیقی معنوں پر عمل ہو جاتا تو پاکستان کی قسمت بدل جاتی

27 دسمبر 2007 کی خونی شام نے اس وطن کی بیٹی، چاروں صوبوں کی زنجیر محترمہ بینظیر بھٹو کو موت کی وادی میں پہنچا دیا۔ کاش آج محترمہ بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو پاکستان میں آج حالات بہت ہی مختلف ہوتے۔ کاش محترمہ بے نظیر بھٹو آج زندہ ہوتیں تو پاکستان پپلز پارٹی کی موجودہ سیاست ایسی نہ ہوتی، بے نظیر بھٹو کبھی نواز شریف کی بلوچستان حکومت کو ختم کروانے اور سینٹ میں غیر جمہوری طاقتوں کو سینٹ میں اپنا بندہ چیرمین بنوانے میں پیپلز پارٹی کا کندھا استعمال ہونے نہ دیتیں۔ بے نظیر بھٹو وہ تھیں کہ جنکے دشمن بھی انکی تعریف کئے بنا نہ رہے۔ اللہ کریم انکی مغفرت فرمائے آمین ثم آمین۔
وہ بے نظیر تھی وہ بے مثال تھی وہ جمہوریت کی آواز تھی وہ شمع جمہوریت تھی

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Riaz

Read More Articles by Muhammad Riaz: 100 Articles with 41559 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Jan, 2022 Views: 333

Comments

آپ کی رائے