شاد باد منزل مراد

(Tanvir Sadiq, Lahore)

میں نے زندگی میں بہت کم لوگ ایسے دیکھے ہیں جو اس قدر مخلص، ملنسار،درویش صفت،سادہ اور خوشدلی سے اپنا قیمتی وقت دوستوں کو دینے والے ہوتے ہیں جیسے پرانی خیر پور ریاست کے سپوت، شاہ عبدلطیف یونیورسٹی کے استاد ، شعبہ انٹر نیشنل ریلیشنز کے روح رواں، ہمارے مہربان اور دوست جناب سرفرازکوریجہ صاحب ہیں۔ جانے ان کے پاس کیا جادو یا کیا طلسم ہے کہ’’ کھل جا سم سم‘‘ جیسا کوئی لفظ بھی نہیں کہتے مگر دروازے خود بخود کھلتے جاتے ہیں۔ہمار ے خیر پور قیام کے دوران ایک شام وہ ہمیں ریاست کے حکمرانوں کی ذاتی رہائش گاہ، ’’فیض محل ‘‘دکھانے لے گئے۔محل اور محل کے اہلکار بڑے تپاک سے ملے ،لگتا تھا کہ وہ مہمانوں کے لئے ہمیشہ دیدہ و دل وا رکھتے ہیں۔سرفراز کوریجہ صاحب ہی کی دعوت پر ہم دوستوں کا ایک خالصتاً غیر سیاسی گروپ خیر پور کی سابق پرنسپلی ریاست، وہاں کے لوگوں کا رہن سہن ، وہاں کا کلچر اور دوسرے عوامل کو دیکھنے وہاں پہنچا تھا۔ وفد میں ہمارے میر کاروان جناب رمضان عبیر، سب کے گرو اور مہا میر کاروان جناب رضوان احمد، کے علاوہ جسٹس(ر) اسد منیر، ان کی بیگم محترمہ شیریں اسد، پنجاب اسمبلی کی رکن محترمہ سعدیہ تیمور، ان کا بیٹا ازیرکیانی، جناب میجر خالد نصر، بیگم و اظہر ورائچ، بیگم و ذکی عباس، بیگم و عدنان اسلم صاحب، بیگم منزہ لالوانی صاحبہ اور ان کا شیر خوار بچہ،بیگم جوزفین گل، مشہور عوامی شخصیت جاوید اقبال بھٹی صاحب، جناب محمد شعیب، جناب عمران احمد ، میری بیگم شاہین اور میں شامل تھے۔

فیض محل خیر پور کے رئیس خاندان کا ذاتی محل ہے جسے پہلے تالپور حکمران رئیس سہراب خان تالپور نے بنوایا تھا۔تالپور خاندان ایران سے آیا اور 1783 میں سندھ کے حکمران کلہوڑاخاندان کو شکست دے کر سندھ میں اپنی حکومت قائم کی۔ یہ پرنسپلی ریاست 1955 تک قائم رہی اور اس کے بعد اسے پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔فیض محل کو تعمیر کرنے میں 13 سال لگے ،اس کا رقبہ بارہ ایکڑ ہے اور یہ 1798 میں مکمل تعمیر ہوا۔ اس وقت اس کی تعمیر پر ایک لاکھ روپے لاگت آئی چنانچہ اس حوالے سے اسے لکھی محل بھی کہتے ہیں۔اپنی انتہائی خوبصورتی کے سبب سیاحوں کے لئے دلکش اس عمارت میں رئیس کی عدالت لگا کرتی تھی۔عمارت کے داخل ہوں تو ایک بڑا ہال ہے۔ جس کے دروازوں کے ساتھ حنوط شدہ ہرنوں کر سر لٹک رہے ہیں۔ ہال ایک مکمل تاریخ ہے۔ ہال میں پڑا ہوا صدیوں پرانا فرنیچر اپنی پوری آب وتاب سے چمکتا دمکتا یوں نظر آتا ہے کہ جیسے اسے بنے چند سال ہی گزرے ہوں۔دیواروں پر تالپور خاندان کے تمام رئیس حکمرانوں اور ان کے خاندانی افراد کی تصویریں ہیں۔الماریوں میں تاریخی دستاویزات ہیں۔ اس بہت بڑے ہال کی پیتل کی بنی ہوئی چھت اپنی خوبصورتی میں بے مثال ہے۔ہال کے ساتھ ہی ڈائننگ ایریا ہے۔ ارد گرد 36 کمرے ہیں جن میں 16 کمرے کبھی انتظار گاہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے ، بقیہ شاہی مہمان خانے کے طور استعمال ہوتے تھے۔محل کے احاطے میں ایک وسیع آموں کا باغ ہے جو کبھی ہاتھی خانہ ہوا کرتا تھا۔ ہاتھی جب نہ رہے تو اس جگہ کو باغ میں تبدیل کر دیا گیا ۔ریاست کے آخری رئیس جناب جارج مراد تھے۔ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کے رئیس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے اور رئیس نے ان کا مستقل وظیفہ بھی مقرر کیا ہوا تھا۔ قومی ترانے میں شامل ایک مصرعہ ’’شاد باد منزل مراد‘‘ جناب رئیس جارج مراد سے منسوب تھا جسے بعد میں ترانے میں شامل کر لیا گیا۔رئیس جارج مراد زندہ سلامت ہیں مگر اپنے کسی دوسرے محل میں مقیم ہیں ۔ فیض محل میں ان کے دو بیٹوں میں چھوٹے بیٹے شہزادہ مہدی رضا تالپور مقیم ہیں۔
ہماری آمد کی اطلاع پا کر رئیس مہدی رضا ایک دروازے سے ہال میں تشریف لائے۔ وہی سادگی جو سندھ کلچر کا خاصہ ہے۔ ان کے لہجے، ان کے طرز سخن، ان کی ملنساری اور ان کے ہر انداز سے نظر آ رہی تھی۔ پڑے تپاک سے ملے۔ دھیما لہجہ اور میٹھا انداز۔ کہنے لگے کہ میں لیٹا ہوا تھاکہ پتہ چلا مہمان آئے ہیں ، اسی طرح اٹھ کر ملنے آ گیا ہوں۔

موقع اچھا جان کر میں نے رئیس سے ان کے اور ان کی ریاست کے بارے جاننے کے لئے چند باتیں کیں ۔ میرے سوال پر کہ آپ کے والد کے نام کے ساتھ جارج کیوں آتا ہے۔ تو بتانے لگے کی ان کی پرورش انگریزوں میں ہوئی چنانچہ ان کے تعلق کے حوالے سے ان کے نام مراد کے ساتھ جارج کا اضافہ کیا گیا ہے ، یہ اس وقت کی روایت تھی کہ پرورش کرنے والے کو بھی والدین کی طرح احترام دیا جاتا تھا اسی لئے وہ جارج مراد کہلاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 3 اکتوبر 1948 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ہم نے ریاست کو پاکستان میں شامل کیا۔ اس معاہدے کے تحت مواصلات، دفاع اور خارجی امور کے علاوہ یہ ریاست اپنے معاملات میں آزاد تھی مگر 14 اکتوبر 1955 کو ریاست ختم کرکے اسے پاکستان میں شامل کر لیا گیا۔ میں نے پوچھا کہ کوئی وجہ ، تو کچھ اداس سے لہجے میں جواب تھا کہ یہ ہم آج تک نہیں جان سکے۔ اس وقت ریاست کی صورت حال کے بارے میں بتانے لگے کہ یہ ایک بہترین ریاست تھی۔ کرائم ریٹ تقریباً صفر تھا۔ کوئی بے روزگاری نہیں تھی۔ اس وقت ہمارے علاقے میں 56 انڈسٹریاں کا م کر رہی تھیں جن میں ٹیکسٹائل ،تمباکو، آئل ، گھی، ماچس اوربہت سی فیکٹریاں تھیں۔ نئی دو زیر تعمیر تھیں اور بہت سوں پر کام ہو رہا تھا۔ لوگوں کو آسانی سے روز گارحاصل تھا۔ مگر 1955 میں پاکستان میں شامل ہونے کے بعد تمام فیکٹریاں بند کر دی گئیں کہ یہ علاقہ انڈسٹری کے لئے سازگار نہیں۔ لوگ بے روزگار ہو گئے۔ بہت احتجاج ہوا مگر سب بے معنی رہا۔تالپور خاندان تعلیم پر اپنے بجٹ کا بائیس (22) فیصد خرچ کرتا تھا۔ پوری ریاست میں بنیادی تعلیم مفت تھی۔لڑ کیوں کے علیحدہ سکول قائم کئے گئے تھے۔ ہائر ایجو کیشن کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ریاست کی کوشش تھی کہ ریاست میں کوئی ناخواندہ نہ رہے۔ حکومت پاکستان خود تسلیم کرتی تھی کہ یہ ایک بہترین ریاست ہے ۔ رئیس مہدی رضا نے ہال میں موجود وہ دستاویزات دکھائیں بھی۔ فیض محل اور اس کے مکین جناب رئیس مہدی رضا صاحب سے ملاقات اور خیر پور کے علاقے کی سیر کے بعد میں محسوس کرتا ہوں دنیاوی طور پر اقتدار ختم بھی ہو جائے تو بھی اپنے اچھے اعمال اورنیک سلوک کے سبب آپ لوگوں کے دلوں پر اپنا اقتدار قائم رکھتے ہیں ۔ خیر پور کی تالپور فیملی اس کی زندہ مثال ہے۔

تنویر صادق
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 474 Articles with 284277 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
06 Jan, 2022 Views: 304

Comments

آپ کی رائے