سیاستدان اور ہمارا کردار

ذرا سوچو!
ہماری حکومتیں ہمارے مسائل حل کرنے کے لئے آتی ہیں یااپنی اپنی باری پر اپنی جیبیں بھرنے کیلئے آتی ہیں۔کوئی بھی میری ان باتوں کا جواب نہیں دیگا۔کوئی مذہب کے نام پر ہمارے جذبات سے کھیلتا ہے اور کوئی ملک بچانے کا نعرہ لگاتا، کوئی سب سے پہلے پاکستان کانعرہ لگا کر شہنشاہی کامزہ لیتا ہے اور مذہبی مقامات کے تقدس کو بھی خاطر میں نہیں لاتا۔ کوئی بھارتی لابی کا سہارا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے لیڈروں کا جب یہ حال ہے کہ ان کا کاروبار پاکستان میں محفوظ نہیں ہے اور کسی کے بچے پاکستان میں غیر محفوظ سمجھے جاتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لئے ہم اپنے بچوں کو اخلاقیات سے گرے ہوئے ماحول میں اس لئے بھیج دیتے ہیں کہ وہاں سے وہ درس انسانیت سیکھ کر آئینگے اور واپسی پر ملک وقوم کی خدمت کرکے معاشرے میں اپنا مقام بنائیں گے۔ کیا یہ سب آپکو درست لگتا ہے؟کیا کبھی تمہارے ضمیر نے تمہیں جھنجھوڑا نہیں۔ کیا کبھی تم نے ہوش میں آکر سوچا نہیں کہ ہم کون ہیں۔ تخلیق پاکستان کا مقصد کیا تھا کیا کبھی آپ نے سوچا کہ لاکھوں انسانوں کی جانی اور مالی قربانیاں رائیگاں کیوں جارہی ہیں۔ لاکھوں انسان گھروں سے بے گھر کیوں ہوئے۔ کیا بے گھر ہونے والے افراد کی نسل باقی بھی ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کہاں ہے۔ ہم تھک گئے ہیں بچوں کو پڑھاتے پڑھاتے کہ بزرگوں کا ادب کرو,بزرگوں کی صحبت اختیار کرو۔ کیا ہمارے بزرگوں نے انگریزی تسلط سے آزادی کا نعرہ اس لئے لگایا تھا کہ ہم پاکستانی انگریزوں کی غلامی کرینگے۔ آج یاد کیا تو دلی تکلیف ہوئی مگر افسوس کے سوا کچھ نہ کرسکا۔ اپنے دل پر جبر کیا اور خاموش رہنے کو ترجیح دی کیونکہ پتہ ہے کہ حق بات کہنے یا لکھنے پر جو سلوک ہوگا اس سے میں تو کیا میری نسلیں بھی خاموش رہنے کو ہی ترجیح دینگی۔ اگر اسی کانام آزادی ہے تو غلامی کس کو کہتے ہیں۔کیا ہمیں اس حد تک کمزور نہیں کردیا گیا کہ ہم صرف کھانے پینے کے بارے میں سوچیں۔کھانا کہاں سے آتا ہے، رزق کون دے رہا ہے، ہمارے اوپر مصیبتیں کیوں آرہی ہیں، کیا کبھی اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ موت وحیات کا مالک کون ہے۔ اگر ہم زندہ ہیں تو کیوں ہیں؟ ہماری زندگی کا مقصدحکومتوں کا آنا جانا نہیں ہے۔ جب ہم اپنے مقصد سے دور ہونگے تو کیا ہم کامیاب ہو پائیں گے۔ دراصل ہم خود راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے مقصد سے دور ہوتے جارہے ہیں.جب تک ہم اپنی حقیقی منزل کا تعین نہیں کرلیتے تب تک ہم پر غیروں کا مسلط ہونا کوئی نئی بات نہیں لگتی۔ زندگی میں بہت کچھ دیکھا مگر پاکستان کی آزادی ایک خواب کی طرح ہی محسوس ہوئی۔ ہر آنے والے لیڈر نے ایک ہی آواز اٹھائی کہ ہم تو عوام کی بھلائی کی خاطر جلسے جلوس کررہے ہیں۔ ہمیں کسی طرح کی دولت کی خواہش نہیں ہے۔اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو پاکستان پر بیرونی طاقتیں ہی اپنا تسلط جمائے ہوئے نظر آتی ہیں۔کہیں پاکستان ورلڈ بنک کے تحت نظرآتا ہے، کہیں آئی ایم ایف اپنے پنجے گاڑے ہوئے نظر آتا ہے۔ ہم اپنی مرضی سے اپنے دوستوں کا انتخاب بھی نہیں کرسکتے اور دشمنوں کے انتخاب کی ضرورت پیش نہیں آتی جدھر نظر دوڑائیں دشمنوں کی لائنیں نظر آتی ہیں جو اس طاق میں ہیں کہ موقع ملے اور ہم پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں لیکن دشمن یہ بھول جاتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین مسلمانوں کے لئے اﷲ تعالٰی نے عطا کی ہے اور حفاظت کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔ دشمن کئی دفعہ اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی کوشش کرچکا ہے لیکن بفضل خدا ہر دفعہ منہ کی کھاکر راہ فرار بھی اختیار کرچکا ہے۔ ہمارے ملک پر دشمن تمام تجربات کرچکا ہے لیکن اس کا ہر تجربہ اس کی ناکامی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر ہم راہ راست پر آجائیں اﷲ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر عمل پیرا ہوجائیں تو کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو ملک پاکستان کو شکست دے سکے۔ سب سے پہلے ہمیں خود کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اخلاقی گراوٹ کا شکار رہیں گے ہمارے اوپر دھند اور خطرناک بادل چھائے رہینگے۔ آج ہم اپنے لیڈروں کی کوتاہیوں پر نظر رکھنے کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچتے۔ ہم اپنے لیڈروں کو فرشتہ تصور کرنے لگے ہیں کیا یہ ہماری کم فہمی نہیں ہے۔ ہم اپنے ہی لیڈروں کو کرپٹ تصور کرتے ہیں کیا ایسا ہم درست کرتے ہیں۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ ہم نے یا ہمارے ہی بھائیوں نے انہیں منتخب کیا ہے۔ تو ذرا سوچیں کہ یا تو ہم غلط ہیں یا ہمارے بھائی غلط ہیں۔ ہم اس کو درست کرنے کے لئے منصوبہ بندی کیوں نہیں کرتے ۔ کیوں ہم خود احتسابی پر توجہ نہیں دیتے۔ کیوں ہمارے مذہبی پیروکار امت مسلمہ کی درست رہنمائی نہیں کر پارہے۔ کیوں ہم نے اپنا وہ راستہ چھوڑ دیا ہے جس کے لئے ہمارے آباؤ اجدادنے سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ ذرا سوچیں!
 

Zulfiqar Ali
About the Author: Zulfiqar Ali Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.