پنجاب اسمبلی ڈرامہ حکومت کی پسپائی اور سپیکر کی سبکی

 گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران جو ہوا وہ اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا واقعہ ہے اس اجلاس کو اگر بجٹ ڈرامہ کہا جائے تو بھی خیر ہے کیونکہ اس تاریخی اسمبلی نے وہ وہ کام کردکھائے ہیں جو قیام پاکستان سے لیکر گذشتہ دور تک نہیں ہوئے تھے اور بجٹ سیشن کے دوران تو حد ہی ہو گئی جب اسمبلی سٹاف نے سپیکر کا حکم ماننے سے انکار کردیا جس سے سپیکر چوہدری پرویز الہی کی سبکی ہوئی اور مجبورا چوہدری پرویز الہی نے اپنا حکم واپس لے لیا جبکہ حکومت نے بھی ہٹ دھرمی ختم کرکے پسپائی اختیار کرلی بات کچھ یوں تھی کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے بجٹ سیشن کی صدارت کرتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو اسمبلی میں بلانے کا کہا جس پر حکومت نے لیت و لعل سے کام لیا اور اسی دوران اپوزیشن اراکین کی طرف سے عطاء اﷲ تارڑ کو سٹرینجر آف دی ہاؤس کا لقب دیکر ہاؤس سے نکالنے کا مطالبہ کردیا جس پر سپیکر نے انہیں ایوان سے چلے جانے کا حکم دیا وہ نہ گئے تو سپیکر نے سارجنٹ آف آرمز کو حکم دیا کہ وہ عطاء تارڑ کو ایوان سے باہر نکال دیں مگر تمام سیکیورٹی سٹاف ایک طرف لائن میں لگ کر کھڑا ہوگا اور انہوں نے سپیکر کے حکم پر عمل نہ کیا جس پر کچھ دیر بعد چوہدری پرویز الہی نے غصہ میں انہیں واپس چلے جانے کا کہہ دیا اور وہ سبھی سیکیورٹی کے افراد واپس چلے گئے بعد میں عطاء تارڑ بھی سپیکر کی ضد کے سامنے مجبور ہوکر ایوان سے باہر نکل گئے سپیکر نے وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کو بھی ایوان میں آنے کا کہا تو وہ بھی آگئے جسکے بعد حکومت اور اپوزیشن بنچوں سے تقریریں بھی کی گئی اسی دوران سپیکر نے چیف سیکریٹری اور آئی کی کی ایوان میں طلبی پر روللنگ دیکر اجلاس منگل تک ملتوی کردیا اور کہا کہ جب تک وہ ٹھگ اسمبلی میں نہیں آئیں گے تب تک میں بجٹ تقریر کرنے کی اجازت نہیں دونگا دوسرے دن بھی شروع ہونے والے اجلاس میں حکومت عجیب و غریب حرکتیں کرتی رہی پہلے تو انہوں نے صحافیوں کا پریس گیلری جانے کا راستہ روک دیا اور پھر احتجاجا صحافیوں نے راجہ بشارت، علی حیدر گیلانی، سبطین خان اور مونس الہٰی کو گیٹ پر روک لیا میڈیا نمائندگان سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے علی حیدر گیلانی نے کہا کہ جب تک صحافیوں کو اسمبلی میں جانے کی اجازت نہیں ملے گی ہم ایڈوائزری کمیٹی میں نہیں جائیں گے گذشتہ روز ایوان میں ہونے والی کاروائی کے بعد وزیراعلی حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں مشاورتی اجلاس ہوا جس میں آج بجٹ پیش کرنے کے حوالیسے گفتگو ہوئی اور اپوزیشن کی جانب سے بجٹ روکنے کے امکان پر قانونی ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو آج بھی اسمبلی پیش نہیں کیا جائے گا کیونکہ اپوزیشن چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر انہیں بے عزت کرنا چاہتے ہیں ماڈل ٹاؤن کیس میں یہی کچھ ہوا تھا اب ہم پولیس کا مورال ڈاؤن نہیں ہونے دینگے اس اجلاس میں طے پایا کہ 17 جولائی کو ضمنی الیکشن جیت کر مطلوبہ ایم پی ایز پورے کرکے اسپیکر کو گھر بھیج کر نیا اسپیکر لایا جائے منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں بھی حکومت اس بات پر ڈٹی ہوئی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں چیف سیکریٹری اور آئی جی کو ایوان میں نہیں بلائیں گے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی ایڈوائزری کمیٹی میں مسلم لیگ ن کے ارکان نے اپوزیشن کو یقین دہانی کرائی تھی کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بریفنگ کے لیے بلایا جائے گا لیکن حکومت اپنے وعدے سے مکر گئی صورتحال اس لیے پیچیدہ ہے کہ مقررہ وقت میں اگر بجٹ پاس نہیں ہوتا تو آئندہ مالی سال حکومت کے لئے معاملات چلانا مشکل ہو جائے گا اس سلسلہ میں صوبائی وزیر رانا مشہود نے احاطہ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بڑے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں بتادیا کہ پنجاب اسمبلی میں آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری نے جو کیا وہ عدالت کے حکم پر کیا کیا ہم انہیں عدالتی حکم کی سزا دیں اور اپوزیشن پر جو مقدمات بنائے گئے وہ دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر ہوئی گذشتہ روز اسمبلی اجلاس میں چوہدری پرویز الہی انتہائی خوشگوار موڈ میں تھے اور انکی باتوں سے ایوان کے اندر بیٹھے ہوئے اراکین اور پریس گیلری میں رپورٹنگ کرنے والے صحافی اپنی ہنسی پر قابو نہ رکھ سکے خاص کر انکی وہ باتیں جو پنجابی میں ہوئی اس پر سبھی افراد نے مزے لیے ہماری یہ اسمبلیاں اس لحاظ سے بھی منفرد ہیں کہ یہاں پر بیٹھے ہوئے تقریبا سبھی معزز اراکین کے الٹے نام بھی رکھے ہوئے ہیں سپیکر نے چیف سیکریٹری کو ٹھگ قرار دیا توحکومتی رکن خلیل طاہر سندھو نے اپوزیشن کو مرغی خانہ قرار دیا جس پر ایوان میں ککڑی کے نعرے بھی لگے جبکہ ہماری قومی اسمبلی میں میں بھی کسی کو کرائم منسٹر کا خطاب دیا گیا ہے تو کسی کو یوٹرن خان کہا جاتا ہے ان سب باتوں سے ہٹ کر وفاقی حکومت نے بعض اشیا پر ٹیکسوں میں کمی کرکے اچھا اقدام کیا اسکے ساتھ ساتھ سندھ اسمبلی میں 1713 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا، تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں پانچ فیصد اضافہ سمیت پولیس کانسٹیبل کا گریڈ 5 سے بڑھا کر 7 کرنے کا اعلان کیا گیا اس بجٹ میں سالانہ مجموعی ترقیاتی پروگرام کے لیے 459 ارب، تعلیم کے لیے 326 ارب روپے اور صحت کے لیے 219 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے لیے 174 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں زراعت کی بہتری پر 24 ارب روپے خرچ ہوں گے اور لوکل گورنمنٹ کے لیے 78.59 ارب روپے مختص ہیں سالانہ ترقیاتی بجٹ کے 459 ارب کے حجم میں سے صوبے کی 4158 اسکیموں کے لیے مقامی وسائل سے 332 ارب روپے خرچ ہوں گے جب کہ 91.14 ارب روپے غیر ملکی فنڈز سے حاصل کیے جائیں گے۔ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں 30 ارب روپے خرچ ہوں گے اور وفاق سے پی ایس ڈی پی کی میں میں 6.02 ارب روپے ملیں گے سندھ حکومت نے آب پاشی کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں پانچ ارب روپے مینٹی ننس، 7 کروڑ 70 لاکھ نہروں کی صفائی کے لیے، 15 کروڑ کی گرانٹ سے سندھ ا یری گیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی قائم ہوگی جبکہ پنجاب کا بجٹ اسمبلی میں پیش ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا کی زینت بن چکا ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔(تحریر۔روہیل اکبر03004821200)

 

rohailakbar
About the Author: rohailakbar Read More Articles by rohailakbar: 636 Articles with 330152 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.