کیا آپ ان دو آدمیوں کو جانتے ہیں؟

ایک تصویر میں قبل از تاریخ کے دو انسان اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے ہتھیار لئے کسی جانور کے شکار کے لئے نکلے ہیں ، ایسا آپ کو لگتا ہوگا، لیکن میں ان کو اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ اتنے تگڑے اور ہٹّا کٹّا آدمی بھوک سے مجبور ہو کر پیٹ کا دوزخ بھرنے نہیں نکل رہے بلکہ خوب اچھی طرح پیٹ بھر جانے کے بعد قبیلے کے کمزور لوگوں کا رزق بھی ٹھُوس کر دوسرے قبیلے کی عورت کا شکار کرنے نکلے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے پیٹ کی دوزخ کو اتنا بھر لیا ہے جس کے بعد طبیعت عورت کے شکار کی جانب خواہ مخواہ مائل ہوتی ہے۔آپ سوچیں گے کہ مجھے کیسے ان کی نیت معلوم ہو گئی؟ تو جناب ! یہ میرے آباؤ اجداد ہیں، آپ بھول جائیں لیکن میں تاریخ کی حقیقت کو نہ تو جھٹلا سکتا ہوں اور نہ ہی بھول سکتا ہوں، مجھ سے زیادہ اور کون جانے گا ان کی نیت؟عورت کے ساتھ اپنی جبلّی ضرورت پوری کرنے کے بعدیہ قیلولہ فرمائیں گے۔ اس کے بعداپنی نسل بڑھ جانے کے باعث اپنے قبیلے کی زمین تنگ ہونے کا خیال آتے ہی اُٹھ کھڑے ہونگے اور قریبی کمزور قبیلے کی تیار شدہ جھونپڑی سوئے ہوئے بچوں کے سمیت تہس نہس کرکے اپنی موجودہ زمین میں شامل کرنے کے تمام حسبِ روایت قواعد و ضوابط کی تکمیل کرکے اپنی راجدھانی میں مزید اضافہ کریں گے تاکہ اپنی مسقبل کی نسل کو کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے۔کیڑے مکوڑے ، چرند و پرند تو اتنی تعداد میں شکار کر کے ان کو سُکھا کر زمین کے گڑھے نما تجوریوں میں آج کے دور کے چینی و گندم کے گوداموں کی مانند دفنا چکے ہیں تاکہ مسقبل میں کبھی ان کی نسلوں کو فاقہ کشی کی نوبت درپیش نہ آئے۔چمک دمک والے پتھر اور خوبصورت سیپیاں خود اپنے تاجوں میں اور اپنی کنیزوں کے جسم پر اتنی لاد دی ہیں کہ ان کی اس بیش بہا دولت کا رعب و دبدبہ اپنے قبیلے کے ساتھ دیگر قبائل کو بھی ان کے سامنے سر نہ اٹھانے دے۔
گویا ذرا غور کیجئے کہ ایک ہی حرف "ز" کی تان تین مرتبہ پوری ہونے سے "زن، زر ، زمین" کا وہ فطری صیغہ بن گیا نا، جس کے ارد گرد کائنات کا نظام قائم و دائم ہے۔ لہٰذا دوسری تصویر میں آپ کے جانے پہچانے روس کے صدر" پیوٹن" اور اسرائیل کے وزیر اعظم "نِتن یاہو" اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ تجدیدِ عہد ِ وفا کر کے کون سا ظلم کر رہے ہیں ، ہاں کمزور لوگ انسان کی اس فطرت کو ظلم کہتے ہیں لیکن جب وہ خود اس مقام کا حصول کر لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو دنیا میں امن و انصاف کا بول بالا کرنے آئے ہیں۔ پیوٹن یوکرین میں اور نِتن یاہو غزہ میں یہی کچھ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ہمت ہے تو آپ بھی یہ مقام حاصل کریں، رونے دھونے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو میری کتاب "اپنے اعمال فطرت سے ہم آہنگ کریں" پڑھ کر سو جائیں۔
Syed Musarrat Ali
About the Author: Syed Musarrat Ali Read More Articles by Syed Musarrat Ali: 320 Articles with 245846 views Basically Aeronautical Engineer and retired after 41 years as Senior Instructor Management Training PIA. Presently Consulting Editor Pakistan Times Ma.. View More