پشاور کے صحافی: پیشہ ورانہ بحران، حقیقتیں اور وہ سوال جو اب ٹالے نہیں جا سکتے
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
مسرت اللہ جان
پشاور ہمیشہ سے صحافت کا مضبوط مرکز رہا ہے۔ یہ شہر خیبر پختونخوا کی سیاسی نبض بھی ہے اور سماجی تبدیلیوں کا پہلا گواہ بھی۔ یہاں کے نیوز روم، فیلڈ رپورٹر، کیمرہ مین اور فوٹو جرنلسٹ روزانہ کی بنیاد پر وہ خبریں سامنے لاتے ہیں جو کبھی سیاسی میدانوں کو ہلا دیتی ہیں اور کبھی کسی عام انسان کا درد سامنے رکھتی ہیں۔ لیکن ایک سوال اب خود صحافی برادری کے حلقے میں گونج رہا ہے۔ جو لوگ دوسروں کے مسائل لکھتے ہیں، وہ خود کن مسائل میں گھرے ہوئے ہیں؟ یہی سوال حالیہ تحقیق نے ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
حال میں کئے جانیوالے ایک تحقیق میں پشاور پریس کلب کے 363 صحافیوں کی رائے سامنے آئی۔ یہ تعداد صرف ایک ڈیٹا سیٹ نہیں، بلکہ اس خطے کی صحافت کی اصل تصویر ہے۔ اس تحقیق نے یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ بتا دی کہ اس شہر کی صحافت کے سینے میں کئی برسوں سے دبا ہوا درد ہے۔ پہلی اہم بات یہ سامنے آئی کہ 86 فیصد صحافی بہتر کارکردگی کو براہ راست ملازمت کی پائیداری سے جوڑتے ہیں۔ یہ بات عام فہم ہے۔ جو شخص یہ نہ جانتا ہو کہ اگلے مہینے تنخواہ ملے گی یا نہیں، یا نوکری برقرار رہے گی یا نہیں، وہ کیسے پوری توجہ کے ساتھ ایک حساس خبر پر کام کرے گا؟ صحافت کی بنیاد اعتماد اور ذہنی سکون پر ہوتی ہے۔ جب یہ دونوں نہ ہوں تو نہ خبر مکمل ہوتی ہے اور نہ صحافت زندہ رہتی ہے۔
دوسری حقیقت اس سے بھی زیادہ پریشان کن ہے۔ 89 فیصد صحافیوں کا ماننا ہے کہ ملازمت کا عدم تحفظ نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ آزادی کو کم کرتا ہے بلکہ خبر کی کوالٹی کو بھی متاثر کرتا ہے۔اگر رپورٹر کو پتا ہو کہ ایک طاقتور شخص پر رپورٹنگ کرنے سے اس کی نوکری جا سکتی ہے تو کیا وہ پوری ایمانداری سے کام کر سکے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو پشاور کی صحافت کو ہر روز کھا رہا ہے۔ اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ مرد اور خواتین صحافی ایک جیسے مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشکلیں جنس کے فرق سے نہیں بدل رہیں۔ خبر کی تلاش میں نکلنے والے سب لوگ ایک ہی طرح کی بے یقینی اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہیں۔
لیکن شادی شدہ اور غیر شادی شدہ صحافیوں کی رائے میں نمایاں فرق سامنے آیا۔ شادی شدہ صحافی ملازمت کے عدم تحفظ کو کہیں زیادہ سنجیدہ مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے۔ گھر، بچوں کی تعلیم، بڑوں کی ذمہ داریاں، روزمرہ اخراجات۔جب اتنی ذمہ داریاں ایک شخص کے کندھوں پر ہوں تو نوکری کی غیر یقینی اسے مسلسل ذہنی دباو میں رکھتی ہے۔یہ تصویر صرف فیلڈ کی نہیں۔ نیوز روم کے اندر بھی صورتحال مختلف نہیں کم تنخواہیں، تاخیر سے ادائیگیاں، غیر منظم ڈیوٹی گھنٹے، چھٹیوں کی عدم دستیابی، تربیت کا فقدان اور کبھی کبھار سینئرز کا غیر پیشہ ورانہ رویہ۔ یہ سب مل کر صحافیوں کو اس مقام پر لے جاتے ہیں جہاں وہ خبر تو لکھتے ہیں مگر اپنی زندگی کے مسائل کسی سے نہیں کہہ پاتے۔
پشاور پریس کلب اس ماحول کا سب سے پرانا گواہ ہے۔ 1964 میں ایک چھوٹا سا کمرہ، چند رپورٹر، محدود وسائل۔ آج سینکڑوں صحافی، متنوع میڈیا ہاوسز، جدید کمپیوٹر، مگر مسائل وہی پرانے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان مسائل کی شدت زیادہ ہو چکی ہے۔ پشاور کی صحافت کا بحران صرف تنخواہ یا ملازمت تک محدود نہیں۔ یہ پیشہ خطرات کے معاملے میں بھی دنیا کی مشکل ترین لائنوں میں کھڑا ہے۔ عالمی رپورٹس کئی بار پاکستان کو صحافیوں کے لیے خطرناک ملک قرار دے چکی ہیں۔ قتل، حملے، اغوا، دھمکیاں، دباو، اور کبھی کبھی ادارہ جاتی خاموشی۔ ایک صحافی کو خبر کے پیچھے کیا کچھ جھیلنا پڑتا ہے، یہ صرف اس کے بوٹ سمجھتے ہیں جو روزانہ سڑک پر گھومتے ہیں۔
خواتین صحافیوں کے مسائل صورتحال کو اور واضح کر دیتے ہیں۔ رپورٹنگ کے دوران ہراسگی، سوشل میڈیا پر نشانہ بنائے جانا، گھر والوں کی پریشانی، ٹرانسپورٹ کے مسائل، اور بعض اداروں میں غیر منصفانہ رویے۔ یہ سب انہیں دوہرا دباو دیتے ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی فیلڈ میں موجود ہیں، مائیک ہاتھ میں لیے سوال کرتی ہیں، خبر کی تلاش میں گھومتی ہیں اور ہر رکاوٹ کے باوجود اپنا کام مکمل کرتی ہیں۔
اداروں کی پالیسی سازی میں کمزوری اس صورتحال کو مزید خراب کرتی ہے بہت سے میڈیا اداروں میں تربیت کا کوئی سلسلہ نہیں۔ نئے رپورٹر کو خبر کا وزن سمجھانے والا کوئی نہیں۔ ایک غلط سرخی، ایک غلط جملہ، ایک نامکمل فیکٹ۔ یہ سب رپورٹر کی غلطی نہیں بلکہ اس ماحول کا نتیجہ ہے جس میں وہ تیار ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحافت کو مضبوط بنانے کے لیے صرف جذبہ کافی نہیں۔اداروں کو عملی اقدامات لینے ہوں گے۔ مستقل ملازمت، وقت پر تنخواہیں، تربیتی پروگرام، پروفیشنل ایڈیٹوریل ڈیسک، فیلڈ سیکیورٹی، اور سب سے بڑھ کر صحافتی آزادی کا احترام۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کے بغیر صحافت جمہوریت کا ستون نہیں بن سکتی۔
حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔میڈیا ورکرز پروٹیکشن قوانین ہوں، پریس کلبز کی مضبوطی ہو، یا تربیت کے پروگرام۔ یہ سب اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک انہیں سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔ پشاور کے صحافی آج بھی پوری محنت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ اپنی تنخواہوں، خطرات، دباو¿ اور مسائل کے باوجود عوام تک وہ خبر پہنچا رہے ہیں جو کئی دفعہ جان سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ لیکن اس جذبے کو سہارا چاہیے۔ انہیں اس پیشے میں وہ وقار چاہیے جس کے وہ حقدار ہیں۔وقت آ گیا ہے کہ یہ سوال پوچھا جائے: جو لوگ دوسروں کی آواز بنتے ہیں، ان کی اپنی آواز کب سنی جائے گی؟
#journalist #community #musarratullah #kpk #kp #peshawar #issues
|