*جو وقت کی قدر نہیں کرتے، تاریخ انہیں یاد نہیں رکھتی*




*جو وقت کی قدر نہیں کرتے، تاریخ انہیں یاد نہیں رکھتی*



انجینیر! شاہد صدیق خانزادہ۔

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے "خمار" کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔
یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی "روشنی" کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی وہ نادیدہ لکیر تھی جس نے سلطنتوں کے مقدر بدل دیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں تب نہیں ہارتیں جب ان کے پاس وسائل ختم ہو جائیں، بلکہ تب ہارتیں ہیں جب وہ "وقت" کی قدر کھو بیٹھتی ہیں۔

1. الہامی حکمت اور فطرت کا پکار
اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ النباء میں فرمایا: "اور ہم نے تمہاری نیند کو باعثِ سکون بنایا، اور رات کو پردہ بنایا، اور دن کو معاش (رزق کی تلاش) کے لیے بنایا۔" یہ ایک الہامی ضابطہ ہے جسے ہم نے فراموش کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: "اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔" مغرب نے شاید یہ دعا نہ پڑھی ہو، لیکن انہوں نے اس "قانونِ فطرت" کو اپنا لیا۔ ہم جو برکت کے دعویدار ہیں، ہم نے اسے بستر کی گرمائش میں کھو دیا۔ جب ایک قوم اپنی معیشت کا آغاز اس وقت کرتی ہے جب سورج سر پر آ جائے، تو وہ نہ صرف مادی بلکہ وہ "روحانی نمو" بھی کھو دیتی ہے جو صرف تڑکے جاگنے والوں کا مقدر ہے۔

2. بند شٹر: ایک اجتماعی بے ہوشی
میں نے اس حقیقت کو تلخی کے ساتھ اپنے گرد و پیش میں دیکھا ہے۔ کل ہی کراچی کی کھڈا مارکیٹ میں دن کے بارہ بجے جب سورج اپنی پوری آب و تاب سے رزق بانٹ رہا تھا، وہاں دکانوں پر بھاری تالے لٹک رہے تھے۔ یہی نوحہ لاہور کی انارکلی اور اسلام آباد کے بلیو ایریا کا ہے۔ یہ صرف دکانوں کا بند ہونا نہیں، ایک "اجتماعی سستی" کی علامت ہے۔ جب ایک قوم اپنی توانائی کے سب سے قیمتی گھنٹے نیند میں گزار دے، تو وہ عالمی دوڑ میں کس بنیاد پر شامل ہو سکتی ہے؟ عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں کاروباری اوقات کی یہ بے ترتیبی ہمیں سالانہ اربوں روپے کا معاشی زخم دے رہی ہے۔

3. "گاہک نہیں ہوتا": ایک نفسیاتی مغالطہ
ممکن ہے آپ کہیں کہ "صبح گاہک نہیں ہوتا، اس لیے دکان کھولنے کا کیا فائدہ؟" یہ دراصل ہماری شکست خوردہ نفسیات کا دفاع ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق بتاتی ہے کہ جو معاشرے اپنے اوقات کو Social Synchronization (سماجی ہم آہنگی) کے تحت چلاتے ہیں، ان کی پروڈکٹیوٹی 30 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ مغرب میں دکانیں صبح 9 بجے اس لیے کھلتی ہیں کیونکہ وہاں "لنچ بریک کی معیشت" کا تصور ہے۔

دفتری ملازم اپنے دوپہر کے وقفے میں خریداری کرتا ہے، جس سے معیشت کا پہیہ ہموار چلتا ہے۔
ایک ریسرچ کے مطابق امریکہ کی معیشت کا 15 فیصد کاروبار تولنچبریک میں ہوتا ہے
اور ہمارے ہاں 1 بجے دکان کھلنے کا مطلب ہے کہ ہم نے خریدار کو مجبور کر دیا کہ وہ شام کے تھکا دینے والے ہجوم میں نکلے، جس سے اس کی اپنی ذہنی کارکردگی بھی تباہ ہوتی ہے۔

4. نیوروسائنس: دماغی صلاحیت اور سورج کا رشتہ
جدید نیوروسائنس ہمیں Circadian Rhythm (حیاتیاتی گھڑی) کے بارے میں بتاتی ہے۔ انسانی دماغ صبح 8 سے 12 بجے کے درمیان "کورٹیسول" (Cortisol) کی بدولت سب سے زیادہ متحرک، تخلیقی اور فیصلے لینے میں تیز ہوتا ہے۔
جاپان اور جنوبی کوریا نے اسی اصول پر "مارننگ کلچر" تخلیق کیا۔ اس کے برعکس، ہمارے ہاں رات 12 بجے تک دکان کھلی رکھنا اور دوپہر کو اٹھنا مسلسل Brain Fog (ذہنی دھند) پیدا کرتا ہے۔ جو کام تازہ دماغ کے ساتھ 1 گھنٹے میں ہو سکتا ہے، وہ رات کی تھکن میں 3 گھنٹے لیتا ہے۔ یہ ایک سست خودکشی ہے جو ہماری جی ڈی پی کو سالانہ 2 فیصد نقصان پہنچا رہی ہے۔

5. سوشیالوجی: بکھرتا خاندان اور بے چین نسل
عمرانیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ معاشرے کی بنیاد "خاندان" ہے۔ ہمارا یہ "لیٹ نائٹ کلچر" اس بنیاد کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ جب ایک باپ دوپہر کو کام پر نکلتا ہے اور آدھی رات کو لوٹتا ہے، تو وہ اپنے بچوں کی تربیت اور جذباتی رہنمائی کا وقت کھو دیتا ہے۔
بچے اپنے باپ کے سائے سے محروم ہو کر موبائل اسکرینوں کے حوالے ہو جاتے ہیں۔ یہ طرزِ زندگی معاشرے میں بے چینی اور نفسیاتی مسائل بڑھا رہا ہے۔ ہم جسے "رات کی رونق" کہتے ہیں، وہ دراصل خاندانوں کی خاموش تباہی ہے۔

6. توانائی کا بحران اور اخلاقی ذمہ داری
دنیا بھر میں دکانیں قدرتی روشنی میں کام کرتی ہیں جو کہ اللہ کی دی ہوئی مفت نعمت ہے۔ ہم اس روشنی کو ضائع کر کے رات کو مہنگی بجلی اور جنریٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق، یہ رویہ ماحولیاتی اور معاشی جرم ہے۔ ہم بحیثیت قوم ایک ایسے بحران میں ہیں جہاں ایک ایک یونٹ قیمتی ہے، مگر ہماری ضد فطرت کے خلاف کھڑی ہے۔

آخری بات: بند شٹر یا بند سوچ؟
حقیقت یہ ہے کہ دیر سے دکان کھولنا کوئی "سہولت" نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی بیماری اور زوال کی علامت ہے۔ دنیا ہم سے اس لیے آگے نہیں کہ اس کے پاس وسائل زیادہ تھے، بلکہ اس لیے کہ اس نے "وقت" کو اللہ کی دی ہوئی سب سے بڑی "امانت" سمجھا۔

جس دن ہماری مارکیٹیں صبح نو بجے اللہ کے نام کے ساتھ اور حضور ﷺ کی برکت والی دعا کے سائے میں کھلیں گی، وہ دن ہماری حقیقی معاشی اور فکری آزادی کا دن ہوگا۔ سوال یہ نہیں کہ یہ تبدیلی مشکل ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی مغل شہزادوں کی طرح خوابِ غفلت میں رہنا چاہتے ہیں یا ایک زندہ قوم بن کر ابھرنا چاہتے ہیں؟ کیونکہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، اور جو وقت کی قدر نہیں کرتے، تاریخ انہیں یاد نہیں رکھتی۔

 

انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ
About the Author: انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ Read More Articles by انجینئر! شاہد صدیق خانزادہ: 500 Articles with 342760 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.