مصنوعی ذہانت: ایک جدید بُت یا انسانی جبلت کی آخری فتح؟

مصنوعی ذہانت: ایک جدید ''بُت''
آج کل ہر طرف اے آئی کا پرچار ہے۔ نوجوانوں کے ذہنوں کو اس کے اشتہارات سے قابو کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کے بغیر تم کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ # ڈئیلا ڈاکٹرئن #Algorithm

# ڈئیلا ڈاکٹرئن: #DiellaDoctrine

مصنوعی ذہانت: ایک جدید بُت یا انسانی جبلت کی آخری فتح؟

جدید دور کی ہر ایجاد نے یہ باور کروایا ہے کہ ان تبدیلیوں نے انسانی زندگی بدل دی ہے، اور اس سے انکار ممکن نہیں۔ سفر سے لے کر مواصلات تک، جو کام مہینوں میں ہوتے تھے، مصنوعی ذہانت (AI) نے انہیں سیکنڈوں تک محدود کر دیا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا مشین انسان کی جگہ لے سکتی ہے؟ اسی تناظر میں، میں اپنا فلسفیانہ موازنہ پیش کرتا ہوں۔
1 ٭آدمی'' بمقابلہ ''انسان'' کا فلسفہ
جدید دور کی ہر پیش رفت سے ٭انسان٭ سے لے کر٭آدمی٭ تک ہر ایک نے فائدہ اُٹھایا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ "آدمی" (مجمع) کو قابو کرنے کیلئے انسانی ذہن نے نہ ماضی میں اکتفا کیا، نہ آج کرے گا اور نہ آنے والے کل میں۔ انسان ٭اشرف المخلوقات٭ ہے، جس کے پاس وہ روح اور شعور ہے جو مصنوعی ذہانت کے پاس نہیں۔ جہاں مجمع ٹیکنالوجی کے سحر میں گم ہو جاتا ہے، وہاں ایک "انسان"اسے محض ایک٭ اوزار ٭(ٹولز)کے طور پر دیکھتا ہے۔
یہاں ماضی کو پتھروں کے دور سے بھی لیا جا سکتا ہے؛ جس میں مذہبی و دینی بیداری بھی شامل ہے اور یونانی فلسفے سے لے کر اسلامی اسکالرز کا فلسفہ اور ان کی سائنسی خدمات بھی ناقابلِ فراموش ہیں۔ یہی یونانی و اسلامی فلسفہ آگے جا کر پندرہویں صدی کے بعد یورپ کا سہرا بن گیا اور پھر یورپی فلسفے اور سائنس نے عالمی سطح پر ایک ایسا انقلاب برپا کر دیا، جسکے سبب اُنکے خطے میں مذہب اور سیاست یا فلسفے کو الگ الگ دروازوں کا راستہ دِکھا دیا گیا۔ وہاں سے انجن کی ایجاد اور پنسلین کی دریافت ہوئی اور آج تک بے شمار اشیاء و خدمات ہماری زندگی میں اس طرح سرائیت کر چکی ہیں کہ کسی کی بھی کمی، فردِ واحد یا مجمع کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے یا اسے محرومی کے احساس میں مبتلا کر دیتی ہے۔
2٭مصنوعی ذہانت: ایک جدید ''بُت''
آج کل ہر طرف اے آئی کا پرچار ہے۔ نوجوانوں کے ذہنوں کو اس کے اشتہارات سے قابو کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کے بغیر تم کچھ نہیں۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ مصنوعی ذہانت بھی ایک ٭بُت ٭ ہے جس کو آخرکار ٹوٹنا ہے۔ انسانیت کیلئے بہت سے ایسے کام اور تربیت باقی ہے جو دُنیا کے آغاز سے ضروری تھے اور آج بھی ہیں۔ یہ تربیت سب سے پہلے اخلاقی سبق دیتی ہے، جسے کوئی مشین فراہم نہیں کر سکتی۔
3٭اخلاقی تربیت اور ''اعتبار کی صلاحیت''
آج جب ہم کرپشن کو کنٹرول کرنے کیلئے مصنوعی ذہانت کے وزیر یا# الگورتھم کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، تو کیا یہ اس انسان کے لیے شرم کا باعث نہیں جسے خود اخلاقی طور پر کرپشن نہ کرنے کا سبق سیکھنا تھا؟ معاشرے میں برائی کی جڑ ختم کرنے کیلئے ہمیں اپنی٭ اعتبار کی صلاحیت٭ کو بہتر بنانا ہوگا، نہ کہ مشینوں پر تکیہ کرنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت ایک مشین ہے، اور یاد رکھیں کہ ہر شعبے میں ٭ ٹولز٭ (اوزار) کو صرف انسان کا ذہن ہی استعمال کرنا جانتا ہے۔
3٭حساسِ محرومیت اور سماجی سازش
آج کل اے آئی کے ذریعے 50 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں یہ احساسِ محرومیت پیدا کیا جا رہا ہے کہ وہ جدید دُنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اُنہیں ٭اولڈ ہومز٭ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں انہیں مصنوعی ذہانت کے ساتھ زندہ رہنا سکھایا جائے گا۔ یہ سوچ اس٭مجمع٭ کی ہے جو آدمیوں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے، لیکن ایک بیدار انسان اس نفسیاتی غلامی کو مسترد کرتا ہے۔
3٭تاریخی تسلسل: رائٹ برادرز سے اے آئی تک
٭ میں دُنیا بھر کے اسکالرز کو اس بحث کی دعوت دیتا ہوں ٭: مصنوعی ذہانت ایک بڑی پیش رفت ہے، لیکن کیا یہ٭ رائٹ برادرز ٭کے ہوا میں ٭ جہاز٭ اُڑانے سے بھی بڑی ہے؟ اگر آج اے آئی ایک غیر یقینی پیش رفت ہے، تو اس وقت ہوا میں جہاز اڑانا اس سے کہیں بڑی غیر یقینی بات تھی۔ ایجاد و دریافت ہمیشہ سے اہم رہی ہے، لیکن اسے اپنے سر پر سوار نہ کریں۔ اگر ہم اپنے طلبہ کو ''انسان'' بنا کر انسانیت کے راستے پر کھڑا کر دیں، تو مصنوعی ذہانت(اے آئی)سے آگے کی کائنات بھی ہماری ہوگی۔
میرا موقف: قدرت کے کرشمے ہمیشہ ظاہر ہوتے رہیں گے۔ ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو ایک٭ٹول٭ کے طور پر استعمال کریں، نہ کہ اسے ایک ٭بُت٭بنا لیں۔ اخلاقی اور مذہبی تربیت ہی وہ اصل راستہ ہے جو ہمیں کائنات کی تسخیر کے قابل بنائے گا۔
(مکمل# ڈئیلا ڈاکٹرئن: #DiellaDoctrine کو پڑھنے کیلئے لنک کو کلک کریں اور اس بحث میں شامل ہوں تاکہ اُن پہلوؤں کو سمجھا جا سکے جہاں کیا مستقبل میں انسانی صلاحیتوں پر مصنوعی ذہانت برتری لے جا سکتی ہے؟)۔
https://thedielladoctrine.blogspot.com/2025/10/the-diella-doctrine-when-ai-is-cure-for.html
Arif Jameel
About the Author: Arif Jameel Read More Articles by Arif Jameel: 224 Articles with 405722 views Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More