پاکستانی سیاست: شور، تماشا اور حقیقی جمہوریت کی تلاش طارق محمود مرزا۔ آسٹریلیا [email protected] پاکستان کی سیاست اس وقت ایک ایسے اسٹیج پر کھڑی ہے جہاں کردار بہت ہیں، مکالمہ کم ہے اور تماشا زیادہ۔ روزانہ ٹی وی اسکرینوں پر چیختے چلاتے مباحث، سوشل میڈیا پر الزامات کی بوچھاڑ، اور جلسوں میں گونجتے نعرے—سب کچھ ہے، سوائے اس سوال کے جواب کے کہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری کیوں نہیں آ رہی؟ ایسا لگتا ہے جیسے سیاست ایک مسلسل ہنگامی کیفیت بن چکی ہے، جس میں سوچنے، ٹھہرنے اور فیصلہ کرنے کی مہلت ہی نہیں ملتی۔ ہم نے جمہوریت کو ووٹ ڈالنے کے دن تک محدود کر دیا ہے۔ الیکشن کے بعد عوام محض ایک عدد بن کر رہ جاتے ہیں، اور اقتدار ایوانوں میں بند ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ جمہوریت روح سے خالی ایک ڈھانچا بن جاتی ہے—خوبصورت الفاظ، مگر کھوکھلا عمل۔ پاکستانی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں نظام کے بجائے شخصیات پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ہر دور میں ایک نجات دہندہ تراشا جاتا ہے، اور جب وہ توقعات پر پورا نہیں اترتا تو اگلے مسیحا کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ ادارے کمزور اور افراد طاقتور ہوتے چلے گئے۔ اس کے برعکس اگر ہم آسٹریلیا کو دیکھیں تو وہاں سیاست فردِ واحد کے گرد نہیں، بلکہ اداروں کے گرد گھومتی ہے۔ وزیر اعظم بدل جاتا ہے، مگر قانون، پالیسی اور ریاستی نظم اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ آسٹریلیا میں ایک عام شہری جانتا ہے کہ اس کا نمائندہ اس کے سوالات کا جواب دینے کا پابند ہے۔ وہاں حلقے کے ایم پی کا دفتر عوام کے لیے کھلا ہوتا ہے۔ اگر سڑک خراب ہے، اسکول میں سہولت نہیں یا ہسپتال میں مسئلہ ہے تو شہری براہِ راست اپنے نمائندے سے سوال کرتا ہے۔ یہ سوال کرنا بدتمیزی نہیں بلکہ جمہوری حق سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے سوال کرنے والا اکثر “غدار”، “ناشکرا” یا “مخالف ایجنڈے” کا حصہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ حقیقی جمہوریت کی پہلی شرط قانون کی بالادستی ہے۔ آسٹریلیا میں قانون وزیر اور مشیر میں فرق نہیں کرتا۔ معمولی اخلاقی لغزش پر بھی وزرا استعفیٰ دے دیتے ہیں، کیونکہ وہاں اقتدار کو امانت سمجھا جاتا ہے، حق نہیں۔ پاکستان میں معاملہ اس کے برعکس ہے؛ یہاں استعفیٰ دینا شکست تصور ہوتا ہے، اور اقتدار چھوڑنا گویا جرم بن چکا ہے۔ یہی سوچ جمہوریت کو کمزور کرتی ہے۔ حقیقی جمہوریت کی دوسری بڑی خصوصیت شفافیت ہے۔ آسٹریلیا میں حکومتی اخراجات، پالیسی فیصلے اور پارلیمانی کارروائیاں عوام کی دسترس میں ہوتی ہیں۔ میڈیا سوال پوچھتا ہے اور حکومت جواب دیتی ہے۔ پاکستان میں شفافیت کے بجائے وضاحتیں، تاویلیں اور الزامات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ فائلیں بند کمروں میں گردش کرتی ہیں، اور عوام اندھیرے میں رہتے ہیں۔ جمہوریت کا تیسرا ستون باشعور عوام ہیں۔ آسٹریلیا میں شہری سیاست کو محض جذبات کا کھیل نہیں سمجھتے۔ وہ منشور پڑھتے ہیں، پالیسیوں کا موازنہ کرتے ہیں اور کارکردگی کو ووٹ سے جوڑتے ہیں۔ وہاں الیکشن میں شرکت کو شہری ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، اس حد تک کہ ووٹ نہ ڈالنے پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ووٹ ڈالنا اکثر ایک رسم بن کر رہ گیا ہے—یا پھر مایوسی کے باعث لوگ اس سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ سیاست دانوں کی ذمہ داری کیا ہے؟ سیاست دان کا کام صرف تقریر کرنا، الزام لگانا یا مخالف کو گرانا نہیں۔ اس کی اصل ذمہ داری عوام کی زندگی آسان بنانا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف—یہ وہ بنیادی شعبے ہیں جن پر سیاست دانوں کی کارکردگی ناپی جانی چاہیے۔ آسٹریلیا میں اگر کوئی حکومت ان شعبوں میں ناکام ہو جائے تو عوام اگلے الیکشن میں واضح فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ پاکستان میں مگر ناکامی کے باوجود بیانیہ بدل دیا جاتا ہے، اور قصور کسی اور کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ عوام کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ایک قوم جو صرف نعروں پر تالیاں بجائے، وہ بہتر مستقبل کی امید نہیں رکھ سکتی۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ووٹ ایک امانت ہے، تعلقات، برادری یا وقتی جذبات کی نذر کرنے کی چیز نہیں۔ سوال پوچھنا، معلومات حاصل کرنا، اور آئین کو جاننا—یہ سب ایک ذمہ دار شہری کی علامات ہیں۔ آسٹریلیا میں بچے اسکول سے ہی شہری ذمہ داریوں کا سبق سیکھتے ہیں، اسی لیے وہاں جمہوریت محض کتابی تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔ پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت سیاسی بلوغت کی ہے—سیاست دانوں میں بھی اور عوام میں بھی۔ جب سیاست دان اقتدار کو خدمت سمجھیں گے، اور عوام اپنی طاقت پہچانیں گے، تبھی تبدیلی آئے گی۔ سوشل میڈیا کے شور میں سچ کو تلاش کرنا، جذبات کے بجائے دلیل کو ترجیح دینا، اور اختلاف کو دشمنی نہ سمجھنا—یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ہنگاموں سے نکال کر استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ آخر میں یہ ماننا ہوگا کہ جمہوریت کوئی جادو کی چھڑی نہیں، جو ایک رات میں سب کچھ بدل دے۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے—سوال، جواب، احتساب اور اصلاح کی جدوجہد۔ آسٹریلیا کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مضبوط جمہوریت مضبوط اداروں، باخبر عوام اور ذمہ دار قیادت سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم واقعی پاکستان کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں شور کی سیاست سے نکل کر شعور کی سیاست کی طرف بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ جمہوریت صرف حکمرانوں کا امتحان نہیں، قوموں کا بھی امتحان ہوتی ہے۔ ________________________________________
|