عظمت گزیدہ اساتذہ
(Noor Muhammad Khan, Loralai)
عظمت گزیدہ استاد تحریر: نورمحمد افغان ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان مبارک ہے کہ (انمابعثت معلما) مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ پیغمبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک نے اساتذہ کو تاقیامت مسند توقیر پر فائز کر دیا ہے اور انہیں روحانی باپ کی جگہ دی ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں تمہارے لئے والد کی جگہ پر ہوں کیونکہ میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول تو بہت ہی مشہور ہے کہ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا وہ میرا آقا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب کسی کی معاشرتی حیثیت و مقام اور اہمیت کو بتانا ہوتا تو اسے آقا پکارا جاتا لیکن آج اگر دیکھا جائے تو اکیسویں صدی کے یہ روحانی باپ اور آقا غلاموں کی سی کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں۔پیشہ پیغمبری سے وابستہ ان عظیم ہستیوں کی بابت شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے؛ استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے الفاظ و معانی کا کھیل ایک ایسا گجنلک کھیل ہے کہ اگر اس میں سیاق و سباق کو مدنظر نہ رکھا جائے تو قارئین کا بھول بھلیوں میں کھو جانے کا سو فیصد امکان ہوتا ہے۔ نہیں پتہ کہ کس زمان و مکان میں شاعر کے لاشعور نے استاد کو انمول گردانا ہے۔ جہاں تلک استاد کی عظمت کی بات ہے تو بے شک اسے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ استاد کی بھوک کو اور استاد کی غربت کو بھی ترازو میں نہ تولا جائے؟ کیا ان کی ضرورتیں بھی یہ اہلیت رکھتی ہیں کہ انہیں ترازو میں نہ تولا جاسکے؟ کیا انمول یوں ہوتے ہیں کہ محنت تو کی جائے لیکن اجرت کی کوئی امید نہ رکھی جائے؟ کیا استاد کے بھوکے بچوں کو اس بات پہ چپ کرایا جا سکتا ہے کہ آستاد عظیم ہوتے ہیں؟ کیا یہ ایک بے رحم معاشرتی سچائی نہیں بن گئی ہے کہ استاد معنوی لحاظ سے اگر عظیم ہے تو وہیں پر لاچار اور غریب بھی ہے؟ قوموں کو بنانے میں اگر استاد کے کردار کی نفی نہیں کی جاسکتی تو وہیں خود کو بار بار قربان کرنے، اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا گلہ گھونٹنے میں بھی وہ ثانی نہیں رکھتے۔ استاد عظیم ہوتے ہیں شاید اسی لئے بے بس بھی ہوتے ہیں۔ وہ عظمت اور ضرورت کے بیچ ایک ایسی غیرمتوازن زندگی جی رہے ہیں کہ اگر عظمت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تو ضرورتوں کا گلہ گھونٹنا لازمی یو جاتا ہے اور اگر ضرورت کو پورا کرنا ہوتا ہے تو عظمت پر حرف آئے۔ ہمارے زمان و مکان میں عظمت شاید بے بسی کا دوسرا نام ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ (سر) کہلانے والے یہ عظیم لوگ اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مر رہے ہیں۔ ان کے گھاؤ ایسے گھاؤ ہوتے ہیں جنہیں وقت بھرنے کی بجائے مزید گہرا کر رہے ہوتے ہیں اور اگر بھر بھی رہے ہوں تو نمک سے۔ وہ استحصال اور مظلومیت کی زندہ مثال ہوتے ہیں۔ معاشرتی اقدار کے امین و نگہبان استاد اپنی محنت سے بیگانہ ہو چکے ہوتے ہیں حالانکہ بقول اقبال ۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے ذمے ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ لیکن ہمارے ہاں یہ سب سے مشکل اور بیش قیمت کام ہی سب سے ارزاں قیمت پر کروایا جا رہا ہے۔ قومی ترقی کا یہ ضامن طبقہ مجبوریوں کے گھٹاٹھوپ اندھیرے تلے زندگی کے دن گن رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم ایک ایسا شعبہ بن چکا ہے جس میں تعلیمی اداروں کے سربراہ(خصوصاً پرائیویٹ ادارے) امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن انہیں اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ کے لیے سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مہینے بھر کے تھکے ہارے کے لیے دس پندرہ ہزار اجرت تسلی سے بھی کم ہوتی ہے۔ معاشرے میں ایک باعزت مقام اور حلال کی روزی، جو کہ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے، کے لیے اس دلدل میں استاد پھنستے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے جب وہ خود کو بھی کھو چکے ہوتے ہیں، اپنے مقام اور اپنی روزی کو بھی کھو چکے ہوتے ہیں، بہ اصطلاح وہ اپنی عمر کی بالائی حد کو کراس کر چکے ہوتے ہیں اور اب وہ ریاست کو اپنی خدمات دینے کے اہل نہیں ہوتے ہیں۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل ہماری یونیورسٹیوں میں مالی بحران کا تو سبھی سنتے آ رہے ہیں لیکن ہماری یونیورسٹیوں میں استحصال اور حق تلفی کی جو روش چل رہی ہے شاید اس سے بہت کم لوگ آگاہ ہوں۔ دنیا بھر کی طرح ہماری یونیورسٹیوں میں بھی وزٹنگ ٹیچر طلب کئے جاتے ہیں۔ وزٹنگ ٹیچر کسی ایک مضمون کے لئے طلب کیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک ایسا مضمون ہو جو صرف ایک ہی سمسٹر میں اور صرف ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں ہو تو وہاں یونیورسٹیاں اس ایک مضمون کے لئے جو چار سال کے عرصے میں صرف ایک ہی بار پڑھایا جاتا ہو مستقل استاد نہیں رکھتے بلکہ جب بھی اس مضمون کو پڑھانا درکار ہوتا ہے کہیں اور سے ماہر مضمون کو بلایا جاتا ہے اور اسے معاوضہ دے کر رخصت کردیا جاتا ہے۔ ملک کے گنجان آباد علاقوں لاہور اور اسلام آباد وغیرہ میں ایک بندہ کئی جگہ وزٹنگ پہ کلاسیز لے رہا ہوتا ہے، ایک تو وہاں ادارے بہت ہیں اور دوسرا وہاں ایک سے بڑھ کر ایک کوالیفائیڈ بندے بھی موجود ہوتے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں اگر کسی ادارے کو کسی وزٹنگ کی ضرورت ہو بھی تو اول تو کوئی تیار نہیں ہوتا پھر بھی اگر کوئی آنے کے لئے تیار ہوتا ہے تو ادارے کی طرف سے بڑے پیکج کی وجہ سے آتا ہے۔ اب تصویر کے دوسرے اور انتہائی خوفناک رخ کی طرف آتے ہیں۔ وزٹنگ جہاں ادارے اور انڈویجول کے لئے آسانی ہوتی تھی اب استحصال کا ایک ٹول بن گیا ہے۔ اب جہاں مستقل استاد کی ضرورت ہوتی ہے وہاں بھی بے روزگاروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر وزٹنگ پر انہیں رکھا جاتا ہے۔ بے روزگار مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق حالات سے مجبور ہو کر فل ٹائم ٹیچر کی طرح وزٹنگ پر ڈیوٹی دے رہا ہوتا ہے اور خود کو ایک نہ ایک دن مستقل ہوجانے کی طفل تسلی دے رہا ہوتا ہے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں ہارڈ ایریا الاونس دینے کا حق ہوتا ہے وہاں بھی ایک استاد کو عظمت اور عزت کا جھانسا دے کر اور ایک نہ ایک دن مستقل ہوجانے کا لالچ دے کر سالوں تک وزٹنگ پر رکھا جاتا ہے۔ ہوتا وہ بھی ایک مستقل ملازم کی طرح ہی ہے، چار چار مضامین پڑھا رہا ہوتا ہے، نو سے پانچ تک ڈیوٹی دے رہا ہوتا ہے، فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ مستقل ملازم تنخوا لے رہا ہوتا ہے اور وزٹنگ والے سال بھر میں دو بل جو کہ کیش ہونے سے پہلے ہی ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ اور دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے وزٹنگ ٹیچر سیکنڈ ٹائم والا کوئی اور کام بھی نہیں کر پاتا۔ ہوتا یوں ہے کہ سالوں گزر جاتے ہیں، لیکن نہ ہی کوئی مستقلی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی اور حل نکل پاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بلوچستان کی یونیورسٹیوں کا پچاس فیصد کام وزٹنگ پر لوگ انجام دے رہے ہیں۔ راقم الحروف لورلائی یونیورسٹی میں عرصہ چار سال سے وزٹنگ پر پڑھا رہا ہے، یہاں صورت حال یہ ہے کہ سال بھر کے بعد جو بل بنتا ہے وہ بھی روم رینٹ، میس اور کرایوں میں نکل جاتا ہے اور گھر والوں کے حصے میں (الله دیکھ رہا ہے، وہ ہمارے بھی دن پھیر دے گا) کے سوا کچھ نہیں آتا۔ مجھے نہیں پتہ کہ استاد کی عظمت کو ترازو میں تولنا چاہیے یا استاد کی ضرورتوں کو ترازو میں تولنا چاہیے۔ عرصہ پندرہ سال پرائیویٹ اداروں اور یونیورسٹی میں پڑھانے کے بعد میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ہمارے ملک میں اگر کوئی طبقہ کمزور ہے، اگر کوئی اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے قاصر ہے، اگر کوئی طبقہ اپنی موت دیکھ رہا ہے پھر بھی کچھ کرنے سے قاصر ہے تو وہ طبقہ وزٹنگ پر اور پرائیویٹ اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ ہیں۔ بقول اصغر گونڈوی مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں پتہ نہیں وہ کیسے معاشرے ہوتے ہیں جہاں استاد بنیادی ضروریات کے محتاج نہیں ہوتے۔ سنا ہے کہ دنیا میں ایسے بھی ممالک ہوتے ہیں کہ جب عدالت میں کوئی استاد آتا ہے تو احتراماً موجود سبھی لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں صورتحال تھوڑے سے فرق کے ساتھ یوں ہی ہے۔ یہاں زندگی کمرہ عدالت کی طرح ہوتی ہے جہاں ہر لمحہ سزا پانے کا دھڑکہ لگا رہتا ہے اور اگر کمرہ عدالت میں موجود لوگ، جنہیں یہاں ہم ضروریات زندگی سے تشبیہ دے سکتے ہیں، جان جائے کہ کٹہرے میں استاد کھڑا ہے تو کاٹ کھانے کے لئے سب کھڑے ہو جاتے ہیں۔ استاد بیچارے عظمت اور ضرورت کی چکی کے دو پاٹوں میں پس رہے ہوتے ہیں، نہ ہی نظام کو ان پر رحم آتا ہے اور نہ ہی تقدیر کوئی معجزہ دکھاتا ہے۔ یہ عظمت گزیدہ لوگ افراد سازی کرتے کرتے خود ختم ہو رہے ہیں۔ |