لڑکیاں گھر بیٹھے لاکھوں کما رہی ہیں 7 سب سے زیادہ چلنے والے کاروبار

دانش رحمان
لاہور – پاکستانی لڑکیاں گھر بیٹھے وہ خواب پورے کر رہی ہیں جو کبھی ناممکن لگتے تھے۔ مہنگائی، نوکریوں کی کمی اور سماجی پابندیوں کے باوجود ہزاروں خواتین اب اپنا کاروبار چلا رہی ہیں اور ماہانہ 50 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک کما رہی ہیں۔
میرے ایک دوست کی بہن صبا نے صرف انسٹاگرام پر ہینڈ میڈ کپڑوں کی دکان کھول کر 8 ماہ میں 3 لاکھ ماہانہ کا کاروبار کر لیا۔ کراچی کی حنا بیوٹی پارلر کی تربیت گھر بیٹھے یوٹیوب سے لی اور فیس بک پر "حنا بیوٹی زون" بنا کر دولہن میک اپ کی بکنگ لینے لگیں۔ اب ان کی ماہانہ آمدنی 1.8 لاکھ ہے۔
تو 2025 میں لڑکیاں گھر بیٹھے کن کاروباروں سے سب سے زیادہ کما رہی ہیں؟
انسٹاگرام/ٹک ٹاک شاپنگ
لاہور کی 22 سالہ فاطمہ نے "فاطمہ بوتیک" نامی پیج بنایا۔ اب وہ روزانہ 15-20 آرڈرز لیتی ہیں۔ سرمایہ صرف 30 ہزار روپے، منافع 70 فیصد
ڈائٹ فوڈ کھانوں کی ہوم ڈلیوری
فیصل آباد کی ثمرین نے "ثمرینز کچن" شروع کیا۔ روزانہ 40-50 آرڈرز اوٹس، سالن اور ڈائٹ پلان کے۔ ماہانہ منافع 1.2 لاکھ سے 2 لاکھ
آن لائن بیوٹی پارلر سروسز
ملتان کی رابعہ گھر بیٹھے دولہن میک اپ، پارٹی میک اپ اور مہندی لگاتی ہیں۔ فیس بک اور واٹس ایپ گروپس سے کلائنٹ مل جاتے ہیں۔ ماہانہ 80 ہزار سے 1.5 لاکھ
ہینڈ میڈ کری ایشنز جیولری، کڑھائی، پینٹنگ
سیالکوٹ کی عروبہ نے "عروبہ کری ایشنز" نامی پیج بنایا۔ اب وہ سعودی عرب، دبئی اور برطانیہ کو بھی آرڈرز بھیجتی ہیں
آن لائن ٹیوشن اور کورسز
راولپنڈی کی مہوش نے انگلش اور کمپیوٹر کورسز آن لائن پڑھانا شروع کیے۔ ایک گھنٹہ 1000 روپے ماہانہ 1 لاکھ سے زائد
ڈیجیٹل مارکیٹنگ/فری لانسنگ
اسلام آباد کی صبا فری لانسنگ کرتی ہیں Upwork اور Fiverr سے گرافکس، کنٹینٹ رائٹنگ اور سوشل میڈیا مینجمنٹ کے پراجیکٹس لیتی ہیں۔ ماہانہ 2 سے 4 لاکھ
ری سیلنگ کاروبار دراز، فیس بک مارکیٹ پلیس
گوجرانوالہ کی حدیقہ دراز پر سیلر بنیں۔ گھر بیٹھے کپڑے، جوتے، کاسمیٹکس بیچتی ہیں۔ ماہانہ 70 ہزار سے 2 لاکھ تک خالص منافع
ماں، بہن، بیٹی – اب ہر کوئی گھر بیٹھے اپنا کاروبار چلا سکتی ہے۔ بس دل میں عزم ہو، فون میں انٹرنیٹ ہو اور ہمت ہو کہ "میں بھی کر سکتی ہوں"۔
آج سے شروع کریں کل آپ بھی کسی کی رول ماڈل ہوں گی 
Danish Rehman
About the Author: Danish Rehman Read More Articles by Danish Rehman: 143 Articles with 59296 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.