سائنسدانوں نے مونا لیزا کی مسکراہٹ کا رازمعلوم کرلیا

(Source: Voice Of America)
دنیا کی مشہورترین پینٹنگ مونالیزا کی پراسرار مسکراہٹ کو سمجھنے کے لیے لوگوں نے صدیوں سےطرح طرح کی تاویلیں تراشی ہیں۔ لیکن اب مونالیزا کے سائنسی مشاہدے کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مونا لیزا نے حال ہی میں ایک بچےکو جنم دیا تھا اور اس کے ہونٹوں پر کھیلنے والا تبسم دراصل ایک نئی نویلی ماں کی تھکاوٹ اور سرشاری کے ملے جلے جذبات سے معمور مسکراہٹ ہے۔

پیرس کے لوور عجائب گھرمیں مصوری کے اس شاہکارکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں لوگ آتے ہیں۔ لیکن وہ صرف ایک جھلک ہی دیکھ پاتے ہیں کیونکہ مونالیزا کو دبیز بلٹ پروف شیشے کی موٹی دیوار کےپار دس فٹ دورہی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ادوار میں اسے محفوظ رکھنے کی خاطر اس کے اوپر وارنش کی کئی سطحیں جمائی گئی ہیں جن سے اصل تصویر مزید دب کر رہ گئی ہے۔ مزید برآں، وقت کے عمل سے اس کے رنگ بھی ماند پڑچکے ہیں

۔مونالیزا کے اسرار سے پردہ ہٹانے کے لیے کینیڈاکےقومی تحقیقاتی ادارے این آر سی اور فرانس کے سائنسدانوں نے جدید ترین آلات استعمال کرکے تصویر کی ساخت،مصوری کی تکنیک، عمررسیدگی اور رنگوں اور وارنش کی تہوں کا بغور جائزہ لیا ۔ تصویر کے ایکس رے اور تھری ڈی سکین کے مشاہدے سے معلوم ہواکہ مونالیزا نے دوپٹے کے علاوہ ایک قسم کی ٹوپی بھی پہنی ہوئی تھی جسے اس زمانے میں نئی ماں بننے والی خواتین پہنا کرتی تھیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس شفاف ٹوپی کے رنگ معدوم ہوتے چلے گئے اور اب یہ نظر نہیں آتی۔

تاریخ دانوں نے معلوم کیا ہے کہ مونالیزا نے ایک لڑکے کو جنم دیا تھا۔ اس سے پہلے مونالیزا کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا پیدائش کے کچھ عرصے بعد مرگئے تھے۔
مونالیزا کے مجموعی تاثر میں اس کے ہاتھوں کی مخصوص نشست کا بڑا عمل دخل ہے۔ لیکن اس تحقیق کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ لیونارڈو نے مونالیزاکے ایک ہاتھ کو شروع میں مختلف طریقے سے پینٹ کیا تھا۔ جیسے وہ اٹھنے کے لیے کرسی کے پائے کا سہارا لینا چاہتی ہے۔ لیکن بعدمیں لیونارڈو نے اس ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر لپٹا ہوا دکھادیا جس سے سکون اور اطمینان کا اظہار ہوتا ہے۔

لیونارڈو نے یہ پینٹنگ ایک ایسے طریقہٴ کار سے بنائی تھی جسے ’سفاموتو‘ کہا جاتاہے۔ اس نے پینٹنگ بناتےوقت رنگ، تیل اور وارنش کا استعمال اتنی فنکاری سے کیا ہے کہ سائنسدانوں کو کہیں بھی برش کے نشانات نظر نہیں آئے۔

اس مخصوص تکنیک کے ہنر مندانہ استعمال سے مونا لیزا پر ایک دھند آلود اور خوابناک سی فضاچھائی ہوئی نظر آتی ہے۔
کیا ان انکشافات سے مونالیزا پر چھائے تحیر کی تہہ کم ہوجائے گی؟ شاید ایسا نہ ہو،کیوں کہ لیونارڈو کے تخلیقی عمل تک رسائی کسی بھی سائنسی ایجاد کی مددسے نہیں ہو سکتی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس تحقیق سے دنیا کی محبوب تصویر کے بعض چھپے گوشے منظرِ عام پر آگئے ہیں۔

سائنسدانوں نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ مونا لیزاپینٹنگ مجموعی طور پر بہت اچھی حالت میں ہے۔ انہیں رنگوں کے اکھڑنے یا جس لکڑی کے تختے پر مونالیزا کو پینٹ کیا گیا ہے، اس کے خراب ہونے کے کوئی آثار نظرنہیں آئے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
02 Dec, 2007 Views: 15076

Comments

آپ کی رائے
nice
By: Farheen Naz Tariq, Chakwal on Jun, 25 2016
Reply Reply
0 Like
nice
By: jahan zaib, karachi on May, 05 2012
Reply Reply
0 Like
I am totally agree with Kashif iqbal.......
mujhy lagta hy k is ki muskarahat ye zahir karti hy.... k zindgi ki tamam mushkilen us ki jism per to asar andaz ho sakti hein mgar us ki roh bohat taqatwar hai jis per kisi gham ka koi asar nahi hota.....
or uski muskrahat ghamon ki be basi aur fatah ki nishani hay.......................
By: Rana Ahmad Faisal Ayaz, Hafizabad on Feb, 05 2011
Reply Reply
0 Like
humen nahen lagta k in logon ne kuch mona liza k baare men sahee andesha kiya hai kyoun k is painter ne ye zaahir kiya hai k mera is dunhya men aana darasal aesi hee muskurahat hai jo k men khud bhi nahen samajh saka k men is dunya men aaya kyoun hon bas ab ye gubt muskurahat bikher k ja raha hon ye jeewan ik raaz hai isi raaz ko zahir karne kee koshish kee hai mona liza ne.
By: kashif iqbal, larkana on Feb, 01 2010
Reply Reply
0 Like