خاموش قیدی

ہنسنے والوں سے کہو، ذرا آہستہ ہنسا کریں۔ یہاں کوئی شخص اپنی ٹوٹی ہوئی سانسوں کو سنبھال کر بیٹھا ہے، جیسے کچے دھاگے سے زندگی کو باندھ رکھا ہو۔ تمہیں میری خاموشی شاید کمزوری لگتی ہو، مگر تم نہیں جانتے، میں نے خود کو بہت مشکلوں سے قابو میں رکھا ہے۔ میں رو سکتا تھا، چیخ سکتا تھا، سب کچھ توڑ سکتا تھا، مگر میں نے نہیں کیا۔ کیوں؟ کیونکہ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو بولنے سے نہیں، چھپنے سے بچ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ یہ دیواریں توڑ دوں، اپنے ہی قید خانے سے نکل کر کسی کے سامنے بیٹھ جاؤں اور کہہ دوں، ”میں ٹھیک نہیں ہوں۔“ مگر پھر دل کہتا ہے، کس سے کہو گے؟ سب کے پاس اپنی اپنی تھکن ہے، اپنی اپنی ادھوری کہانیاں ہیں۔ کوئی کسی کے درد کا بوجھ اٹھانے نہیں آتا۔ اس لیے میں پھر خاموشی کا چادر اوڑھ لیتا ہوں، جیسے یہی میری واحد پناہ ہو۔ رات کے سناٹے میں جب سب سو جاتے ہیں، میں خود سے لڑتا ہوں۔ اپنی سانسوں سے، اپنی دھڑکنوں سے، اپنے ہی وجود سے۔ کبھی سوچتا ہوں، یہ جو اندر اتنی آگ ہے، اگر باہر نکل آئے تو شاید سارا جہاں جلا دے۔ اس لیے میں خاموش ہوں، کہ میری خاموشی ہی سب کی حفاظت ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ میں بدل گیا ہوں۔ ہاں، میں بدل گیا ہوں۔ اب میں وہ نہیں جو ہر بات پر مسکرا دے، جو ہر دکھ کو ہنسی میں اڑا دے۔ اب میں وہ ہوں جو اپنی آنکھوں کے پیچھے درد کو قید رکھتا ہے۔ دل چاہتا ہے سب کچھ کہہ دوں، مگر زبان رک جاتی ہے، کیونکہ جب بھی سچ بولا، تم مسکرا دیے۔ اور وہ مسکراہٹ، تیر سے بھی گہری لگی۔ میں نے خود کو سنبھالا ہے، مگر اس سنبھالنے میں بھی ایک ٹوٹ پھوٹ ہے۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے سب ختم کر دوں، سب کہہ دوں، مگر پھر یاد آتا ہے کہ دنیا کو صرف کہانیاں چاہییں، سچ نہیں۔ لوگ درد نہیں سنتے، بس اس سے لطف لیتے ہیں۔ اس لیے میں نے اپنے زخموں کو چھپا لیا، جیسے کوئی گناہ ہو، جیسے کوئی راز ہو۔
میری بے بسی پر ہنسنا آسان ہے، مگر میری جگہ ایک دن تم بھی آؤ، تو سمجھو گے کہ خاموش رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ میں نے خود کو قید میں رکھا ہے، ہاں، مگر یہ قید سزا نہیں، یہ تحفظ ہے۔ اس میں رہ کر میں خود سے لڑتا ہوں، خود کو سمجھاتا ہوں، اور کبھی کبھی خود کو ملامت بھی کرتا ہوں۔ یہ دیواریں میری پناہ ہیں، کیونکہ جب باہر گیا، سب نے میرا حال دیکھا، مگر کسی نے میرا دل نہیں دیکھا۔ تم ہنس لو جتنا ہنسنا ہے، مگر کبھی فرصت میں سوچنا، کوئی شخص کیوں خود کو اس طرح قید کر لیتا ہے؟ کیوں وہ اپنی باتیں ہوا کے سپرد نہیں کرتا، کیوں وہ ہر آنسو کو پلکوں پر روکے رکھتا ہے؟ تم سمجھ نہیں سکتے، کیونکہ تم نے کبھی وہ درد محسوس ہی نہیں کیا جو لفظوں میں نہیں سما پاتا۔ میں نے اپنے دکھوں کو نام نہیں دیا، بس دل کے کسی کونے میں بند کر دیا۔ شاید اسی لیے زندہ ہوں، مگر مکمل نہیں۔
لوگ ترس کھاتے ہیں، مگر ترس میں وہ زہر ہوتا ہے جو انسان کی بقیہ ہمت بھی چوس لیتا ہے۔ میں نے اس ترس سے بھی پناہ مانگی ہے۔ مجھے تمہارا افسوس نہیں چاہیے، بس اتنا چاہتا ہوں کہ جب میں خاموش رہوں، تو کوئی میرے سکوت کو کمزوری نہ سمجھے۔ کاش تم جانتے کہ میں نے خود کو قید کیوں رکھا ہے۔ یہ دیواریں صرف قید نہیں، میرا سہارا ہیں۔ اگر یہ دیواریں نہ ہوتیں، تو میں کب کا بکھر گیا ہوتا۔ میں نے خود کو ان زنجیروں میں باندھ رکھا ہے تاکہ میں باقی دنیا کے سامنے سلامت دکھائی دوں، چاہے اندر سے راکھ ہو چکا ہوں۔
تم نہیں جانتے، ایک شخص کے اندر کتنا شور ہوتا ہے جب وہ باہر سے چپ ہو۔ میری ہر خاموشی کے پیچھے ایک چیخ چھپی ہے، ہر ٹھہراؤ کے پیچھے ایک طوفان۔ مگر میں نے ان طوفانوں کو خود میں قید کر رکھا ہے، تاکہ دنیا سکون سے سو سکے۔ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے میں اپنے وجود کے کسی ویران کمرے میں بھٹک رہا ہوں۔ ایک کمرہ، جہاں دیواریں سُن ہیں، جہاں دروازے کھلتے تو ہیں مگر کہیں نہیں جاتے۔ میں ان دیواروں سے بات کرتا ہوں، ان خاموش دروازوں سے اپنے دل کا بوجھ بانٹتا ہوں۔ مگر وہ بھی اب جواب نہیں دیتے۔ شاید وہ بھی میری طرح تھک چکے ہیں، تھک چکے ہیں اس درد کو سن کر جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
میرا حالِ زار دیکھ کر اگر تمہیں ہنسی آتی ہے تو ہنس لو، مگر یاد رکھنا، میں وہ ہوں جو اپنی وحشتوں کو قابو میں رکھے بیٹھا ہے۔ میں نے خود کو سنبھالا ہے، بڑی مشکلوں سے، صرف اس لیے کہ میرا ٹوٹنا کسی کے تماشے میں نہ بدلے۔ میں قیدی ضرور ہوں، مگر اپنے اختیار سے۔ کیونکہ اگر میں آزاد ہو گیا، تو شاید دنیا کے سارے سکون لرز جائیں۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے، شاید یہ قید بھی میرا امتحان ہے، صبر کا، ضبط کا، اور شاید محبت کا بھی۔ میں نے اپنی تکلیفوں کو خدا کے سپرد کر دیا ہے۔ کیونکہ اب کسی انسان سے کوئی امید باقی نہیں رہی۔ میں قیدی ہوں، مگر یہ قید میری کمزوری نہیں، میری بقا ہے۔ اور اگر کسی دن میری یہ خاموشی ٹوٹ گئی، تو شاید تمہیں اندازہ ہو کہ میں کب سے چیخ رہا تھا، بس آواز نہیں نکلی تھی۔
میں اب قید میں نہیں رہنا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے دکھوں کو الفاظ میں بدل دوں، تاکہ کوئی اور جو اسی اندھیرے میں بھٹک رہا ہو، اسے امید کی ایک کرن مل جائے۔ کیونکہ آخرکار، میری تحریر صرف میری نہیں رہی، یہ ہر اس دل کی آواز ہے جو چپ رہ کر رویا، ہر اس آنکھ کی روشنی ہے جو اداسی میں بجھ گئی، اور ہر اس انسان کا دل ہے جس نے خود کو سنبھال کر رکھا، بڑی مشکلوں سے۔

 

Shayan Alam
About the Author: Shayan Alam Read More Articles by Shayan Alam: 68 Articles with 45842 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.