پاکستان کا اناسیواں یومِ آزادی-اقبالؒ کے خواب سے قائداعظمؒ کی تعبیر تک: عہدِ نو کا قومی منشور ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا

پاکستان کا اناسیواں یومِ آزادی-اقبالؒ کے خواب سے قائداعظمؒ کی تعبیر تک: عہدِ نو کا قومی منشور
ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا
’’قومیں صرف سرحدوں سے نہیں، بلکہ نظریات، کردار اور مشترکہ مقاصد سے زندہ رہتی ہیں۔‘‘
پاکستان کا اناسیواں یومِ آزادی ہمارے لیے محض ایک قومی تہوار نہیں بلکہ تاریخ کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے، حال کا محاسبہ کرنے اور مستقبل کا رخ متعین کرنے کا دن ہے۔ چودہ اگست 1947ئ کو معرضِ وجود میں آنے والی مملکتِ پاکستان بیسویں صدی کی عظیم ترین سیاسی جدوجہد کا ثمر تھی۔ یہ ریاست محض جغرافیائی تقسیم کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور نظریاتی تحریک کی کامیاب تعبیر تھی، جس کی بنیاد علامہ محمد اقبالؒ کی فکر نے رکھی اور جسے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے مثال قیادت نے حقیقت کا روپ دیا۔
آج، اناسی برس بعد، جب ہم جشنِ آزادی منا رہے ہیں تو یہ سوال بھی ہمارے سامنے ہے کہ کیا ہم اس پاکستان کی تعمیر میں کامیاب ہوئے ہیں جس کا تصور علامہ اقبالؒ نے پیش کیا اور جس کی بنیاد قائداعظمؒ محمد علی جناح نے رکھی؟ اس سوال کا جواب صرف حکمرانوں کے پاس نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے کردار، فکر اور عمل میں پوشیدہ ہے۔
علامہ اقبالؒ نے 29 دسمبر 1930ئ کو اپنے مشہور خطبہ الٰہ آباد میں شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک وحدت کی صورت میں دیکھنے کی تجویز پیش کی۔ ان کے نزدیک اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی، اخلاقی اور سماجی نظام تھا۔وہ لکھتے ہیں:’’میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک واحد ریاست کی تشکیل دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘یہ مطالبہ محض سیاسی نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کی تہذیبی بقا اور اجتماعی خودمختاری کا اعلان تھا۔
علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں قوموں کی تعمیر کا راز خودی، علم، عمل اور عشقِ رسول ﷺ میں تلاش کیا۔ وہ فرماتے ہیں:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
یہ صرف فرد کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے پیغام ہے کہ عزت، آزادی اور ترقی خود اعتمادی، علم اور مسلسل جدوجہد سے حاصل ہوتی ہے۔
اگرعلامہ اقبالؒ نے خواب دیکھا تو قائداعظمؒ نے اسے عملی صورت دی۔ ان کی سیاسی بصیرت، آئینی جدوجہد اور غیر متزلزل عزم نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن عطا کیا۔11 اگست 1947ئ کو دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے فرمایا:
’’آپ آزاد ہیں،آپ آزاد ہیں کہ اس مملکتِ پاکستان میں اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جائیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں۔خدا کا شکر ہے کہ ہم ان دنوں سے آغاز نہیں کر رہے۔ ہم ایک ایسے دور کا آغاز کر رہے ہیں جہاں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہوگا، ایک برادری اور دوسری برادری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوگا، اور نہ ہی کسی ذات یا عقیدے کو دوسری ذات یا عقیدے پر ترجیح دی جائے گی۔ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری ہیں، اور برابر کے شہری ہیں۔آج جو صورتِ حال موجود ہے، وہ یہ ہے کہ ہر شخص ایک شہری ہے، ایک برابر کا شہری ہے، اور سب اس قوم کے افراد ہیں۔‘‘
اسی تقریر میں انہوں نے مزید فرمایا:
’’ہم ایک ایسے دور کا آغاز کر رہے ہیں جہاں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہوگا، ایک برادری اور دوسری برادری کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوگا، اور نہ ہی کسی ذات یا عقیدے کو دوسری ذات یا عقیدے پر ترجیح دی جائے گی۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری ہیں، اور برابر کے شہری ہیں۔‘‘
قائداعظم محمد علی جناح، دستور ساز اسمبلی پاکستان ، صدارتی خطاب، 11 اگست 1947ئ
یہ بیان پاکستان میں مذہبی آزادی، مساوی شہریت اور قانون کی حکمرانی کا بنیادی اصول ہے۔اسی طرح ان کا تاریخی نصب العین:
ایمان، اتحاد اور نظم-آج بھی قومی ترقی کا سب سے جامع اور مختصر منشور ہے۔قائداعظمؒ نے نوجوانوں سے فرمایا تھا:
’’پاکستان کو اپنی نوجوان نسل، بالخصوص طلبہ پر فخر ہے، جو کل کے معمارِ قوم ہیں۔‘‘
یہ پیغام آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
یہ بات ہمہ وقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ آزادی صرف سیاسی اقتدار کا نام نہیں۔ حقیقی آزادی وہ ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، تعلیم ہر بچے کا حق ہو، انصاف فوری اور غیر جانب دار ہو، خواتین باوقار اور محفوظ ہوں، نوجوانوں کو مواقع میسر ہوں، اور ریاست کمزور طبقوں کی محافظ بنے۔
قرآنِ مجید اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے:
ان اللہ لا یغیرما بقوم حتی یغیر واما بانفسھم (سورۃ الرعد: 11))
قوموں کی تقدیر محنت، دیانت اور اجتماعی اصلاح سے بدلتی ہے۔اسی حقیقت کو مولانا ظفر علی خان نے شعری سانچے میں یو ں ڈھال دیا کہ ضرب المثل بن چکا ہے:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
آج کا پاکستان بے شمار وسائل سے مالا مال ہے۔ نوجوان آبادی، زرخیز زمین، معدنی ذخائر، جغرافیائی محلِ وقوع، دفاعی صلاحیت، زرعی استعداد اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ڈیجیٹل شعبہ ہماری بڑی طاقت ہیں۔ تاہم ان وسائل سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب قومی پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت، احتساب، تحقیق، سائنسی جدت اور معیاری تعلیم کو ترجیح دی جائے۔
ہمیں اختلاف کو انتشار نہیں بلکہ مکالمے میں بدلنا ہوگا۔ سیاست کو دشمنی کے بجائے خدمت کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ اداروں کو آئین کی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی، اور ہر شہری کو اپنے فرائض کا احساس کرنا ہوگا۔
دنیا بھر میں مقیم پاکستانی، خصوصاً آسٹریلیا، برطانیہ، خلیجی ممالک، یورپ اور شمالی امریکہ میں آباد پاکستانی، پاکستان کے غیر رسمی سفیر ہیں۔ وہ اپنی علمی، فنی اور معاشی خدمات کے ذریعے وطن کا مثبت تشخص اجاگر کرتے اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کو قومی ترقی کے منصوبوں سے مؤثر انداز میں جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اناسیویں یومِ آزادی پر نوجوانوں کے لیے علامہ اقبالؒ کا پیغام آج بھی تازہ ہے:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
محولہ بالا اشعار مایوسی نہیں بلکہ مسلسل جستجو، تحقیق اور بلند پروازی کا استعارہ ہیں۔
پاکستان کا مستقبل کسی ایک فرد یا ادارے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ بائیس کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے کردار، علم، دیانت اور محنت سے وابستہ ہے۔ اگر ہم علامہ اقبالؒ کی خودی، قائداعظمؒ کے نظم و ضبط، آئینِ پاکستان کی بالادستی اور اسلامی اقدار کو اپنی قومی زندگی میں نافذ کر دیں تو پاکستان نہ صرف ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بن سکتا ہے بلکہ عالمِ اسلام کے لیے امید، اعتدال اور ترقی کا روشن نمونہ بھی بن سکتا ہے۔
آئیے، اناسیویں یومِ آزادی پر ہم سب یہ عہد کریں کہ اختلاف سے بالاتر ہو کر پاکستان کو علم، انصاف، اتحاد، تحقیق، خدمت اور کردار کی بنیاد پر ایک عظیم ریاست بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ آمین۔
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 176 Articles with 256416 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More