کراچی گل پلازا کی آتش زدگی،غفلت اور بد انتظامی

کراچی گل پلازا کی آتش زدگی،غفلت اور بد انتظامی
طارق محمود مرزا - آسٹریلیا
[email protected]
کراچی کے گل پلازہ میں حالیہ آتش زدگی نے ایک بار پھر ہمیں اس تلخ حقیقت سے آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ ہمارے شہری مراکز کس قدر غیر محفوظ، بے ترتیب اور غفلت کی نذر ہو چکے ہیں۔ یہ واقعہ محض ایک عمارت کے جلنے کا سانحہ نہیں بلکہ انسانی جانوں، برسوں کی محنت سے کھڑے کیے گئے کاروبار، شہری اعتماد اور ریاستی نظم و ضبط کی اجتماعی ناکامی کا الم ناک اظہار ہے۔ شعلوں میں گھری ہوئی دکانیں، دھوئیں سے اٹی راہداریاں، بدحواس لوگ، اور تاخیر سے پہنچنے والی امدادی گاڑیاں،ہ سب مناظر ہمارے اجتماعی طرزِ فکر اور ناقص انتظامی ڈھانچے کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔
ایسے مواقع پر یہ سوال محض جذباتی نہیں بلکہ فکری تقاضا بن جاتا ہے کہ آخر ہمارے ہاں ایسے سانحات بار بار کیوں جنم لیتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہیں یا اس کے پیچھے ایک طویل سلسلۂ غفلت ہے جس میں ناقص منصوبہ بندی، کمزور قوانین، غیر مؤثر عملدرآمد اور منافع کی اندھی دوڑ شامل ہے؟ گل پلازہ کی آگ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ ہم حادثات کے بعد تو شور مچاتے ہیں، مگر حادثات سے پہلے احتیاط کو کبھی قومی ترجیح نہیں بناتے۔
کراچی سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں بیشتر کمرشل عمارتیں فائر سیفٹی کے بنیادی تقاضوں سے محروم ہیں۔ پرانی اور غیر معیاری وائرنگ، بجلی کے غیر قانونی اور اوورلوڈ کنکشن، بغیر اجازت کی گئی توسیعات، تنگ اور بند راستے، ہنگامی اخراج کے واضح راستوں کا فقدان، اور فائر الارم یا اسپرنکلر سسٹم کی عدم موجودگی ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی لمحے آگ کو قیامت میں بدل سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ قوانین موجود نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ قوانین کاغذوں سے آگے بڑھ کر زمین پر نظر نہیں آتے۔
انتظامی سطح پر ذمہ داریوں کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کی منظوری اکثر رسمی کارروائی تک محدود رہتی ہے، باقاعدہ معائنہ نہ ہونے کے برابر ہے، اور فائر بریگیڈ کے محکمے وسائل کی کمی، پرانے آلات اور محدود افرادی قوت کے ساتھ کسی بڑے سانحے کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کاروباری طبقہ بھی خود کو بری الذمہ نہیں ٹھہرا سکتا۔ حفاظتی انتظامات کو اضافی خرچ سمجھ کر نظرانداز کرنا، غیر تربیت یافتہ الیکٹریشن سے کام لینا، اور ضابطوں سے چشم پوشی کرنا دراصل انسانی جانوں کو منافع کی بھینٹ چڑھانے کے مترادف ہے۔
گل پلازہ کی آتش زدگی نے صرف دکانیں اور سامان نہیں جلایا بلکہ شہریوں کے دلوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی گہرا کر دیا۔ کاروبار بند ہوئے، روزگار متاثر ہوا، اور سرمایہ کاری کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا۔ ایسے واقعات کسی بھی شہر کی معاشی نبض کو کمزور کر دیتے ہیں۔ لوگ شاپنگ سینٹرز اور کمرشل عمارتوں میں جانے سے ہچکچاتے ہیں، اور یہ خوف آہستہ آہستہ اجتماعی نفسیات کا حصہ بن جاتا ہے۔
اگر ہم اس صورتحال کا تقابل آسٹریلیا جیسے ملک سے کریں تو فرق محض وسائل کا نہیں بلکہ ترجیحات کا نظر آتا ہے۔ وہاں فائر سیفٹی ایک رسمی ضابطہ نہیں بلکہ ایک عملی ثقافت ہے۔ ہر کمرشل عمارت کے لیے سخت بلڈنگ کوڈز موجود ہیں جن پر عملدرآمد لازم ہے۔ فائر الارمز، اسپرنکلر سسٹمز، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر ڈورز اور واضح ایمرجنسی ایگزٹس کے بغیر کسی عمارت کو استعمال کی اجازت نہیں دی جاتی۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ نظام صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہر سال باقاعدہ جانچ پڑتال کے ذریعے اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔
ہنگامی صورتحال میں ردِعمل بھی اسی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔ آگ لگنے کی صورت میں خودکار نظام فوری طور پر الارم بجا دیتا ہے اور متعلقہ اداروں کو اطلاع مل جاتی ہے۔ فائر بریگیڈ کے تربیت یافتہ یونٹس جدید آلات کے ساتھ چند منٹوں میں موقع پر پہنچ جاتے ہیں۔ دفاتر، شاپنگ سینٹرز اور رہائشی عمارتوں میں باقاعدہ فائر ڈرلز ہوتی ہیں، جس کے باعث شہری جانتے ہیں کہ ہنگامی حالت میں کیا کرنا ہے اور کہاں جانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں اکثر بڑے حادثات بڑے سانحے بننے سے پہلے ہی قابو میں آ جاتے ہیں۔
چند برس قبل سڈنی کے ایک کمرشل سینٹر میں رات گئے آگ بھڑکی، مگر خودکار اسپرنکلر سسٹم نے ابتدائی لمحوں میں ہی آگ کو پھیلنے سے روک لیا۔ فائر بریگیڈ بروقت پہنچ گئی، عمارت پہلے سے موجود ایمرجنسی پلان کے تحت خالی کرا لی گئی، اور نتیجتاً کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مالی نقصان بھی محدود رہا اور اگلے ہی دن کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہو گئیں۔ یہ واقعہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ درست منصوبہ بندی اور سنجیدہ عملدرآمد کس طرح تباہی کو معمولی واقعے میں بدل سکتا ہے۔
پاکستان میں اگر ہم واقعی ایسے سانحات سے بچنا چاہتے ہیں تو محض بیانات اور انکوائری کمیٹیوں سے آگے بڑھنا ہو گا۔ حکومت کو بلڈنگ قوانین کو جدید بناتے ہوئے ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا، فائر بریگیڈ کے اداروں کو جدید وسائل اور تربیت فراہم کرنا ہو گی، اور معائنہ کے نظام کو شفاف اور مسلسل بنانا ہو گا۔ اسی طرح شہریوں اور کاروباری طبقے کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ حفاظتی انتظامات کوئی اضافی بوجھ نہیں بلکہ زندگی کی ضمانت ہیں۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ گل پلازہ میں آگ کیوں لگی، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس آگ کی روشنی میں اپنا رویہ بدلنے کو تیار ہیں یا نہیں۔ اگر ہم نے اس سانحے کو بھی ماضی کی طرح بھلا دیا تو شعلے پھر اٹھیں گے—کسی اور پلازہ میں، کسی اور بازار میں، کسی اور شہر میں۔ فرق صرف اتنا ہو گا کہ اس بار بھی ہم افسوس کریں گے، تعزیت کریں گے اور چند دن بعد اگلے حادثے کے منتظر ہو جائیں گے۔ قومیں حادثات سے نہیں، غفلت سے تباہ ہوتی ہیں، اور اگر ہم نے آج ہوش کے چراغ نہ جلائے تو کل یہ آگ صرف عمارتیں نہیں، ہمارا اجتماعی مستقبل بھی راکھ کر دے گی۔

 

Tariq Mirza
About the Author: Tariq Mirza Read More Articles by Tariq Mirza: 56 Articles with 58271 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.