ہماری زندگی پر احادیث کا اثر ( سترہویں حدیث)
(محمد یوسف میاں برکاتی, کراچی)
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میں اب تک آپ لوگوں کی خدمت میں 16 احادیث مبارکہ اپنے سلسلے بنام " احادیث کا ہماری زندگی پر اثر " کے عنوان سے پیش کر چکا ہوں جنہیں پڑھ کر اور سمجھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی ان احادیث مبارکہ کا تعلق براہ راست ہماری زندگیوں پر ہے ہمیں اپنی عارضی زندگی کو کس طرح گزارنا ہے کون سا راستہ صحیح ہے کونسا غلط ہے کیا جائز ہے کیا ناجائز ہے یعنی پیدائش سے لیکر زندگی کے آخری سانس تک کی رہنمائی ہمیں اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن مجید اور اس کے بعد یہ احادیث مبارکہ ہی ہیں جنہیں ہم نے آج کے اس دور میں بھلادیا ہے اور اسی وجہ سے پوری دنیا میں آج کا مسلمان پریشان ہے آج کی اس تحریر میں اس سلسلے کو آگے بڑھانے ہوئے سترہویں حدیث لیکر حاضر خدمت ہوں یہ حدیث احادیث کی معروف کتاب " جامع ترمذی " سے لی گئی ہے اور اس کے راوی بھی معروف صحابی رسول ﷺ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس حدیث میں میرے پیارے مصطفیٰ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ، وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً ، فَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُمْ .
جو قوم کسی مجلس میں بیٹھی اور اللہ کا ذکر نہیں کیا، نہ اپنے نبی پر درود پڑھا تو وہ مجلس ان پر حسرت کا باعث ہوگی، اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگر چاہے تو بخش دے۔ ( سنن ترمذی 3380 ) میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اگر ہم اس حدیث کو آج کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ جیسے جس قوم کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ ہم ہیں اور جس مجلس کا لفظ یہاں استعمال ہوا ہے وہ کوئی خاص محفل یا دعوت نہیں ہے بلکہ ہر وہ جگہ جہاں کچھ لوگ بیٹھ کر وقت گزاری کرتے ہیں جیسے چائے کے ہوٹلوں پر گلی کی فٹ پاتھوں پر یا کھانے کے ڈھابوں پر اور وہاں صرف دنیاوی باتیں ہوتی ہوں کسی کی غیبت یا کسی کا مذاق اڑایا جاتا ہو اور سوائے وقت کو ضائع کرنے کے کچھ بھی نہیں ہوتا نہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اور نہ ہی اس کے حبیب کریم ﷺ کی باتوں یا ان پر درود پڑھنے کا کوئی سلسلہ ہو اس کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس عمل کی سزا ہمیں یہاں نہیں بلکہ بروز محشر ملنے کا اشارہ دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی سرکار مدینہ حضور ﷺ نے بتلادیا کہ اب اس وقت اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشاء پر منحصر ہے کہ وہ انہیں عذاب کی وعید سنادے یا بخشش کا پروانہ جاری کردے ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں میں اسی لیئے ان احادیث کو ہماری زندگی کے لیئے ہماری زندگی کے ہر عمل کے لیئے ضروری سمجھتا ہوں کہ میرے سرکار مدینہ حضور صلی اللّٰہ علیہ والیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے ہمیں آج کے دور کے بارے میں ہونے والے خرافات کی خبر اپنی ان احادیث کے ذریعے ہم تک پہنچائیں تاکہ ہم ان برے اور اللہ و رسول ﷺ کے ناپسندیدہ عمل سے دور رہیں اور ان سے بچ کر ان پر آنے والے عذابات سے محفوظ رہیں لیکن یہاں شیطان کی طاقت اور اس کی خطرناک چالوں میں آنے والے لوگوں کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جب کسی مسجد میں نماز ادا ہورہی ہوتی ہے تو غور کرلیجئے کہ وہاں پر موجود بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگوں کی تعداد مسجد میں ادا ہونے والی نمازیوں سے زیادہ ہوگی اور یہ ہی ہماری بڑی بدقسمتی ہے اور یہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرنے والے لوگوں کی تعداد کم ہے جبکہ شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کی راہ پر چلنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ ہمارے پاس قرآن و حدیث موجود ہیں انہیں صحیح انداز اور صحیح طور پر سمجھانے والے لوگ بھی موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم وہاں تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے یا شیطان ہمیں ان باعمل عالم دین لوگوں تک پہنچنے سے روکتا رہا ہے اور اپنے راستوں پر چلانے میں مصروف ہے ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جس طرح معمولی سی معمولی نیکی کو حاصل کرنے کی ہمیں تلقین کی گئی ہے تاکہ بروز محشر اگر ہمارے گناہوں کا پلڑا بھاری ہو تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چھوٹی سی نیکی کا اجر ان گناہوں پر بھاری ہوکر ہمیں بخشوانے میں مددگار ہو بالکل اسی طرح چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنے کی تلقین کی گئی ہے ایسا نہ ہو کہ بروز محشر ہمارے نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو لیکن کوئی ایسا گناہ سامنے اجائے جو ساری نیکیوں کو تباہ کردے اور باری تعالیٰ ہمیں جہنم واصل کردے اس حدیث میں جس گناہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ آج کے دور میں بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے کیونکہ آج کے دور میں ایک جگہ بیٹھ کر فضول باتوں میں وقت ضائع کرنا اور اور اللہ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کے ذکر کے بغیر مصروف رہنا ایک فیشن بن چکا ہے اور لوگوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کی بیٹھک ہمارے ٹینشن اور ذہنی دبائو کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ شام ہوتے ہی شہروں کے معروف اور مشہور ریسٹورنٹ میں لوگوں کا رش دکھائی دیتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گھر کا کھانا کسی نے کھانا ہی نہیں اور اسے ہمارے یہاں Enjoyment کہا جاتا ہے اسی طرح جگہ جگہ کھل جانے والے پیالہ ہوٹل بھی لوگوں سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں جہاں پر گرما گرم چائے کے ساتھ صرف اور صرف دنیاوی اور کاروباری باتوں میں اپنا وقت ضائع کرنے میں لوگ مصروف عمل نظر آتے ہیں اور لوگوں کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ باہر کا کھانا اور چائے دل و دماغ کو گھر کے مسئلوں سے نکل کر سکوں فراہم کرتے ہیں اور انسان رلیکس محسوس کرتا ہے جبکہ یہ بات ہمارے ذہن میں پیدا کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ شیطان مردود ہے اور اصل میں حقیقت اس سے مختلف ہے کیونکہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیح اور سچ ہیں شیطان کے بہکاوے اور اس کی ہمارے دلوں میں پیدا کرنے والی باتوں کے مقابلے میں ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس طرح کی مجالس یعنی آج کی بیٹھکوں کا رجحان ہمارے یہاں بہت زیادہ ہے لیکن آج کی حدیث کے مطابق ہر وہ مجلس یا بیٹھک جس میں شرکت کرنے والوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ذکر نہ ہو بلکہ صرف دنیاوی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے لوگ مصروف ہوں تو پھر ایسے لوگوں پر بروز محشر بڑی آزمائش ہوگی یعنی بڑی پکڑ ہونے کا اندیشہ ہے اور پھر ان فضولیات میں مصروف ہوکر اس رب کی ایک بہت بڑی نعمت یعنی وقت کو ضائع کرنے پر اللہ تعالیٰ کی کیا مرضی ہوگی کیا منشاء ہوگی وہ ہمیں ایسی مجلسوں میں شامل ہوکر اس کا حصہ بننے پر ہمارے ساتھ کیا فیصلہ کرے یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے ۔ آج کی اس حدیث مبارکہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ہر وہ مجلس یا محفل جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کا ذکر ہو اور کوئی دنیاوی باتوں کا تزکرہ نہ ہو تو ایسی مجالس میں شرکت کرنے پر نہ صرف اللہ رب العزت خوش ہوتا ہے بلکہ اس کے حبیب کریم ﷺ بھی خوش ہوتے ہیں یہاں تک کہ ہمارے فقہاء نے لکھا ہے کہ اللہ باری تعالیٰ فرشتوں کی ایک قسم کو حکم دیتا ہے کہ زمین پر جائو اور دیکھو کہ میرے بندے کیا کررہے ہیں فرشتے جب گھومتے ہوئے ایسی مجلس تک آتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کا ذکر ہورہا ہو تو وہاں رک جاتے ہیں اور جب محفل کے اختتام میں اسٹیج پر موجود عالم دین یا ثناء خواں دعا مانگتے ہیں تو آمین کہنے والوں میں وہ فرشتے بھی شامل ہوتے ہیں پھر جب وہ فرشتے واپس لوٹتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ( جسے سب کچھ معلوم ہے ) فرشتوں سے پوچھتا ہے کہ کیا دیکھا ؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ تیرے بندے تیرا اور تیرے حبیب کریم ﷺ کا ذکر کررہے تھے اللہ فرمائے گا کیا مانگ رہے تھے تو فرشتے عرض کریں گے کہ یارب وہ اپنی اور اپنے عزیزوں اقارب کی بخشش مانگ رہے تھے مجلس میں موجود لوگوں کی بخشش مانگ رہے تھے تو اللہ رب العزت فرمائے گا کہ فرشتوں گواہ رہنا میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف کردیا ہے ۔اور اس مجلس میں موجود تمام لوگوں کی مغفرت کردی ہے اس لیئے دینی محافل میں شرکت کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، بخشش اور علم حاصل کرتا ہے، اور یہ اجر و ثواب کے بڑے مواقع فراہم کرتی ہیں جو دیگر نیک اعمال سے بھی بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں محافلوں میں جانا بیٹھکوں کا اہتمام کرنا اور دوستوں یاروں اور رشتہ داروں کا مل جل کر بیٹھنا منع نہیں ہے لیکن صرف دنیاوی مقاصد اور فضول رسم ورواج کی خاطر ایسی مجلسوں کا اہتمام کرنا اور ان میں شرکت کرنے کی ممانعت کی گئی ہے جیسے آج کی حدیث میں بیان کی گئی ہے اور یہاں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کی مصروفیات میں چاہے کوئی بھی کام کررہے ہو کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں لیکن ہماری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف پڑھنے سے خالی نہ رہے اس کے سبب ہمارا ہر کام نیک عمل میں شمار ہوجائے گا اور کام بھی ہوگا اور اجر و ثواب کا باعث بھی بنے گا جس طرح اللہ کے خاص اور محبوب بندوں کا ہمیشہ سے وطیرہ رہا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے ایک نیک بندے کو ایک مسئلہ درپیش ہوا تو اس نے وقت کے ایک بہت بڑے بزرگ یعنی اللہ تعالیٰ کے ولی سے ملنے کی خاطر انہیں تلاش کرنے کی غرض سے نکل کھڑا ہوا اور بالآخر ان کے علاقے میں پہنچ گیا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ بزرگ ایک اونچے پہاڑ پر دنیا کے شوروغل سے دور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں گویا وہ شخص بھی اس پہاڑ پر چڑھنے لگا اور یوں محنت و کوشش کے بعد وہ اوپر پہنچ گیا اس نے دیکھا کہ وہ بزرگ مصلحہ بچھائے اللہ تعالیٰ کے ذکر واذکار میں مصروف ہیں لیکن انہیں محسوس ہوگیا کہ کوئی ہے جو یہاں تک آیا ہے لہذہ انہوں نے صرف چند لمحوں کے لیئے اس شخص کی طرف دیکھا اور کہا کہ کون ہو اور کیوں آئے ہو تو اس شخص نے کہا کہ میں کچھ پوچھنے کے لیئے آیا ہوں تو بزرگ نے فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے حبیب کریم ﷺ پر درود پڑھنے سے رک جائے اور بروز محشر میرا رب مجھے ایسا کرنے سے عذاب میں مبتلہ کردے لہذہ اگر میرے ذکر واذکار کے ساتھ تم اپنا مسئلہ بتا سکتے ہو تو بتائو تاکہ میں ذکر واذکار کے دوران ہی تمہیں تمہارے مسئلے کا حل بتا سکوں ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ تھے ہمارے بزرگان دین جو اپنی زبان اور اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے خالی نہیں چھوڑتے تھے اور ہر لمحہ اس رب کی یاد میں اپنی زندگی گزارنے میں مصروف عمل رہتے تھے یہ ہی وجہ ہے کہ آج کئی سال گزرنے کے باوجود ہم ان کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر 152 کے پہلے حصے میں فرمایا فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ ترجمعہ ، تو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہنے والی زبان کو اللہ تعالیٰ لوگوں میں عام فرما دیتا ہے اور اس شخص کا ذکر ہر انسان کرتا ہے اور رہتی قیامت تک اسی شان و شوکت سے ان لوگوں کا ذکر عام ہوتا رہے گا ۔ اسی لیئے مجلسوں میں ضرور بیٹھیں محفلوں میں شرکت ضرور کریں لیکن صرف ایسی مجلسوں میں جہاں رب العزت کا ذکر ہو جہاں اس پاک پروردگار کے حبیب کریم ﷺ کا ذکر ہو تاکہ ہمارا شمار بخشش پانے والوں میں ہو جائے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی مجلسوں اور ایسی بیٹھکوں سے دور رکھے جہاں صرف دنیاوی باتیں ہوں کسی کی غیبت یا کسی کا مذاق اڑایا جاتا ہو اور بروز محشر ہمیں عذاب پانے والوں سے بچائے رکھے ۔ میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے اور اپنے حبیب کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ کو پڑھ کر سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہم سب کو پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیئے گا ۔ |
|