خدا کا وجود اور عقل
(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
خدا کا تصور مذہبی عقیدے کے طور پر نہیں --بلکہ ماورائی حقیقت جو شعور کی محتاج نہ ہو بلکہ شعور کی بنیاد فراہم کرے۔ یہ مان لینا کہ وقت، توانائی، قانون اور شعور سب کچھ خود بخود، بغیر کسی اصل عقل کے وجود میں آ گیا، عقل کے لیے زیادہ بھاری مفروضہ ہے
|
|
|
کائنات کو اگر عقیدے یا روایت کے دائرے سے نکال کر خالص عقل کی نظر سے دیکھا جائے تو ایک سوال مسلسل ذہن پر دستک دیتا ہے: کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟ ستاروں کی گردش، ایٹم کی ترتیب، زندگی کا ظہور اور انسانی شعور کی پیچیدگی—یہ سب کسی بے سمت قوت کا نتیجہ محسوس نہیں ہوتے، بلکہ ایک گہرے نظم اور داخلی ہم آہنگی کی خبر دیتے ہیں۔ یہ ہم آہنگی دو بنیادی تصورات کے گرد گھومتی ہے: وقت اور توانائی۔ وقت کو عام طور پر گھڑی اور کیلنڈر کی قید میں سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وقت محض پیمائش نہیں بلکہ وجود کی سمت ہے۔ ہر واقعہ ایک ترتیب کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے، ہر سبب کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور ہر عمل اپنے اثرات چھوڑ کر آگے بڑھتا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل کا یہ ربط محض ذہنی تصور نہیں بلکہ کائنات کے ہر ذرّے میں جاری ایک منظم بہاؤ ہے۔ اگر یہ بہاؤ بے ترتیب ہوتا تو نہ تاریخ بنتی، نہ ارتقا ممکن ہوتا اور نہ ہی علم کی کوئی بنیاد قائم ہو سکتی۔ اسی طرح توانائی کو بھی اکثر ایک اندھی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ سخت قوانین کی پابند ہے۔ وہ ختم نہیں ہوتی، صرف شکل بدلتی ہے۔ حرارت، حرکت، روشنی اور مادہ—یہ سب توانائی کے مختلف اظہار ہیں، مگر ان سب میں قانون کی یکسانیت موجود ہے۔ سوال یہ نہیں کہ توانائی کیا کرتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس نظم کے ساتھ کیوں کام کرتی ہے۔ قانون کا وجود خود ایک وضاحت چاہتا ہے، کیونکہ قانون بغیر کسی منبع کے خود بخود وجود میں آ جائے، یہ مفروضہ عقل کو مطمئن نہیں کرتا۔ وقت اور توانائی کے اس منظم امتزاج سے ایک اور حیران کن حقیقت جنم لیتی ہے: شعور۔ انسان نہ صرف کائنات کا حصہ ہے بلکہ وہ اس پر غور بھی کرتا ہے۔ وہ قوانین کو دریافت کرتا ہے، وقت کو ناپتا ہے اور توانائی کو قابو میں لاتا ہے۔ یہاں سوال محض حیاتیاتی نہیں بلکہ فلسفیانہ ہو جاتا ہے۔ اگر کائنات محض بے مقصد قوتوں کا نتیجہ ہوتی تو معنی تلاش کرنے والی عقل خود کیسے وجود میں آتی؟ شعور کا ظہور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نظام کے پیچھے محض حرکت نہیں بلکہ فہم بھی کارفرما ہے۔ یہاں فلسفہ حرکت کی ابتدا کا سوال اٹھاتا ہے۔ ہر حرکت کسی سابقہ حرکت کی محتاج ہوتی ہے، مگر یہ سلسلہ لامتناہی نہیں ہو سکتا۔ کہیں نہ کہیں ایک ایسی حقیقت ماننی پڑتی ہے جو خود حرکت میں نہ ہو مگر حرکت کا سبب ہو، جو وقت کے اندر نہ ہو مگر وقت کو جنم دے، جو توانائی نہ ہو مگر توانائی کو نظم عطا کرے۔ یہ نکتہ محض قیاس نہیں بلکہ منطقی ضرورت بن جاتا ہے، کیونکہ بغیر کسی اولین بنیاد کے کائناتی عمل کی تشریح ادھوری رہتی ہے۔ اسی مقام پر خدا کا تصور کسی مذہبی عقیدے کے طور پر نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ نتیجے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ایک ایسی ماورائی حقیقت جو قوانین کی پابند نہ ہو بلکہ ان کی خالق ہو، جو شعور کی محتاج نہ ہو بلکہ شعور کی بنیاد فراہم کرے۔ یہ مان لینا کہ وقت، توانائی، قانون اور شعور سب کچھ خود بخود، بغیر کسی اصل عقل کے وجود میں آ گیا، عقل کے لیے زیادہ بھاری مفروضہ ہے بنسبت اس کے کہ کسی اعلیٰ اور منظم کرنے والی حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے۔ یوں وقت اور توانائی محض طبیعی مظاہر نہیں رہتے بلکہ سوال بن جاتے ہیں—ایسے سوال جو ہمیں کائنات کے پردے کے پیچھے جھانکنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ سوال کسی مذہبی جواب کے محتاج نہیں، بلکہ خالص عقل سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ نظم، قانون اور شعور کے پیچھے کسی اندھی طاقت کے بجائے ایک باخبر اور ماورائی حقیقت کو مانا جائے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو خدا ایمان کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ عقل کا منطقی مطالبہ بن کر سامنے آتا ہے۔
|
|