غزہ بورڈ آف پیس: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

غزہ بورڈ آف پیس: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
حسیب اعجاز عاشرؔ
کسی دانشور نے کہا تھا کہ سیاست یادداشت کی کمزوری کا دوسرا نام ہے، اور سفارت کاری اس کمزوری کو تہذیب کے کاغذ میں لپیٹ کر پیش کرنے کا ہنر۔ پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند خبر ہے، امن کی ایک نئی امید، تعمیرِ نو کا ایک نیا وعدہ، اور عالمی برادری میں ایک فعال کردار کی نوید۔ مگر جب ہم اس فیصلے کو محض خبروں کے عنوان سے نکال کر تاریخ، عوامی جذبات اور قومی اصولوں کے آئینے میں رکھتے ہیں تو تصویر اتنی سادہ نہیں رہتی۔ تب سوال ابھرتا ہے، اور بہت سخت لہجے میں ابھرتا ہے، کہ کیا یہ امن واقعی مظلوم کے لیے ہے یا ہمیشہ کی طرح طاقتور کے سکون کا بندوبست؟
غزہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا کھلا زخم ہے۔ ایسا زخم جس پر عالمی ضمیر نے پٹیاں بھی طاقت کے توازن کو دیکھ کر باندھیں، اور مرہم بھی مفادات کی ترازو میں تول کر رکھا۔ پاکستان کی عوام کے لیے غزہ کوئی دور افتادہ خطہ نہیں۔ یہ وہی غزہ ہے جس کے بچوں کی لاشیں پاکستانی گھروں میں ٹی وی اسکرین کے ذریعے آئیں، وہی مائیں ہیں جن کی آہیں یہاں کی مسجدوں میں سنی گئیں، اور وہی ملبہ ہے جس پر یہاں کے نوجوانوں نے اپنے غصے اور بے بسی کے اظہار کے لیے نعرے لکھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ریاست کسی ایسے بین الاقوامی بورڈ کا حصہ بنتی ہے جس میں غزہ کے اصل وارثوں کی آواز کمزور دکھائی دے، تو عوامی دل میں تشویش کا چراغ خود بخود جل اٹھتا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہمیشہ کی طرح قرینِ قیاس ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میز پر بیٹھ کر بات کرے گا، وہاں مسلمانوں کا مقدمہ لڑے گا، اور اگر ہم شامل نہ ہوتے تو فیصلے ہمارے بغیر ہو جاتے۔ یہ دلیل نئی نہیں۔ یہی دلیل ہم نے ماضی میں بھی سنی ہے،کبھی کسی عالمی اتحاد کے لیے، کبھی کسی جنگی معاہدے کے لیے، اور کبھی کسی خاموش مفاہمت کے لیے۔ سوال یہ نہیں کہ میز پر بیٹھنا درست ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس میز پر ہمارے پاس اختیار کتنا ہے، اور اصول کہاں تک سلامت ہیں۔
یہاں وہ تضاد پوری شدت سے سامنے آتا ہے جو پاکستانی سیاست کا مستقل مزاج بن چکا ہے۔ جو جماعتیں آج اقتدار میں بیٹھ کر سفارتی مجبوریوں کا درس دے رہی ہیں، یہی جماعتیں کل اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایسے ہی فیصلوں کو قومی غیرت کے منافی قرار دیا کرتی تھیں۔ آج کے حکومتی بیانات اور کل کے اپوزیشن نعروں کو اگر ساتھ رکھ دیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سیاستدان نہیں، دو مختلف قومیں بول رہی ہوں۔ غزہ کے معاملے پر بھی یہی تضاد نمایاں ہے۔ اپوزیشن سوال کر رہی ہے کہ کیا یہ بورڈ فلسطینی خودمختاری کو تسلیم کرتا ہے؟ اور حکومت جواب دے رہی ہے کہ نیت دیکھیے، نیت۔ مگر قوم اب نیت سے زیادہ تحریری شرائط دیکھنا چاہتی ہے۔
پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کا پس منظر اس بحث میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔دنیا سمجھتی ہے کہ یہ کوئی ہماری سفارتی ضد نہیں کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ اِس اصولی موقف کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناحؒ کے افکار اور پاکستان کی نظریاتی شناخت میں پیوست ہے۔ مگر وقتاً فوقتاً پسِ پردہ رابطوں، غیر رسمی ملاقاتوں اور مبہم اشاروں کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔ کبھی کسی تیسرے ملک میں ملاقات کی خبر، کبھی کسی تجارتی امکان کی سرگوشی، اور کبھی کسی مشترکہ مفاد کی کہانی۔ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کو اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں عوام کو خدشہ ہے کہ کہیں یہ قدم کسی بڑے سمجھوتے کی تمہید نہ بن جائے۔
بین الاقوامی بیانیہ ہمیشہ خوش لفظوں سے مزین ہوتا ہے۔ ceasefire، governance، reconstructionیہ سب الفاظ کاغذ پر بڑے دلکش لگتے ہیں۔ مگر غزہ کے معاملے میں مسئلہ عمارتوں کا نہیں، مسئلہ بنیادوں کا ہے۔ جب تک قبضہ برقرار ہے، جب تک ناکہ بندی زندہ ہے، اور جب تک طاقت کا توازن یکطرفہ ہے، تب تک تعمیرِ نو ایک وقفہ ہو سکتی ہے، حل نہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ملبہ دوبارہ اٹھ جاتا ہے اگر انصاف کو بنیاد نہ بنایا جائے۔

اسلامی نقط نظر اس ساری بحث میں سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا پہلو ہے۔ اسلام امن کا دین ہے، مگر وہ امن جو عدل کے بغیر ہو، قرآن کی زبان میں بھی قابلِ قبول نہیں۔ اگر غزہ کے مسلمانوں سے کہا جائے کہ وہ اپنی مزاحمت چھوڑ دیں، اپنی سیاسی آواز خاموش کر دیں، اور بدلے میں چند سال کی تعمیرِ نو قبول کر لیں، تو یہ امن نہیں، ایک مہذب قید ہے۔ اور اسلام ہی نہیں بلکہ کسی بھی مذاہب میں قید کو امن کے نام سے پکارنے کی اجازت نہیں۔ایسے میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فلسطین کے بارے میں صاف لفظوں میں کہا تھا کہ فلسطین عربوں کا ہے اور عربوں ہی کا رہے گا، اور یہ کہ پاکستان ہر مظلوم قوم کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ قائداعظم کے نزدیک خارجہ پالیسی کا محور طاقت نہیں، اصول تھا۔ سوال یہ ہے کہ آج ہم ان اصولوں کے وارث ہیں یا محض ان کے وارث ہونے کے دعوے دار؟
پاکستان اگر غزہ بورڈ آف پیس میں شامل رہ کر واقعی تاریخ میں سرخرو ہونا چاہتا ہے تو اسے واضح اور دوٹوک مؤقف اپنانا ہوگا۔ فلسطینی نمائندگی محض علامتی نہیں، فیصلہ کن ہونی چاہیے۔ تعمیرِ نو کو قبضے کے خاتمے سے مشروط کرنا ہوگا۔ القدس کے مسئلے پر کسی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑنی ہوگی۔ اور سب سے بڑھ کر، قوم کو اعتماد میں لینا ہوگا، کیونکہ خاموش سفارت کاری کبھی بھی عوام نے دل سے قبول نہیں کی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ قومیں فیصلوں کے پیچھے کھڑے اصولوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ غزہ کے معاملے پر پاکستان اگر اصول کے ساتھ کھڑا رہا تو یہ فیصلہ تاریخ میں عزت پائے گا، اور اگر مصلحت غالب آ گئی تو شایدفیصلوں کی میز پر تھوڑی جگہ مل جائے، مگر عوام کے دل میں نہیں۔
Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757

Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 181 Articles with 176752 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More