مصنوعی ذہانت کے دور میں افرادی قوت کی تیاری

مصنوعی ذہانت کے دور میں افرادی قوت کی تیاری
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے استعمال کے باعث روزگار کے مستقبل پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں کئی ٹیکنالوجی ماہرین انسانی ملازمتوں کے متبادل بننے کے امکانات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں چین نے ایک مختلف اور فعال راستہ اختیار کیا ہے، جس کا محور ٹیکنالوجی سے خوف کے بجائے افرادی قوت کی تیاری اور مہارتوں میں اضافہ ہے۔ چینی پالیسی ساز مصنوعی ذہانت کو انسانی محنت کا نعم البدل نہیں بلکہ ایک ایسا ارتقائی مرحلہ قرار دے رہے ہیں، جو نئی صلاحیتوں اور خصوصی کرداروں کے فروغ کا تقاضا کرتا ہے۔

اسی حکمتِ عملی کے تحت حال ہی میں جنوبی چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ میں ملک کی پہلی "رائیڈر اکیڈمی" کا افتتاح کیا گیا۔ یہ ادارہ صوبائی تعلیمی حکام اور معروف چینی ای کامرس کمپنی جے ڈی ڈاٹ کام کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے، جہاں کورئیرز اور ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے باضابطہ پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اکیڈمی ایک مقامی ووکیشنل و ٹیکنیکل یونیورسٹی میں قائم کی گئی ہے اور اسے جدید روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اکیڈمی کے نصاب میں ابتدائی سطح پر ٹریفک سیفٹی اور کارکنوں کے حقوق جیسے بنیادی موضوعات شامل ہیں، تاہم اس کی اصل انفرادیت اعلیٰ درجے کے تربیتی پروگراموں میں ہے۔ ان پروگراموں میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈسپیچ پلیٹ فارمز کا استعمال، خودکار ڈیلیوری آلات کی دیکھ بھال، کولڈ چین لاجسٹکس کا انتظام، اسٹیشن آپریشنز اور علاقائی فلیٹ کوآرڈی نیشن کی جامع تربیت شامل ہے۔ یہ تربیت رضاکارانہ بنیادوں پر مختلف درجات میں فراہم کی جاتی ہے، جبکہ بنیادی فیس متعلقہ پلیٹ فارمز ادا کرتے ہیں جن کے لیے یہ کارکن خدمات انجام دیتے ہیں۔

اس اقدام کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ چین میں روزگار کی نئی شکلیں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جن میں ڈیلیوری رائیڈرز، کورئیرز اور رائیڈ ہیلنگ ڈرائیورز نمایاں ہیں۔ اس بدلتے ہوئے لیبر مارکیٹ میں مہارتوں کی کمی نہ صرف کارکنوں بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز اور خودکار ڈیلیوری گاڑیوں کے استعمال نے لاجسٹکس کے کئی شعبوں میں کام کے طریقے بدل دیے ہیں، چاہے وہ دور دراز علاقوں سے زرعی اجناس کی ترسیل ہو یا جدید مصنوعی ذہانت کے مظاہرے والے زونز میں آپریشنز۔

چینی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی انسانی محنت کو ختم نہیں کر رہی بلکہ اس کے معیار کو بلند کر رہی ہے۔ اسی سوچ کے تحت حالیہ سرکاری دستاویزات میں "انسانی وسائل میں سرمایہ کاری" کی اصطلاح نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ یہ اصطلاح 2025 کی حکومتی ورک رپورٹ، طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بندی اور 2026 کی ترجیحات طے کرنے والی ایک اعلیٰ سطحی اقتصادی کانفرنس میں بار بار استعمال کی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل کی ترقی میں انسان کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔

یہ رجحان صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں۔ چین کے مختلف دیہی اضلاع میں ضلعی حکومتیں ڈرون فلائنگ اسکول قائم کر رہی ہیں، جہاں دیہی علاقوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد شہروں سے واپس آنے والے کارکنوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور ساتھ ہی زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ صوبہ حوبے کے شہر یی چانگ میں 2025 کے دوران ڈرون تربیت کے 30 سیشنز منعقد کیے گئے، جن میں 606 افراد کو سبسڈی فراہم کی گئی، جس کی مجموعی مالیت 8 لاکھ 8 ہزار یوان سے زائد رہی۔

صوبہ گانسو کے شہر بائی ین میں مقامی حکام نے پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے تحت بے روزگار افراد، دیہی تارکینِ وطن اور یونیورسٹی گریجویٹس کے لیے مفت ڈرون آپریشن کورسز متعارف کرائے ہیں۔ حکام کے مطابق ان پروگراموں کے ساتھ ملازمت کے لیے رہنمائی بھی فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ تربیت اور روزگار کے درمیان خلا کو کم کیا جا سکے۔ اب تک تین تربیتی مراحل مکمل ہو چکے ہیں، جن میں سو سے زائد مقامی افراد کو تربیت دی گئی۔

تربیت حاصل کرنے والوں کے تجربات بھی اس پالیسی کی افادیت کو اجاگر کرتے ہیں۔اس پروگرام نے انہیں ڈرونز کے عملی استعمال، خصوصاً زراعت اور لاجسٹکس میں، نئی مہارتیں فراہم کی ہیں، جس سے ان کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوئے ہیں۔


حقائق کے تناظر میں چین کی یہ حکمتِ عملی اس بات کی عکاس ہے کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں اصل مقابلہ مشین اور انسان کے درمیان نہیں بلکہ مہارت اور عدم مہارت کے درمیان ہے۔ افرادی قوت کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنے، ووکیشنل تربیت کو فروغ دینے اور انسانی وسائل میں منظم سرمایہ کاری کے ذریعے چین نہ صرف روزگار کے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے بلکہ مستقبل کی معیشت کے لیے ایک زیادہ باصلاحیت اور لچکدار ورک فورس بھی تیار کر رہا ہے۔ یہ نقطۂ نظر عالمی سطح پر بدلتے ہوئے روزگار کے منظرنامے میں ایک قابلِ توجہ مثال بن سکتا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093456 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More