کراچی میں آگ نہیں، نظام جلتا ہے

*از قلم : محمد ارسلان شیخ*

کراچی میں جب کوئی عمارت مکمل طور پر جل کر راکھ ہو جائے تو اعلان ہوتا ہے، “آگ پر قابو پا لیا گیا” اور جب ملبے سے لاشیں نکالی جائیں تو اسے “ریسکیو آپریشن” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ جو کے ہمارے اجتماعی رویّے اور نظام کی تلخ سچائی کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ الفاظ نہیں، ہماری بے حسی کا سرکاری ترجمہ ہیں۔اگر عمارت مکمل جل چکی ہو، اگر انسان زندہ جل کر مر چکے ہوں، تو یہ کیسا قابو اور کیسا ریسکیو ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں آگ پر نہیں، صرف سچ پر قابو پایا جاتا ہے۔
بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ، جس میں 260 سے زائد مزدور زندہ جل گئے، کوئی استثنا نہیں تھا بلکہ ایک مثال تھی—اس نظام کی جس میں فائر ایگزٹ بند، کھڑکیاں سیل، اور مزدور قید تھے۔ برسوں گزر گئے، مگر سوال آج بھی وہی ہے:کیا اس شہر نے کچھ سیکھا؟
صدرگُل پلازہ، کورنگی، لانڈھی اور نیو کراچی کی فیکٹریوں اور کمرشل عمارتوں میں لگنے والی آگ ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ مسئلہ بجلی کے شارٹ سرکٹ کا نہیں، شارٹ سرکٹ سوچ کا ہے۔ یہاں عمارتیں قانون سے نہیں، تعلقات سے منظور ہوتی ہیں۔ فائلیں ضابطوں سے نہیں، میز کے نیچے سے کلیئر ہوتی ہیں۔
حال ہی میں صدر کے گُل پلازہ میں لگنے والی آگ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ کراچی میں آتش زدگی حادثہ نہیں رہی، یہ ایک مستقل سلسلہ بن چکی ہے۔ جگہ بدل جاتی ہے، نام بدل جاتے ہیں، مگر کہانی ایک ہی رہتی ہے—ناقِص وائرنگ، بند فائر ایگزٹ، غیر قانونی تعمیر اور تاخیر سے پہنچنے والا فائر بریگیڈ۔
گُل پلازہ جیسے گنجان کمرشل علاقے میں آگ لگنا محض اتفاق نہیں تھا۔ یہ اس شہر کی منصوبہ بندی پر ایک سوالیہ نشان تھا، جہاں سینکڑوں افراد روزانہ آتے جاتے ہیں مگر ایمرجنسی کے وقت نکلنے کا راستہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔
ہمارے ہاں ریسکیو کا مطلب لاشیں نکالنا ہے،جبکہ دنیا میں ریسکیو کا مطلب جان بچانا ہوتا ہے۔
ہر حادثے کے بعد کمیٹیاں بنتی ہیں، رپورٹس تیار ہوتی ہیں، اور چند دن بعد سب کچھ خاموشی میں دفن ہو جاتا ہے۔ نہ کسی افسر کا نام سامنے آتا ہے، نہ کسی ادارے کو جواب دہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ صرف لواحقین رہ جاتے ہیں—سوالوں کے ساتھ، اور انصاف کے بغیر۔
یہ آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی، یہ آگ ایک شارٹ سرکٹ نظام کا نتیجہ ہے۔
جب تک جلتی عمارت کو “کامیابی” اور مرنے والوں کو “اعداد و شمار” کہا جاتا رہے گا،کراچی میں آگ بجھنے والی نہیں—صرف فیکٹریوں اور پلازوں کے نام بدلتے رہیں گے۔لاشیں، حادثات اور نقصانات پیسوں سے خرید کر خاموشی میں دفن کر دیے جاتے ہیں۔نہ کوئی سبق سیکھا جاتا ہے، نہ آئندہ کے لیے کوئی حکمتِ عملی بنتی ہے۔فائل بند ہو جاتی ہے، نظام بے قصور رہتا ہے، اور شہر اگلے سانحے کا انتظار کرتا ہے۔جب تک جان کی قیمت چند نوٹوں میں طے ہوتی رہے گی،کراچی میں آگ نہیں بجھے گی—صرف لاشوں کے ریٹ بدلتے رہیں گے۔

 

Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 35 Articles with 10228 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.