ولادتِ حسینؑ: کردار کی پیدائش
(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)
ولادتِ حسینؑ: کردار کی پیدائش تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان ۔۔۔۔۔ تاریخ میں کچھ دن اقدار کی ولادت کے ہوتے ہیں۔ تین شعبان کا دن بھی ایسا ہی دن ہے، جب مدینہ کی فضاؤں میں ایک ایسے وجود کی آمد ہوئی جس نے بعد ازاں حق، عدل اور انسانی وقار کو نئی زندگی دی۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی ولادت کسی خاندان کی خوشی کا لمحہ ہی نہیں تھی، بلکہ انسانیت کے لیے ایک عظیم امانت کا آغاز تھا۔ حضرت امام حسینؑ کی ولادت اس گھر میں ہوئی جسے وحی کی آغوش، نبوت کی تربیت اور اخلاقِ الٰہی کا مرکز کہا جا سکتا ہے۔ نانا رسولِ اکرم ﷺ، جن کے کردار کو قرآن نے "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ" کہا؛ والد حضرت علیؑ، جو عدل و شجاعت کا معیار بنے؛ اور والدہ حضرت فاطمہؑ، جو طہارت و عصمت کی علامت ہیں، ایسے ماحول میں پرورش پانے والی شخصیت محض فرد نہیں رہتی، وہ فکر بن جاتی ہے، ضمیر بن جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت امام حسینؑ کے مقام کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا: "الحُسَيْنُ مِنِّي وَأَنَا مِنَ الحُسَيْنِ، أَحَبَّ اللّٰهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا" ترجمہ: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرے۔" (جامع ترمذی، حدیث:3775؛ مسند احمد، حدیث: 17181) یہ حدیث محض نسبی محبت کا اظہار نہیں، بلکہ یہ اعلان ہے کہ امام حسینؑ کا کردار، رسولِ اکرم ﷺ کے مشن کی عملی توسیع ہے۔ گویا حسینؑ کی زندگی، نبوی پیغام کی اخلاقی تفسیر ہے۔ حضرت امام حسینؑ کی ولادت ہمیں یہ حقیقت سمجھاتی ہے کہ اصل عظمت اقتدار میں نہیں، کردار میں ہوتی ہے۔ دنیا نے ہمیشہ طاقت ور افراد دیکھے، مگر تاریخ نے صرف اصولوں پر ڈٹ جانے والوں کو زندہ رکھا۔ حسینؑ کی ولادت دراصل اس انسان کی پیدائش ہے جو سچ کے لیے جیتا ہے اور باطل کے سامنے خاموشی کو بھی گوارا نہیں کرتا۔ اگر امام حسینؑ کو ایک میزان سمجھا جائے تو وہ صرف ناپنے کا آلہ نہیں، بلکہ حق اور باطل کے درمیان لکیر کھینچنے کا معیار ہے۔ بہت سے لوگ میزان کے ایک پلڑے میں کھڑے ہو کر خود کو حق پر سمجھ لیتے ہیں، مگر حسینؑ ہمیں سکھاتے ہیں کہ وزن نیت، کردار اور قربانی کا ہوتا ہے، دعوؤں کا نہیں۔ امام حسینؑ کی ولادت کو اگر ایک بیج کہا جائے تو اس کی آبیاری صبر، سچائی اور استقامت سے ہوئی۔ یہ بیج وقت کے ساتھ ایک ایسے شجر میں بدلتا ہے جس کی چھاؤں میں صرف عقیدت نہیں، حوصلہ بھی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حسینؑ کا ذکر صرف آنکھوں کو نم نہیں کرتا، ضمیر کو بیدار بھی کرتا ہے۔ آج کی دنیا میں، جہاں مفاد اصولوں سے بلند ہو چکا ہے اور خاموشی کو دانائی سمجھا جانے لگا ہے، امام حسینؑ کی ولادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خاموش رہ جانا ہر حال میں حکمت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات بولنا فرض، کھڑا ہونا ذمہ داری اور قربانی دینا ہی انسانیت کا اصل امتحان بن جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ امام حسینؑ کی ولادت نے صرف ایک فرد کو جنم نہیں دیا، بلکہ ایک ایسے نظریے کو پیدا کیا جو وقت، سرحد اور نسل کی قید سے آزاد ہے۔ اسی لیے حسینؑ صدیوں بعد بھی زندہ ہیں، صرف محافل و مجالس میں نہیں، انسانیت کے شعور میں۔ تین شعبان ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم امام حسینؑ کی ولادت کا ذکر محض تاریخ کے طور پر کرتے ہیں یا اپنے کردار میں بھی اس روشنی کو جگہ دیتے ہیں؛ کیونکہ حسینؑ کو ماننا آسان ہے، مگر حسینؑ جیسا بننے کی کوشش کرنا ہی اصل وفاداری ہے۔ |