معراج النبیﷺ: بلندی کا معیار

(Dr. Talib Ali Awan, Sialkot)

معراج النبیﷺ: بلندی کا معیار
تحریر: ڈاکٹر طالب علی اعوان
۔۔۔۔۔
شبِ معراج محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایمان، یقین اور انسانی عظمت کی وہ معراج ہے جہاں زمین اپنی حدوں سے نکل کر آسمانوں سے ہمکلام ہوتی ہے۔ یہ وہ رات ہے جب وقت، مکان اور مادیت اپنی گرفت کھو بیٹھتے ہیں، اور اللہ کے محبوب ﷺ کو ایسا قرب عطا ہوا جس کی مثال پوری تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔
اسلامی روایات کے مطابق، اسی مبارک رات رسولِ اکرم ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی وسعتوں تک لے جایا گیا۔ یہ سفر نہ خواب تھا، نہ محض روحانی تخیّل، بلکہ ایک معجزۂ الٰہی تھا جس نے عقلِ انسانی کو اس کی حدیں دکھا دیں اور ایمان کو نئی رفعت عطا کی۔ قرآنِ کریم اس عظیم واقعے کو یوں بیان کرتا ہے:
"سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ"
ترجمہ: "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گرد ہم نے برکت رکھی، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہی خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہےـ"
(سورۃ بنی اسرائیل: 1)
یہاں لفظ "عبدہٗ" اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بلند مقام کامل بندگی کا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی معراج، دراصل بندگی کے کمال اور نبوت کے عروج کی معراج ہے اور اسی نسبت سے امت کے لیے ایک دائمی معیار بھی ہے۔
آج کا انسان بظاہر ترقی کے کئی مدارج طے کر چکا ہے۔ علم کی وسعت، ٹیکنالوجی کی طاقت اور وسائل کی فراوانی اس کے ہاتھ میں ہے، مگر ان سب کے باوجود وہ اخلاقی اضطراب، انصاف کے زوال اور باہمی بے اعتمادی کا شکار ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان نے کائنات کو فتح کر لیا ہو، مگر خود کو ہار دیا ہو۔ شبِ معراج ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جس امت کو ایسا اعلیٰ نمونہ عطا کیا گیا ہو، اس کے لیے اخلاقی پستی سب سے بڑا سانحہ ہے۔
اگر معراج کو ایک مینار سمجھا جائے تو یہ محض روشنی نہیں، بلکہ سمت و رہنمائی کا وہ بلند پیغام ہے جو انسان کے دل و ضمیر کو جھنجھوڑ کر اس کے اخلاقی و فکری سفر کی درست جہت دکھاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے اسے صرف دیکھنے کے لیے ایک منظر بنا لیا ہے، اس کی روشنی میں اپنے اعمال، رویّوں اور اجتماعی راستوں کی اصلاح کی جرات نہیں کی۔ ہم بلندی و شان کی داستانیں دہراتے رہتے ہیں (یقیناً یہ عمل باعثِ سعادت ہے)، مگر عملی زندگی میں دیانت، عدل اور امانت کے تقاضے بوجھ محسوس ہوتے ہیں، گویا اخلاق کی زمین پر قدم رکھنا ہی ہم سے دور ہو گیا ہو۔
یہ بھی گہری معنویت رکھتا ہے کہ معراج کے سفر میں مسجدِ اقصیٰ کو شامل کیا گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ روحانی رفعت، تاریخ سے کٹ کر نہیں ملتی۔ جو قوم اپنے مقدس مقامات، مظلوموں کے زخم اور اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائے، اس کی روحانیت محض فرد کی تسکین بن کر رہ جاتی ہے، امت کی قوت نہیں بنتی۔
معراج ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ آسمان تک اٹھایا جانا اللہ کی عطا ہے، مگر زمین پر اتر کر عدل قائم رکھنا انسان کی ذمہ داری ہے۔ اگر اقتدار امانت نہ رہے، علم رہنمائی کے بجائے غرور بن جائے اور طاقت خدمت کے بجائے تسلط اختیار کر لے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے معراج کو عقیدت میں تو رکھ لیا، کردار میں نہیں اتارا۔
ہر دور کی معراج اس کے اپنے امتحان کے ساتھ آتی ہے۔ آج ہمارا امتحان یہ ہے کہ ہم سچ کو سہولت پر قربان کرتے ہیں یا اصول پر قائم رکھتے ہیں؛ ہم کمزور کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا طاقت ور کے سایے میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ معراج ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ہم کیا جانتے ہیں، بلکہ یہ پوچھتی ہے کہ ہم کیا بن رہے ہیں۔
شبِ معراج امت کے لیے فخر کا لمحہ بھی ہے اور خود احتسابی کی دعوت بھی۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نے انسان کو بلندی دکھا دی ہے، اب یہ انسان پر ہے کہ وہ زمین پر اس بلندی کا عکس بنے یا نہیں۔
شبِ معراج ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ جس امت کو آسمانوں تک کا راستہ دکھا دیا گیا ہو، اس کے لیے زمین پر کردار کی پستی سب سے بڑا زوال ہے۔
 
Dr. Talib Ali Awan
About the Author: Dr. Talib Ali Awan Read More Articles by Dr. Talib Ali Awan: 59 Articles with 108240 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.