روٹی کا روزمرہ استعمال اور صحت پر اثرات

روٹی کا روزمرہ استعمال اور صحت پر اثرات

غلام مرتضیٰ باجوہ ایوان اقتدارسے



غذائیت اور صحت کے مسائل آج کے دور میں انسانی زندگی کا لازمی حصہ بن گئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بیماریاں، جیسے ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، موٹاپا، اور ذیابیطس، نہ صرف فرد کی صحت بلکہ معاشرتی و اقتصادی صورتحال پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔ اسی سلسلے میں حال ہی میں برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق نے ایک دلچسپ اور متنازع نتیجہ سامنے رکھا ہے: روٹی کا روزمرہ استعمال بند کر دینا کئی بیماریوں سے بچاؤ اور جسمانی صحت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔یہ تحقیق ایک تجرباتی کیس کے ذریعے سامنے آئی، جس میں روزانہ روٹی کھانے کی عادت کو ترک کر کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ تجربے کی مرکزی شخصیت، روز امنڈڈین، نے ایک ماہ کے لیے مکمل طور پر روٹی کا استعمال بند کر دیا اور اپنی صحت کی جانچ کروائی۔ اس تجربے کے دوران نہ صرف جسمانی صحت میں واضح بہتری محسوس ہوئی بلکہ ذہنی سکون اور توانائی کی سطح میں بھی اضافہ ہوا۔
روز امنڈڈین کا کہنا ہے کہ روٹی کے بغیر زندگی کے ابتدائی دن مشکل تھے، خاص طور پر اتوار کے برنچ کے دوران، جب وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ناشتے پر بیٹھتی اور وہ بٹری بریڈ کے مزیدار ٹکڑوں سے لطف اندوز ہوتے۔ اس کے باوجود، ایک ماہ کا بائیکاٹ زندگی کے لیے ایک نئی بصیرت لے کر آیا۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ اگرچہ روٹی انسانی زندگی میں ہزاروں سال سے شامل رہی ہے، لیکن آج کے دور میں دستیاب الٹرا پروسیسڈ خوراک کے استعمال نے اس کی غذائی اہمیت کو کم کر دیا ہے اور بعض اوقات بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ جدید معاشرت میں الکوحل فری، شوگری فری اور سوشل میڈیا فری ہونا بھی روٹی ترک کرنے جتنا ہی مشکل ہو سکتا ہے۔ آج کے دور میں کھانے کے ثقافتی اور معاشرتی پہلو بہت اہمیت رکھتے ہیں، اور روٹی ان میں سب سے زیادہ مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ انسانی جسم کی ضرورت اور روزمرہ غذائیت کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
برطانیہ کے مشہور ڈاکٹر اور براڈکاسٹر کرس وان ٹولکن نے اپنی کتاب’’الٹرا پروسیسڈ پیپل‘‘ میں اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق پروسیسڈ اور الٹرا پروسیسڈ اشیائ کے استعمال سے جسم میں بے چینی، بے خوابی، موٹاپا، دل کی بیماریاں، ذیابیطس، اور کچھ قسم کے کینسر جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ کرس وان ٹولکن نے خود اس بات کا تجربہ کیا کہ 40 سال کی عمر میں اسٹیج 3 چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ مہینوں کی کیمو تھراپی، ریڈیو تھراپی، ماسٹیکٹومی سرجری، اور لائف اسٹائل میں تبدیلی کے بعد وہ اب صحت مند ہیں۔ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ غذائی عادات اور زندگی کے معیار میں تبدیلی مرض کی روک تھام اور صحت یابی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، برطانیہ میں تقریباً 99.8 فیصد گھرانے باقاعدگی سے روٹی خریدتے ہیں، جس میں روزانہ تقریباً 11 ملین روٹیاں فروخت ہوتی ہیں۔ اس میں سفید روٹی کل روٹی کی کھپت کا 71 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ اس رجحان سے واضح ہوتا ہے کہ روٹی انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے اور اس کے بغیر زندگی کے روزمرہ معمولات کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔ تاہم، صحت کے اعتبار سے روزانہ روٹی کے استعمال کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر الٹرا پروسیسڈ اور مصنوعی اجزائ والی روٹی کے حوالے سے۔کئی ماہرین غذائیت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ روٹی کے متبادل کے طور پر قدرتی، مکمل اناج اور کم پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہے۔ اس میں سبزیوں، پھلوں، پروٹین، اور صحت مند چکنائیوں کا مناسب امتزاج شامل ہوتا ہے۔ اس طرزِ زندگی سے نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ دل، خون، اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خطرات بھی کم ہوتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ روٹی ترک کرنے کا تجربہ صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں رہا۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اس کے اثرات ذہنی سکون، توانائی کی سطح، اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت پر بھی مرتب ہوئے۔ انسان کی روزمرہ عادات اور غذائی ترجیحات کا جسم اور دماغ پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ لہٰذا، غذائی تبدیلیاں صرف کیلوری کم کرنے یا وزن کم کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ مجموعی طور پر زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ روٹی ترک کرنے یا محدود کرنے کے دوران مناسب غذائی متبادل استعمال کرنا ضروری ہے۔ بغیر کسی متبادل کے غذائی کمی اور جسمانی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزیوں، پھلوں، دالوں، اور مکمل اناج کے استعمال سے روٹی کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے، اور صحت مند طرز زندگی قائم رہ سکتا ہے۔حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق عوام کی صحت اور غذائی حفاظت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عالمی معیار کے مطابق غذائی مشورے، صحت مند زندگی اور متوازن خوراک کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج اور تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روزمرہ غذائی عادات میں معمولی تبدیلیاں جیسے کہ روٹی کے استعمال میں کمی، مجموعی صحت اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہیں۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ روٹی کی اہمیت انسانی زندگی میں صدیوں سے رہی ہے، لیکن جدید دور میں دستیاب الٹرا پروسیسڈ اور مصنوعی اجزائ والی خوراک نے صحت پر منفی اثرات ڈالنے شروع کر دیے ہیں۔ اس لیے مناسب توازن قائم کرنا، متبادل غذائی ذرائع کا استعمال اور غذائی شعور پیدا کرنا نہایت اہم ہے۔ صحت مند زندگی کے لیے ہر فرد کو اپنے غذائی معمولات اور روزمرہ کھانے کی عادات کا جائزہ لینا چاہیے اور عالمی معیار کی تحقیق اور تجربات کو اپنے طرززندگی میں شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
طبی ماہرین کے مطابق روزانہ روٹی کے استعمال کو مکمل یا جزوی طور پر کم کرنا نہ صرف وزن اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے بلکہ مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔ جدید تحقیق اور تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ مناسب غذائی انتخاب اور زندگی کے طرز میں تبدیلی انسان کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور زندگی کے معیار کو بلند کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
Ghulam Murtaza Bajwa
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 55 Articles with 53974 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.