خلائی سیاحت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
خلائی سیاحت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
اس میں کوئی شک نہیں کہ خلاء اب محض سائنسی تحقیق یا قومی دفاع تک محدود میدان نہیں رہا بلکہ عالمی معیشت، ٹیکنالوجی اور صنعت کا ایک نیا افق بنتا جا رہا ہے۔ جدید دنیا میں خلائی سرگرمیوں کو اقتصادی ترقی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مستقبل کی صنعتوں سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں چین نے اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران خلائی ترقی کے نئے شعبوں میں پیش رفت کے واضح اہداف کا اعلان کیا ہے، جو اس بات کی علامت ہیں کہ چین خلائی معیشت میں زیادہ جامع اور ہمہ جہت کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
چین کی ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران خلائی ترقی کے کئی نئے محاذوں کی منصوبہ بندی اور فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ ان میں خلائی سیاحت، خلائی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، خلائی وسائل کی ترقی اور خلائی ٹریفک مینجمنٹ جیسے ابھرتے ہوئے شعبے شامل ہیں۔ اس وژن کو ’’اسپیس پلس‘‘ منظرناموں کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد روایتی خلائی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر تجارتی اور صنعتی استعمال کو فروغ دینا ہے۔ خلائی سیاحت کے شعبے میں چین کا ہدف یہ ہے کہ ذیلی مداری اور مداری خلائی سیاحتی گاڑیوں کی تیاری کے عمل کو تیز کیا جائے۔ اس ضمن میں بغیر انسان اور انسان بردار پروازوں کی تصدیق مکمل کرنے اور ایک جامع خلائی سیاحتی آپریشنل نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں باقاعدہ ذیلی مداری خلائی سیاحت کی پروازوں کا آغاز مقصود ہے، جبکہ طویل المدت بنیادوں پر مداری خلائی سیاحت کی جانب بتدریج پیش رفت کی جائے گی۔
خلائی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے حوالے سے چین گیگا واٹ سطح کے خلائی ڈیجیٹل نظام کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے تحت ایک نیا مربوط خلائی نظام تشکیل دیا جائے گا، جس میں کلاؤڈ، ایج اور ٹرمینل ٹیکنالوجیز کو یکجا کیا جائے گا۔ اس نظام کا مقصد کمپیوٹنگ پاور، ڈیٹا اسٹوریج اور ترسیل کی صلاحیتوں کو گہرے طور پر مربوط کرنا ہے، تاکہ خلاء میں ڈیٹا پراسیسنگ اور زمین و خلاء کے مابین مشترکہ کمپیوٹنگ کو مؤثر بنایا جا سکے۔
خلائی وسائل کی ترقی کے شعبے میں ایک بڑے ’’تھیان گونگ کائی وو‘‘ منصوبے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے تحت خلائی وسائل کی جامع تجرباتی ترقی اور زمینی معاون نظاموں کی تعمیر پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سیارچوں سے وسائل کی تلاش، ذہین خودکار استخراج، کم لاگت نقل و حمل اور مدار میں پراسیسنگ جیسی کلیدی ٹیکنالوجیز کی تیاری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ ان اقدامات کا مقصد مستقبل میں خلائی وسائل کے عملی اور صنعتی استعمال کی بنیاد رکھنا ہے۔
خلائی ٹریفک مینجمنٹ کے میدان میں بھی چین اہم پیش رفت کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس ضمن میں خلائی ملبے کی نگرانی، پیشگی انتباہ اور اس کے خاتمے سے متعلق کلیدی ٹیکنالوجیز کو ترقی دی جائے گی۔ ان اقدامات کا مقصد خلائی انفراسٹرکچر کے محفوظ آپریشن کو یقینی بنانا اور خلائی ٹریفک کے انتظام سے متعلق بین الاقوامی ضوابط کی تشکیل میں چین کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔
مجموعی طور پر یہ منصوبے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین عالمی خلائی معیشت میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کے لیے روایتی خلائی پروگراموں سے آگے بڑھتے ہوئے تجارتی، صنعتی اور ڈیجیٹل اطلاق پر بھرپور توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
چین کی جانب سے خلائی ترقی کے نئے شعبوں میں پیش رفت کے یہ منصوبے اس بدلتے ہوئے عالمی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں جس میں خلاء کو مستقبل کی معیشت اور ٹیکنالوجی کا اہم ستون سمجھا جا رہا ہے۔ خلائی سیاحت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، وسائل کی ترقی اور ٹریفک مینجمنٹ جیسے اقدامات نہ صرف چین کی خلائی صلاحیتوں کو وسعت دیں گے بلکہ عالمی خلائی نظام میں نظم، تحفظ اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیں گے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران یہ حکمتِ عملی چین کو خلائی معیشت کے ایک زیادہ جامع اور فعال کردار کی جانب لے جاتی دکھائی دیتی ہے۔ |
|