چین میں صحت کا جدید نظام
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین میں صحت کا جدید نظام تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں صحتِ عامہ کا نظام گزشتہ برسوں میں نمایاں تبدیلیوں اور اصلاحات کے مرحلے سے گزرا ہے۔ آبادی کے حجم، معاشرتی تقاضوں اور صحت سے متعلق بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر حکومت نے صحت کے شعبے کو قومی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ 14ویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے دوران کیے گئے اقدامات نے نہ صرف طبی سہولیات کے دائرہ کار کو وسعت دی بلکہ بنیادی صحت کے نظام کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کیں، جن پر آئندہ مرحلے میں مزید جامع اصلاحات کی جا رہی ہیں۔
چائنا نیشنل ہیلتھ ڈیولپمنٹ ریسرچ سینٹر کے مطابق 14ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین نے بیماریوں کی روک تھام، طبی انشورنس اور صحت کی خدمات کے نظام میں اہم پیش رفت کی ہے۔ اس عرصے میں اسپتالوں کی مجموعی استعداد اور بنیادی صحت کے اداروں کی خدمات میں نمایاں بہتری آئی، جس کے نتیجے میں دنیا کا سب سے بڑا طبی خدمات اور طبی تحفظ کا نظام قائم ہو چکا ہے۔ اگرچہ معیار اور کارکردگی میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے، تاہم نظام کی وسعت اور تنظیم عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہے۔
بنیادی سطح پر"15 منٹ طبی خدمات دائرہ" اس ترقی کی ایک نمایاں مثال ہے، جس کی کوریج اب 90 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں شہری اور دیہی آبادی کو پیدل 15 منٹ کے اندر کسی نہ کسی طبی ادارے تک رسائی حاصل ہے۔ اسی طرح بچوں کی نگہداشت سے متعلق خدمات، جو ماضی میں تقریباً ناپید تھیں، اب بتدریج قائم ہو چکی ہیں اور کئی علاقوں میں یہ سہولیات کمیونٹی ہیلتھ مراکز اور بنیادی طبی اداروں کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین میں اوسط متوقع عمر 79 برس تک پہنچ گئی، جبکہ شیر خوار اور زچہ اموات کی شرح ترقی یافتہ ممالک کے مساوی سطح پر آ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں صحت سے متعلق اشاریوں کے لحاظ سے چین کی مجموعی درجہ بندی نسبتاً بہتر رہی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صحت کے شعبے میں کی جانے والی منظم ترقی نے معاشی سطح سے بڑھ کر نتائج دیے ہیں۔
اسی مدت کے دوران چین نے کووڈ-19 جیسی سنگین ترین وبا کا سامنا کیا اور بڑے پیمانے پر آبادی ہونے کے باوجود نسبتاً تیزی سے اس بحران سے نکلنے میں کامیاب رہا۔ مزید برآں، صحت کے شعبے میں قانونی اصلاحات بھی کی گئیں، جن میں متعدی بیماریوں کی روک تھام، عوامی صحت کے ہنگامی حالات، معالجین کے قانونی حقوق اور بنیادی طبی خدمات سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
تاہم اس پیش رفت کے باوجود، صحت کے نظام کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ طبی خدمات کی فراہمی میں اضافہ عوامی طلب کے معیار اور رفتار کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ دیہی اور قصباتی علاقوں میں آبادی میں کمی کے باعث زیادہ تر بزرگ اور بچے رہ گئے ہیں، جبکہ ان علاقوں میں طبی ضروریات کم ہونے کے بجائے مزید مرتکز ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال نے بنیادی صحت کے نظام پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
آبادی میں تیزی سے بڑھاپا آنے کے ساتھ دائمی امراض اور ایک سے زائد بیماریوں کا پھیلاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ علاج کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، تاہم تشخیص، بحالی اور طویل المدتی نگہداشت پر مشتمل جامع اور مریض مرکوز خدمات اب بھی ناکافی ہیں۔ بحالی نرسنگ اور طویل المدتی نگہداشت کی طلب موجود ہے، لیکن مالی وسائل کی محدودیت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
ان چیلنجز کے پیش نظر 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے لیے "اعلیٰ معیار اور مؤثر مربوط خدماتی نظام" کو ایک اہم سمت قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت شہروں یا اضلاع کو بنیادی اکائی بنایا جائے گا، جبکہ کاؤنٹی سطح کے طبی نیٹ ورکس، شہری طبی گروپس، مخصوص بیماریوں کے اتحاد اور ٹیلی میڈیسن کے نظام کے ذریعے ادارہ جاتی رکاوٹوں کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ساتھ ہی طبی انشورنس کے ادائیگی کے طریقہ کار میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ وسائل کے بہتر استعمال اور نظامی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
آبادیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال آئندہ پالیسیوں کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔ زچگی کی صلاحیت کے تحفظ، ابتدائی حمل کی نگہداشت، معاون تولیدی ٹیکنالوجیز کو طبی انشورنس میں شامل کرنے، اور بچوں کی نگہداشت کی خدمات کو وسعت دینے جیسے اقدامات پر کام جاری ہے۔ اسی طرح بزرگوں کے لیے بحالی، نرسنگ اور طویل المدتی نگہداشت کے وسائل میں اضافہ اور لانگ ٹرم کیئر انشورنس کو فروغ دینا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔
مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ طبی شعبے میں انسانی معالج کا کردار مرکزی حیثیت رکھے گا، جبکہ مصنوعی ذہانت معاون ٹیکنالوجی کے طور پر ڈیٹا کے بہتر استعمال اور بنیادی سطح پر صلاحیتوں کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔
حقائق کے تناظر میں 14ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کے صحت کے نظام نے نمایاں استحکام اور توسیع حاصل کی، جبکہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں اصلاحات کا رخ معیار، ہم آہنگی اور انسانی ضروریات کے گرد مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ بزرگوں اور بچوں کی نگہداشت، بنیادی صحت کے استحکام اور ٹیکنالوجی کے محتاط استعمال کے ذریعے چین ایک ایسے صحت کے نظام کی تشکیل کی کوشش کر رہا ہے جو نہ صرف موجودہ تقاضوں کو پورا کرے بلکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ |
|
Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.