کالم: عالمی حفاظتی ٹیکہ کاری: دفاتر سے نکل کر کمیونٹی تک پہنچنے کی ضرورت.
مصنف: یعقوب زرداری پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ / ڈیجیٹل ہیلتھ ماہر
ہر سال عالمی حفاظتی ٹیکہ کاری ہفتہ کے موقع پر ملک بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے سیمینارز، ورکشاپس، پریزنٹیشنز اور بریفنگ سیشنز منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد صحت کے شعبے سے وابستہ عملے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، پالیسیوں پر گفتگو کرنا اور حفاظتی ٹیکہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ بلاشبہ، اس نوعیت کی دفتری سرگرمیاں کسی بھی صحت کے نظام کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دفتروں کے اندر ہونے والی تقریبات واقعی عوام کے رویوں اور عملی اقدامات میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوتی ہیں؟ سندھ کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ مسئلہ صرف آگاہی کی کمی تک محدود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی علاقوں میں لوگ حفاظتی ٹیکہ کاری کے بارے میں معلومات رکھنے کے باوجود اپنے بچوں کو ویکسین نہیں لگواتے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، نظام پر اعتماد کی کمی، اور بعض اوقات غلط فہمیاں اور افواہیں شامل ہیں۔ ایسے پس منظر میں کمیونٹی سطح پر ہونے والی سرگرمیاں زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ جب صحت کی خدمات براہ راست لوگوں کے محلوں، دیہات اور گھروں تک پہنچتی ہیں تو نہ صرف سہولیات آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی بڑھتا ہے۔ مقامی سطح پر ہونے والی میٹنگز، آگاہی مہمات اور آؤٹ ریچ کیمپس لوگوں کو سوال کرنے، خدشات ظاہر کرنے اور ان کے فوری جوابات حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ کمیونٹی پر مبنی سرگرمیوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ نظریہ سے زیادہ عمل پر زور دیتی ہیں۔ ان مہمات کے دوران والدین اپنے بچوں کو وہیں ویکسین لگوا سکتے ہیں، رہ جانے والے بچوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے اور انہیں فوری طور پر حفاظتی ٹیکہ کاری کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی مذہبی، سماجی اور برادری کے رہنماؤں کی شمولیت سے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے، جو کسی بھی صحت پروگرام کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کے برعکس، دفتری سیمینارز اور اجلاس اکثر محدود افراد تک ہی محدود رہ جاتے ہیں۔ اگر ان میں کیے گئے فیصلے اور تیار کی گئی حکمت عملیاں مؤثر انداز میں میدان تک نہ پہنچیں تو ان کا اثر بھی محدود رہ جاتا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ پالیسی سازی اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کو کم کیا جائے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دفتری سرگرمیاں حکمت عملی بنانے اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے اہم ہیں، لیکن اصل نتائج تب ہی حاصل ہوتے ہیں جب ان حکمت عملیوں کو کمیونٹی کی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے۔ آج کے دور میں جب دنیا بیماریوں کی روک تھام پر زور دے رہی ہے، سندھ جیسے علاقوں میں کمیونٹی کو مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اگر ہم واقعی حفاظتی ٹیکہ کاری کی شرح میں اضافہ چاہتے ہیں تو ہمیں دفتروں کی حدود سے نکل کر عوام تک براہ راست پہنچنا ہوگا۔ آخرکار، عوامی صحت میں کامیابی کا پیمانہ اجلاسوں کی تعداد نہیں بلکہ بچائی گئی جانیں ہوتی ہیں۔ |