ہیٹ ویو کا قہر، کراچی بے سہارا — حکومتی اقدامات کا فقدان

(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)


*از قلم : محمد ارسلان شیخ*
کراچی، جو ملک کا سب سے بڑا اور مصروف ترین شہر ہے، آج شدید گرمی کی لہروں (ہیٹ ویوز) کی لپیٹ میں ہے۔ درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے، مگر افسوس کہ اس صورتحال میں جہاں دنیا کے دیگر ممالک اپنے شہریوں کو سہولیات فراہم کرتے ہیں، وہیں کراچی کے عوام بنیادی ضروریات سے بھی محروم دکھائی دیتے ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں ہیٹ ویو کے دوران فوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ہسپتالوں میں خصوصی ہیٹ اسٹروک وارڈز قائم کیے جاتے ہیں، ایمبولینس سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا جاتا ہے، اور شہریوں کے لیے کولنگ کیمپس اور ریلیف سینٹرز بنائے جاتے ہیں۔ عوام کو ٹھنڈا پانی، طبی امداد اور آرام کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
لیکن کراچی کا منظر اس کے برعکس ہے۔ یہاں شدید گرمی کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ کر دیا جاتا ہے، پانی کی فراہمی محدود ہو جاتی ہے، اور گیس کی بندش بھی عروج پر ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں عام شہری کس طرح اس کڑی آزمائش کا سامنا کرے، یہ ایک بڑا سوال ہے۔
مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سرکاری سطح پر نہ تو ریلیف کیمپس قائم کیے جاتے ہیں اور نہ ہی مناسب طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ایمبولینس سروسز، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، سرکاری سطح پر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی ایمبولینسز اور کیمپس اگر کہیں نظر آ بھی جائیں تو وہ ناکافی ہوتے ہیں اور ہر علاقے تک نہیں پہنچ پاتے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک بلکہ لمحہ فکریہ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب دنیا کے دیگر ممالک اپنے شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ کیا ہمارے شہری اس سہولت کے مستحق نہیں؟
حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کرے۔جن میں کولنگ کیمپس کا قیام، ہسپتالوں میں خصوصی سہولیات، ایمبولینس سروسز کی بہتری اور بجلی و پانی کی بلا تعطل فراہمی شامل ہیں۔
کراچی کے عوام کو ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور اب وقت آ چکا ہے کہ یہ ذمہ داری نبھائی جائے۔
اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ خاموشی کل کسی ماں کے لال، کسی باپ کے سہارے اور کسی گھر کے چراغ کو بجھا سکتی ہے۔ یہ صرف گرمی کی شدت کا مسئلہ نہیں، یہ انسانی جانوں کے تحفظ کا سوال ہے۔ حکمرانوں کو سمجھنا ہوگا کہ اعداد و شمار سے بڑھ کر ہر جان قیمتی ہے، اور عوام کو بنیادی سہولیات دینا کوئی احسان نہیں بلکہ آئینی و اخلاقی فرض ہے۔ کراچی کے باسی اب محض وعدوں نہیں بلکہ عملی اقدامات کے منتظر ہیں—ایسے اقدامات جو انہیں اس جھلستی گرمی میں جینے کا حق دے سکیں۔ اب بھی وقت ہے، ورنہ تاریخ اس غفلت کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ 

Disclaimer: All material on this website is provided for your information only and may not be construed as medical advice or instruction. No action or inaction should be taken based solely on the contents of this information; instead, readers should consult appropriate health professionals on any matter relating to their health and well-being. The data information and opinions expressed here are believed to be accurate, which is gathered from different sources but might have some errors. Hamariweb.com is not responsible for errors or omissions. Doctors and Hospital officials are not necessarily required to respond or go through this page.

Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 35 Articles with 10216 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.