وقت کبھی رشوت نہیں لیتا

وقت جب فیصلہ کرتا ہے تو تاریخ نہیں ملتی

وقت کبھی رشوت نہیں لیتا۔
جی بالکل وقت کبھی رشوت نہیں لیتا بلکہ وقت ہی ایسا مصور ہے جو دنیاکی شاہکار تصاویر بناتا ہے ۔وقت کو مواد اور تخیل ہم خود فراہم کرنے ہیں ۔
میں اگر اپنے اس پاس کی بنائی ہوئی وقت کی شاہکاریوں کا ذکر کروں تو میری اپنی بستی میرے شہر میرے علاقے میں ڈھیروں ایسی کہانیاں ہیں جو وقت نے لکھی ہیں اور جن کا ثانی نہیں ملتا۔
ان کہانیوں میں نہ تو کوئی کمی ہے نہ مبالغہ آرائی ۔عدالتوں میں فیصلے بحث مباحثوں اور جھوٹے سچے دلائل کے بعد پیسے اور سیاسی اثرورسوخ کے زیر اثر سنائیں جاتے ہیں لیکن وقت ایسا منصف ہے جو خاموشی سے فیصلہ سنا دیتا ہے
وقت کو نہ مدعی سے شغف ہوتا ہے نہ ملزم سے لالچ نہ ہتھوڑے کا آرڈر نہ جج کی کرسی آنے جانے کا خدشہ مگر فیصلہ ایسا جو نشان عبرت بنا دے جو نسلوں تک یاد رکھا جائے ۔
عام طور پہ ہم جیل قید یا موت کو ہی سزا سمجھتے ہیں لیکن حقیقی سزا وہ ہے جو کسی کے نام منصب یا خانوادے سے منسوب ہوجاے ۔اسلام آباد کے ایک اثرورسوخ والے خاندان کے نوجوان نے سمجھا شاید پیسے کے بل پہ اس ملک میں کچھ بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا اور اس کے خاندان کا نام کس طرح پورے ملک میں تماشہ بن کررہ گیا پوری دنیا نے دیکھا ۔
ایک مذہبی استاد جسے لوگ روحانی رہنما سمجھتے تھے اپنے ہی کردار کے بوجھ تلے گر گیا۔ عزت کا لباس سب سے نازک ہوتا ہےایک داغ پورا وجود ننگا کر دیتا ہے۔
رشوت لینے والا افسر جب پہلی بار پیسہ لیتا ہے تو اسے لگتا ہے قسمت کھل گئی۔ میز کے نیچے سے آنے والی رقم اسے ترقی لگتی ہے مگر حقیقت میں وہ اپنے انجام کی پہلی اینٹ رکھ رہا ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے معاشرے میں دولت دکھاوے اور ریاکاری کو عزت کی کسوٹی سمجھ لیا گیا ہے ۔مگر پھر ایک وقت آتا ہے محفلوں میں مثال دے کر برے انجام سے ڈرایا جاتا ہے ۔ دوست رشتے دار خاموشی سے فاصلے بنا لیتے ہیں ۔
بچے سکول کالجز میں نظریں جھکا جاتے ہیں ۔اندرونی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ ہر فون کال پہ لگتا ہے کوئی انکوائری نہ ہو ۔دستک پہ دل دھڑکتا ہے ۔افسران کی بے جا خوشامد کرنا پڑتی ہے ۔
جرم کے بعد پکڑا جانا سزا نہیں ہے ۔ بلکہ سزا یہ ہے کہ کسی جرم سے وقت کسی کو منسوب کردے ۔مالی ذہانت بغیر دیانت داری معاشرے اور خاندان کی اجتماعی بربادی بن جاتی ہے ۔
ہاروی وائن اسٹین ہالی ووڈ فلم انڈسٹری کا طاقتور ترین پرڈیوسر اور مالدار ترین اور عزت دار شخص سمجھا جاتا تھا لیکن جب وقت نے اسے سزا سنائی تو اس کا کردار اور کرتوت کھل کر عوام میں سامنے آۓ۔
متعدد آسکر ایوارڈ اپنے نام کرنے والے اس امیرزادے پر متعدد عورتوں نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگاۓ جو سچ ثابت ہوۓ اور پھر اس کا انجام پوری دنیا نے دیکھا۔
"می ٹو" عورتوں سے جنسی ہراسانی کی تحریک کی علامت بن جانے والے ہاروی وائن اسٹین کو نہ صرف عدالت سے سزا ہوئی بلکہ کیرئیر ختم ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا اپنا وجود بھی ناپید ہوگیا۔
وقت کا گرداب آہستہ چلتا ہے مگر اس کی پکڑ بہت مضبوط اور تکلیف دہ ہے وقت جب پکڑتا ہے تو عروج دولت شہرت کچھ کام نہیں آتا۔
برنی میڈوف امریکہ کا بہت بڑا سرمایہ دار تھا ۔جس نے عربوں کا فراڈ کیا لوگوں کی عمر بھر کی کمائی ہڑپ کر گیا جب اس کے بیٹے کو پتہ چلا کہ اس کا باپ فراڈیا جعلساز اور برا انسان ہے تو اپنے باپ کے گناہ کے بوجھ کو اٹھا نہ سکا اور خودکشی کرگیا ۔
برنی میڈوف کو جیل ہوئی دولت ساکھ اولاد سب ختم ہوگیا ۔
لانس آرمسٹرانگ جھوٹی عظمت کے شاہکار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہ ایک سائیکلسٹ تھا جس نے سینکڑوں اعزازات اپنے نام کیے۔ سائیکلنگ کا آئی کان تصور کیا جانے والا لانس آرمسٹرانگ حقیقت میں دھوکہ باز تھا۔ ڈوپنگ سے دوسروں کو شکست دیتا اور پھر وقت نے اسے ننگا کردیا تمام ایوارڈ اور اعزاز واپسلے لیے گئے۔عزت ساکھ کیرئیر سب خاک میں مل گئے اور پھر تاحیات پابندی کے بعد گمنامی میں چلا گیا ۔
آخرکار انسان اپنے اعمال کا اشتہار خود بن جاتا ہے۔ وقت نہ چیختا ہے نہ دھمکاتا ہے نہ وارننگ دیتا ہے۔ وہ بس ریکارڈ رکھتا رہتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں ہم بچ گئے معاملہ دب گیا پیسہ بول گیا اثر چل گیا مگر وقت کی فائل کبھی بند نہیں ہوتی۔ ایک دن اچانک پردہ ہٹتا ہے اور انسان اپنے ہی بنائے ہوئے انجام کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔
اس لمحے نہ وکیل کام آتا ہے نہ تعلق نہ طاقت۔ صرف کردار بولتا ہے۔ جرم کی سب سے بڑی سزا جیل نہیں بدنامی نہیں بلکہ یہ ہے کہ وقت تمہارا نام عبرت کی مثال بنا دے۔
اور جب وقت مثال بناتا ہے تو نسلیں حوالہ دیتی ہیں۔ عدالتوں میں تاریخیں پڑتی ہیں وقت کی عدالت میں صرف فیصلہ سنایا جاتا ہے۔
تحریر باباجیونا

 

baba jeevna
About the Author: baba jeevna Read More Articles by baba jeevna: 3 Articles with 429 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.