شاباش مریم نواز شاباش سہیل ظفر چٹھہ
(baba jeevna بابا جیونا, dist bwp tehsil hasilpur)
| سی سی ڈی کاقیم اور 2024.25 میں جرائم کی شرح کاتقابلی جائزہ |
|
|
شاباش مریم نواز شاباش سہیل ظفر چٹھہ ۔ سی سی ڈی کاقیام اور سال 2024/25 میں جرائم کی شرح کاتقابلی جائزہ وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کا ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کی سربراہی میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا انعقاد ایک زبردست تجربہ ٹابت ہوا ۔ پنجاب میں سات سو تھانے دولاکھ پولیس کی نفری جوکام نہ کرسکی وہ پانچ ہزار سی سی ڈی اہلکاروں نے کر دکھایا۔صادق آباد سے اٹک تک سی سی ڈی کے نام سے ایک تسبیح تیار کی گئی جس کا ہر ہر دانہ ایک قیمتی موتی ہے اور ہیرا ہے۔ قانون سازی کی گئی اٹھارہ بی کو حذف کرکے اٹھارہ سی بنایا گیا بعد ازاں پنجاب اسمبلی سے اس قانون کی منظوری لےکر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ مکمل اختیارات کے ساتھ میدان عمل میں اتارا گیا ۔ اس کامیاب ترین فورس کے بنانے میں جہاں سہیل ظفر چٹھہ صاحب کی شبانہ روز محنت اور کرائم فائٹر سوچ کا عمل دخل ہے وہیں انتہائی ایماندار اور کمیثڈ پولیس افسران و جوانوں کا انتخاب بھی قابل ستائش عمل ہے ۔ سی سی ڈی کے قیام کے بعد ڈکیتی چوری اور قتل سمیت دیگر جرائم میں واضح کمی آئی ہے ۔ 7 ماہ میں سی سی ڈی کی کارروائیوں سے پراپرٹی سے متعلق جرائم 64 فیصد کم ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈکیتی اور قتل کے واقعات میں بھی 60 فیصد کمی دیکھی گئی 2024 میں ڈکیتی کے 792 اورسال 2025 میں 324 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ ڈکیتی کے کیسز کی شرح میں 69 فیصد کمی آئی۔ مزیدبرآں راہزنی کے واقعات 41 ہزار سے کم ہو کر 18 ہزار608 رہ گئے جس میں 62 فیصد کمی ہوئی جب کہ گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 64 فیصد کار چوری کے واقعات میں 60 فیصد اور موٹرسائیکل چھیننےکے واقعات میں9754 سےکم ہوکر4628 رہ گئے ان میں 53 فیصد کمی ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈکیتی بمعہ قتل کے کیسز 170 سے کم ہو کر 96ہوئے جس میں 60 فیصد کمی دیکھی گئی سی سی ڈی آپریشنز میں ایک سب انسپکٹر شہید اور 96 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ سی سی ڈی پر الزامات سوشل میڈیا افواہوں پر مبنی ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں سی سی ڈی تمام جرائم پیشہ عناصر کیخلاف بلاتفریق کارروائیاں کرتی ہے گرفتاریوں شفاف تفتیش اورقانونی تقاضوں کے مطابق پراسیکیوشن یقینی بنائی جاتی ہے۔ پنجاب میں گینگ وار اور گینگسٹرز مکمل طور پر ناپید ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ مافیاز سمگلرز بھتہ خور قبضہ گروپ اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکے ہیں یا روپوش ہوگئے ہیں ۔اسلحہ کی نمائش ڈالہ کلچر ہراسمنٹ بدامنی کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے ۔خاندانی دشمنیاں رکھنے والوں کو صلح کی یا ملک چھوڑنے کی تجاویز دی جاچکی ہیں ۔ سکول کالجز یونیورسٹیز میں منشیات کا دھندہ عروج پر پہنچ چکا تھا۔آئس اور کوکین کی لعنت نوجوان نسل کو تباہی کے دھانے پر لے آئی تھی ہمہ قسم کا نشہ اب مکمل طور پہ ختم ہو چکا ہے ۔ بلکہ کچھ شہروں اور اور علاقوں میں سی سی ڈی نے اعلانات کرواۓ ہیں سوشل میڈیا کمپین چلائی گئی ہے کہ منشیات خرید کر یا خرید کرواکر لانے والے کو انعام دیاجاۓ گا ۔اور منشیات فروشوں کے بارے اطلاع دینے والے کی شناخت راز رکھی جاۓ گی ۔ گلی محلوں میں چوک چوراہوں میں اوباش لڑکوں کے جھرمٹ ختم ہوچکے ہیں۔راہ چلتی خواتین اور بچیوں کے پرس اور موبائل چھینے جانے کے واقعات میں واضح کمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ سکول کالجز اور ایسے مقامات جہاں خواتین اور بچیوں کا آناجانا ہوتا ہے وہاں ہراسمنٹ کے واقعات بالکل ختم ہوچکے ہیں۔ سی سی ڈی کے قیام کے بعد سے اب تک عرصہ سات ماہ میں منشیات فروش چور ڈاکو راہزن لٹیرے یا تو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے یا زخمی ہوگئے یا سرپہ قران اٹھاے مساجد میں معافیاں مانگتے جرائم سے توبہ کا حلف اٹھاتے جان بخشی کی بھیک مانگتے دکھائی دیے ہیں۔سی سی ڈی کے اختیارات اور کام میں سیاسی مداخلت ذاتی پسند ناپسند کسی وابستگی کا سرے سے کوئی امکان نہیں ۔ آر اوز کو تمام رینجزمیں مکمل اختیارات کے ساتھ متعین کیاگیا ہے ۔ سی سی ڈی میں جوانوں افسران و اہلکاروں کے لیےجزاسزا کا نظام بھی بڑا واضح اور شفاف ہے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ عوامی سروے کے بعد یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اگر اسی طرح سی سی ڈی کو عوامی تعاون اور اعتماد حاصل رہا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کو کرائم فری زون کہا جاسکے گا۔ وہ دن دور نہیں جس دن ایک خاتون سر پہ سونے کا تھال لیکر اکیلی گھر سے نکلے گی اور پورا پنجاب گھوم کر واپس گھر پہنچے گی اور اس کے پاس موجود سونا جوں کا توں اس کے پاس موجود ہوگا انشااللہ ۔تحریر باباجیونا |
|