ڈاکٹر مقصود احمد عاجز ___ فیصل آباد کی نعت گوئی کی کہکشاں کا روشن ستارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

ڈاکٹر مقصود احمد عاجز ___ فیصل آباد کی نعت گوئی کی کہکشاں کا روشن ستارہ۔۔۔۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

ڈاکٹر مقصود احمد عاجز ___ فیصل آباد کی نعت گوئی کی کہکشاں کا روشن ستارہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

ڈاکٹر مقصود احمد عاجز کا حوالہ نعت گوئی ہے ۔ آپ ۳ جنوری ۱۹۵۳ء کو فیصل آباد میں ملک فتح محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ہوزری کا کام کرتے تھے۔ انھوں نے میٹرک کا امتحان ۱۹۷۰ء میں پاس کیا ۔ ۱۹۷۷ء میں بی۔اے اور ۱۹۸۳ء میں ایم۔ اے کا امتحان پرائیویٹ اُمیدوار کی حیثیت سے پاس کیا۔ ۱۹۷۳ء میں آپ نے ایوب ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فیصل آباد سے بطور ایسوسی ایٹ ایڈیٹر اپنی سروس کا آغاز کیا اور بطور ورڈ پراسیسنگ آفیسر انفارمیشن برانچ ایوب تحقیقاتی ادارہ سے ۲۰۱۴ء کو ریٹائر ہوئے۔ انھوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور محمد افضل خاکسار کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا ۔ ایک نعتیہ مجموعہ ‘‘وسیلہ بخشش’’ منظر عام پر آیا۔
ڈاکٹر مقصوداحمد عاجز اپنی نعتیہ شاعری کا آغاز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حلیہ شریف سے کرتے ہیں اور ردیف چہرہ میں نہایت شاندار اشعار کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس میں نہایت خوب صورت تراکیب بناتے ہیں۔ گل بہشت بریں، نرم عارض بہ مثل ریشم، ہونٹ برگ گلاب ِ نازک، دانت جیسے چمکتے موتی، دراز پلکیں، جبیں کشادہ، تازہ شباب چہرہ، ابروئے پیچ دار ترکش، غزال آنکھیں سیاہ، جمال میں جمیل تر ، مبین روشن کتاب چہرہ، زیرحجاب چہرہ، ماہ تاباں، جانِ جاناں ، غموں کا درماں، دکھوں کا دارو، کیا کیا خوبیاں بیان کرد ی ہیں۔ اس سراپا نگاری کی اعلیٰ مثال میں ڈاکٹر مقصود احمد عاجز کا فن اپنے عروج کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے۔ شاعر خود کشکول چشمِ حسرت اٹھائے خیرات دیدگی گدائی کرتا ہے۔ اسی طرح میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نعتیں ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دُنیا میں آمد کے حوالے سے خوب صورت شعر کہے ہیں۔ آمدِ مصطفی ؐکی پہلی نعت میں بے سہاروں، غم کے ماروں ، جاں نثاروں، چاند تاروں، نوبہاروں اور دل فگاروں کو مبارک باد دی گئی ہے۔
عاجزؔ کی بعض نعتیں غزل مسلسل کا سا فکری آہنگ رکھتی ہیں۔ یعنی ایک خیال، جذبہ، کیفیت اور صورتِ حال کی تفصیلات کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اگرچہ ان کا بڑا حصہ غزل کی صنف میں ہے جو معنوی ریزہ کاری کی عکاس صنف ہے لیکن جب نعت غزل کی صنف میں لکھی جاتی ہے (اور فی زمانہ نعت کا قریباً ۹۰ فی صد حصہ غزل ہی کی صنف میں تخلیق ہو رہا ہے ) تو جذبات کے انسلاک اور تسلسل کی پیدا کا پیدا ہونا فطری بات ہے۔ ایسی نعتوں میں مقصود احمد عاجز کی ردیفیں نعت کے مفاہیم کو تسلسل بخشتی ہیں اور نعت کی ردیف اشعار کو ایک فکری وحدت میں پرو دیتی ہے۔
اُن کی نسبت کبھی ایسا نہیں ہونے دیتی
بے خیال شہہِ والا نہیں ہونے دیتی(۱۸۴)
نعت ڈاکٹر مقصود احمد عاجز کے لیے بخشش کی ضمانت ہے اور ان کے قلم و قرطاس کی طہارت ہے۔ نعت محض صنفِ سخن ہی نہیں ان کے لیے ایک ورد ہے، وظیفہ ہے اور نعت بمنزلہ درود شریف کی اردو شاعری کی شکل ہے۔ نبیؐ کے شہر کی آب وہوا ان کے لیے مہمیز ثابت ہوئی جو تجلیوں کی انتہا ہے ۔ وہ اس ایک گلشن رنگین فضا میں رہنا چاہتے ہیں۔ جہاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مدحت کے پھول کھلتے ہیں۔ انھیں ضیائے شمس و قمر سے بھی کوئی غرض نہیں وہ صرف اور صرف رخ والضحیٰ میں رہنا چاہتے ہیں۔ وہ خود کو یومِ حشر کی تپش سے بچانے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زلفِ دوتا کے سایہ میں رہنا چاہتے ہیں۔وہ بوقتِ نزع بھی لبوں پر حرف ثنا ہونے کے تمنائی ہیں۔ اسی لیے وہ تمام عمر نعت و مدحت کی التجا میں رہنا چاہتے ہیں۔ ان کی نعتوں کی عناصر ترکیبی میں حاضری کی تمنا، امید حضوری، نویدِ حضوری، اذنِ حاضری، آرزوئے مدینہ ، حاضری کی طلب، بوقتِ نزع ثنا کا لب پہ ہونا اور آل رسولؐ سے عقیدت شامل ہیں۔ مدینہ کی حاضری ان کی دُعاؤں کا ثمر بھی بے حاصل بھی۔ وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ سے شہرِ نبیؐ کی حاضری مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کی آرزو یہی ہے کہ وہ نعتیں سنتے سنتے ہی وقتِ آخرت بھی گزر جائیں۔ ان کے جنازے پر بھی نعت پڑھی جائے ۔ لحد میں نکیرین کے سوالوں کے جوابمیں بھی وہ انھیں نعت سُنا دیں گے۔ قبر کے اندھیروں میں روشنی کے لیے بھی نعت نبیؐ اور یادِ محمدؐ کام آئے گی۔ وہ کتنے خوش بخت اور خوش عقیدہ نعت گو شاعر ہیں جو ان حسین خیالوں کا اظہار کر رہے ہیں:
بوقتِ نزع بھی عاجزؔ کے ہو لبوں پہ ثنا
تمام عمر اُسی التجا میں رہنا ہے(۱۸۵)
وہ للکار کر اور پکار پکار کر اسی نسبت کا اظہار کرتے ہیں جو انھیں توانا رکھتی ہے۔ان کی نعتیں عجز اسلوب سادگی لیے ہوئے ہیں۔
ایک نعتیہ شعری مجموعہ " وسیلہ بخشش ٗ منظرِ عام پر لے آئے اور اب دوسرا نعتیہ مجموعہ " امیدِ بخشش "سامنے لا رہے ہیں۔
ان کے نعتیہ مجموعہ " امیدِ بخشش " کا آغاز حمدیہ شاعری سے ہوا ہے ۔ پہلی حمد ہے
ہے تو سب کا خالق کبریا تجھے حمد ہے تجھے حمد ہے
نہیں کوئی بھی کہیں دوسرا تجھے حمد ہے تجھے حمد ہے
اس کی ردیف تجھے حمد ہے تجھے حمد ہے بہت خوبصورت ہے اور دل کو بہت بھلی لگتی ہے
دوسری حمد دعائیہ ہے اس میں بھی نعتیہ مضامین پروتے ہوئے نظر آتے ہیں
میرے اس خواب کو مولا تو حقیقت کردے
شہِ کونین ﷺ کی چوکھٹ مری قسمت کر دے
نعتیہ شاعری کا آغاز حضورﷺکے حلیہ شریف سے کرتے ہیں اور ردیف چہرہ میں نہایت شاندار اشعار کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس میں نہایت خوبصورت تراکیب بناتے ہیں گلِ بہشتِ بریں،نرم عارض بہ مثلِ ریشم، ہونٹ برگِ گلابِ نازک،دانت جیست چمکتے موتی،دراز پلکیں، جبیں کشادہ،تازہ شباب چہرہ،ابروئے پیچ دار ترکش،غزال آنکھیں سیاہ،جمال میں جمیل تر،مبین روشن کتاب چہرہ، زیر، حجاب چہرہ، ماہِ تاباں ، جانِ جاناں، غموں کا درماں ، دکھوں کا دارو، کیا کیا خوبیاں بیان کردی ہیں اس سراپا نگاری کی اعلیٰ مثال میں جناب مقصود عاجز کا فن اپنے عروج کو چھوتا ہوا نظر آتا ہے شاعر خود کشکولِ چشمِ حسرت اٹھائے خیراتِ دید کی گدائی کرتا ہے۔
اس کے بعد میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی نعتیں ہیں جن میں حضورﷺ کی دنیا میں آمد کے حوالے سے نہایت شاندار شعر کہے گئے ہیں ۔آمدِ مصطفیٰ ﷺ کی پہلی نعت میں بے سہاروں ، غم کے ماروں ،جاں نثاروں ، چاند تاروں ، نوبہاروں اور دل فگارون کو مبارک باد دی گئی ہے کہ حضورﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ آگئے ہیں مصطفیٰ ﷺ کی ردیف میں چاند تارے آپ ﷺ کے موئے مبارک سے ضیاء پائیں گے۔دلِ مضطر سکینت آشنا ہو گئے،سینہ چاکانِ چمن کے گھائو بھر گئے،کمالِ جاں نثاری کو جواز مل گیا۔دل فگاروں کو مبارک کہ ان کو دلی سکون مل گیا۔ دوسری نعت آئے میلاد کے دن خوشیاں منائو سارے۔۔۔ مل کے سب کو چہ و بازار سجائو سارے اس میں بھی پھول کلیاں غنچے نخل و شجر بھینی بھینی سی خوشبو سے لبریز ہو گئے ۔ تیسری نعت آمنہ بی کے دلارے آگئے سب زمانوں کے وہ پیارے آگئے چھوٹی بحر کی نعت ہے ۔ اس میں اپنے دوسرے نعتیہ مجموعہ کے حوالے سے کہتے ہیں
لے کے ہم " امید بخشش " یانبیﷺ!
بے عمل در پر تمہارے آگئے
نعت ڈاکٹر مقصود احمد عاجز ؔ کے لئے بخشش کی ضمانت ہے اور ان کے قلم و قرطاس کی طہارت ہے۔ نعت محض صنفِ سخن ہی نہیں ان کے لئے ایک ورد ہے وظیفہ ہے اور نعت بمنزلہ درود شریف کی اردو شاعری کی شکل ہے۔نبیﷺ کے شہر کی آب و ہوا ان کے لئے مہمیز ثابت ہوئی جو تجلیوں کی انتہا ہے۔وہ اس ایک گلشنِ رنگین فضا میں رہنا چاہتے ہیں جہاںحضورﷺ کی مدحت کے پھول کھلتے ہیں۔انہیں ضیائے شمس و قمر سے بھی کوئی غرض نہیں وہ صرف اور صرف رُخِ والضحیٰ میں رہنا چاہتے ہیں ۔وہ ہر لمحہ رب کے حبیب کی مدح و ثنا میں رہنا چاہتے ہیں۔وہ خود کو یومِ حشر کی تپش سے بچانے کے لئے حضورﷺ کی زلفِ دوتا کے سایہ میں رہنا چاہتے ہیں۔وہ بوقتِ نزع بھی لبوں پر حرفِ ثنا ہونے کے تمنائی ہیں اسی لئے وہ تمام عمر نعت و مدحت کی التجا میں رہنا چاہتے ہیں
وصف لکھتا ہوں شاہِ طیبہ ﷺ کے
بس یہی کاروبار کرتا ہوں
نہیں ایسا عمل کوئی جو ہو زادِ سفر میرا
سرِ محشر متاعِ نعت ہی بس کام آئے گی
ان کے گھر میں مدحت کے پھول کھلتے ہیں جس سے ان کے گھر کی فضا معطر رہتی ہے۔ ان کی مشامِ جان کو نعتِ نبی ﷺ مسحور رکھتی ہے
عاجزؔ جو معطر ہیں فضائیں ترے گھر کی
سرکارﷺ کی مدحت کے یہاں پھول کھلے ہیں
ان کی نعتوں کے عناصرِترکیبی میں حاضری کی تمنا ،امیدِ حضوری، نویدِ حضوری،اذنِ حاضری، آرزوئے مدینہ،حاضری کی طلب، بوقتِ نزع ثنا کا لب پہ ہونا اور آلِ رسول ﷺ سے عقیدت شامل ہیں
مدینہ کی حاضری ان کی دعائوں کا ثمر بھی ہے حاصل بھی ۔ وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ سے شہرِ نبیﷺ کی حاضری مانگتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔
اپنے در پر مجھے بلالینا رنج و آلام سے بچا لینا
کون عاجز ؔ کا جز ترے آقاﷺ اس نکمے کو بھی نبھا لینا
جب تمام قافلے مدینہ کی طرف چل پڑے ہوں اور شاعر جیسے بے نوا پیچھے رہ جائیں تو کیا حالت ہوتی ہے اس کا بیان تڑپتے ہو ئے دل سے بیان کرتے ہیں۔
سب قافلے سرکارﷺ مدینے کو چلے ہیں
ہم بے سروسامان بھی راہوںمیں پڑے ہیں
کچھ پاس زرِ حسن و عمل اپنے نہیں ہے
نادم ہیں گنہگار ہیں چپ چا پ کھڑے ہیں
وہ انتہائی معصومیت اور سادگی سے حضورﷺ کو بتاتے ہیں کہ قافلے والے چھوڑ کے جا رہے ہیں لہٰذہ آپ ﷺ ہی خود اسے بلالیں
یانبیﷺ! چشمِ کرم میں بھی مدینے پہنچوں
قافلے والے مجھے چھوڑے چلے جاتے ہیں
ایک اور مقام پر تو ان کی فریاد بہت بے تاب اور مضطرب ہو جاتی ہے اور وہ کہہ اٹھتے ہیں
مجھ سے عاصی کو بھی طیبہ میں بلایا جائے
میری بخشش کا بھی سامان بنایا جائے
اتنی پُرزور فریادوں کے بعد انہیں اس قدر امید ِ حضوری ہے کہ انہیں ضرور دیدارِ مدینہ حاصل ہوگا
مری قسمت مجھے بھی روضہ &ء انور دکھائے گی
جبینِ شوق مچلے گی تمنا مسکرائے گی
جسے دستِ شہِ کونین ﷺ نے عاجزؔ سنبھالا ہو
اسے گردش زمانے کی بھلا کیسے گرائے گی
جب انہیں حضوری کی نوید مل جاتی ہے تو وہ خود اکیلے ہی اس نعمتِ عظمیٰ سے استفادہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ اپنے ساتھیوںکو بھی اپنے ساتھ ملالیتے ہیں اور دیگر زائروں کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ آئیں سارے ہی مل کران جلووں سے خود کو مستنیر کرتے ہیں
زائرو آئو چلیں گنبدِ خضریٰ دیکھیں
مسجدِشاہ کا پُرنور وہ جلویٰ دیکھیں
جس کی قسمت پہ کرے رشک زمانہ عاجز ؔ
ہم بھی وہ رشکِ شہاں سائلِ طیبہ دیکھیں
ان کو اپنی انہی التجا ئوں اور دعائوں سے امیدِ کرم ہے کہ حضورﷺ خود ہی خزانہ & ء غیب سے حاضری کے وسائل بہم فراہم کردیں گے۔ اور انہیں زادِ سفر میسر ہو جائے گا اور کسی کو بھی خبر نہ ہوگی ہر عاشقِ صادق کی یہی تمنا ہو تی ہے کہ حضورﷺ ان کی آبرو رکھ لیں ۔ اور آپﷺ ہر عاجز و مسکین کی عزت و آبرو کے محافظ ہیں
پھر اذنِ حاضری ہو میں پہنچوں سلام کو
زادِ سفر کہاں سے ملا کچھ خبر نہ ہو
اب آپﷺ ہی کے ہاتھ ہے عاجزؔ کی آبرو
نادم کسی کے سامنے یہ عمر بھر نہ ہو
مدینہ ان کی نعتوں کا مستند حوالہ ہے جس نعت میں مدینے کا ذکرِ لطیف آجاتا ہے اس کی تاثیر اور لطف ہی دوبالا ہوجاتا ہے عشاق کے دل مدینہ کا لفظ سنتے ہی دھڑک اٹھتے ہیں۔مدینہ کے لفظ سے ان کی سانسیں تیز ہو جاتی ہیں ۔ جناب عاجزؔ کی نعتوں میں مدینہ بطور ردیف بھی آیا ہے اور بطور قافیہ بھی
مرے دل میں ہے آرزوئے مدینہ
رہے ہر نفس جستجوئے مدینہ
ملے خاکِ پا انﷺ کی مجھ کو بھی عاجزؔ
رواں ہوں اسی دھن میں سوئے مدینہ
جب حاضری ہو گئی امیدیں بر آئیں دعائیں پوری ہو گئیں تمنائیں رنگ لے آئیں تو شاعر مدینہ پہنچ کر عجب سرشاریوں میں مست ہو گیا اور وہ کہنے لگا
غمِ بے کسی مٹانے ترے در پہ آگیا ہوں
میں قرارِ قلب پانے ترے در پہ آگیا ہوں
یہ اس کے لئے تجلیوں کی حدِ انتہا ہے اور حضورﷺ کے در کی حاضری اس کے لئے اس کی زندگی کا حاصل ہے
تجلیوں کی حدِ انتہا میں رہنا ہے

 

Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 52 Articles with 44845 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.