کبھی کبھی انسان خود اپنے ہاتھوں اپنی بربادی لکھتا ہے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ میں نے اپنی فصلِ گل، اپنی خوشیوں، اپنے خوابوں، اپنی امیدوں کو خود ہی تباہ کر دیا۔ کسی نے مجھ سے چھین نہیں لیا، میں نے خود لٹا دیا۔ جانے کیوں، محبت کے نام پر میں نے اپنی ہر مسکراہٹ قربان کر دی۔ اب جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو لگتا ہے، جو برباد ہوا وہ وقت نہیں تھا، وہ میں خود تھا۔ اور اب جب میں آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں، تو چہرہ تو نظر آتا ہے، مگر پہچان نہیں آتی۔ آنکھوں میں وہی نمی ہے، مگر اس کے پیچھے کوئی خواب نہیں۔ ہونٹ ہلتے ہیں، مگر کوئی لفظ نہیں نکلتا۔ دل دھڑکتا ہے، مگر کسی کے لیے نہیں۔ میں ایک چلتا پھرتا ماضی بن چکا ہوں جو حال میں زندہ ہے، مگر روح اس کی کب کی مر چکی ہے۔ میں نے خود کو خود ہی فنا کیا۔ دل چاہتا ہے کہ الزام تُجھ پر رکھ دوں، مگر سچ یہ ہے کہ میں نے تجھے مقام ہی ایسا دیا جہاں سے گرنا لازم تھا۔ میں نے تجھے خدا سمجھ لیا، اپنی عبادتوں کا مرکز بنا دیا۔ میں نے اپنی دعائیں تیری مسکراہٹ کے نام کر دیں، اپنے سکون کو تیری رضا پر قربان کر دیا۔ اور جب تُو چلا گیا، تو بس میں رہ گیا، اور وہ ویرانی جو تُو چھوڑ گیا۔ اب کبھی کبھی سوچتا ہوں، کاش میں نے اتنا محسوس نہ کیا ہوتا۔ کاش میں نے دل کے بجائے عقل سے فیصلہ کیا ہوتا۔ کاش میں نے محبت کو عبادت نہ سمجھا ہوتا۔ پر یہ کاش بھی اب دل کے زخموں پر نمک جیسا لگتا ہے۔ میں جانتا ہوں، جو ہو چکا وہ پلٹا نہیں جا سکتا، اور جو میں بن چکا ہوں، اسے کوئی محبت واپس نہیں بدل سکتی۔ میرے یار، تُو نے یہ کیا کیا؟ میں نے چاہا کہ تُو میری سانسوں میں بسا رہے، مگر تُو نے میرا نام ہی مٹا دیا۔ میں نے سوچا، شاید تیری مسکراہٹ میں میرا وجود چھپ جائے، مگر تُو نے وہ مسکراہٹ کسی اور کے لیے بچا رکھی تھی۔ میں تیری یاد میں جیتا رہا، اور تُو میری یاد سے بھی آزاد ہو گیا۔ کبھی راتوں میں تیری یاد اب بھی آتی ہے، مگر اب میں اُٹھ کر دعا نہیں کرتا، میں بس آنکھیں بند کر کے خاموشی سے کہہ دیتا ہوں: شکریہ، کہ تُو نے مجھے ختم کر کے، مجھے میرا اصل دکھا دیا۔ اب میں سمجھ گیا ہوں کہ محبت کبھی مکمل نہیں ہوتی، یہ یا تو انسان کو بنا دیتی ہے، یا مکمل توڑ دیتی ہے۔ اور مجھے اُس نے توڑ کر مکمل کیا ہے۔ اب میں اپنے برباد ہونے پر حیران نہیں ہوتا۔ کیونکہ بربادی وہاں شروع نہیں ہوتی جہاں کوئی ہمیں چھوڑ جاتا ہے، بلکہ وہاں جہاں ہم خود سے خالی ہو جاتے ہیں۔ میں خود کو خالی کر بیٹھا تھا، تاکہ تُو بھر جائے۔ میں نے اپنے اندر کا سکون، اپنی روشنی، اپنی طاقت، سب تیری چاہت کے قدموں میں رکھ دی۔ اور جب تُو گیا، تو میں رہ گیا، ایک ایسا بدن جو سانس لیتا ہے مگر جیتا نہیں۔ اب میں وہ نہیں جو مانگتا تھا، میں وہ ہوں جو کچھ نہیں چاہتا۔ میں نے تمنائیں دفن کر دی ہیں، خواہشوں کو مٹی اوڑھا دی ہے، اور دل پر لکھ دیا ہے، ”یہاں اب کوئی نہیں رہتا۔“ تجھے کیا خبر، تُو نے ایک دل سے کیا کیا۔ تُو نے بس رخ موڑا، اور میں نے اپنی دنیا الٹ دی۔ تُو نے بس خاموشی اوڑھی، اور میں نے اپنی آواز کھو دی۔ تُو نے بس چلنا چھوڑا، اور میں نے جینا۔ تُو چاہے تو لوٹ آ، مگر اب یہاں کچھ باقی نہیں۔ نہ وہ دل جو کبھی تیرے نام پر دھڑکتا تھا، نہ وہ لفظ جو تیری یاد میں رو پڑتے تھے۔ اب میں سکون کی اس حد پر ہوں جہاں درد بھی تھک گیا ہے۔ جہاں آنسو رک گئے ہیں، جہاں احساس سو گئے ہیں۔ اب میں نہ وہ ہوں جو کبھی تھا، نہ وہ جو ہونا چاہتا تھا۔ میں صرف ایک سایہ ہوں، اپنے ہی وجود کا، اپنی ہی غلطی کا۔ میں نے خود کو تباہ کیا، ہاں، مگر یہ تباہی بھی عجب سکون رکھتی ہے۔ کیونکہ اب کوئی امید باقی نہیں، کوئی خواب نہیں، کوئی درد نہیں جو نیا ہو۔ سب کچھ جلا کر میں نے اپنے دل پر ایک مہر لگا دی ہے کہ اب کوئی یار نہیں، اور کوئی میں بھی نہیں۔ اور یہ جو راکھ میرے اندر بچی ہے، یہ میں نہیں، یہ میری محبت ہے۔ جو جل کر اب بھی سلگ رہی ہے، صرف اس لیے کہ کبھی میں نے کسی کو دل سے چاہا تھا۔ بس اب اتنا ہی اعتراف باقی ہے، کہ میں نے خود کو تباہ کیا، اور اس تباہی میں ہی، میں نے خود کو پہچان لیا۔ |