شہباز بمقابلہ مریم: فرق کہاں ہے؟
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
شہباز بمقابلہ مریم: فرق کہاں ہے؟ حسیب اعجاز عاشرؔ کچھ حکومتیں اپنے پیچھے ایک ایسا سٹینڈرڈ چھوڑ جاتی ہیں جو وقت کے شورشرابے، بے رحم سیاست کی ہنگامہ ریزیوں اور بلند و بانگ نعروں کے غبار میں بھی مدھم نہیں پڑتا۔ اِس کا ذکر حامی بھی کرتے ہیں اور مخالفین بھی کرنے پر مجبور، اگرچہ لہجے مختلف ہوسکتے ہیں۔ پنجاب میں شہباز شریف کا دوربھی ایسے ہی ایک حوالہ میں شامل ہے، جہاں فیصلے فائلوں میں بند درازوں میں قید نہیں رہتے تھے، منصوبے پریس کانفرنسوں میں دفن نہیں ہوتے تھے، اور ریاستی مشینری واقعی مشین کی طرح حرکت میں محسوس ہوتی تھی۔ ہر فیصلہ، ہر عمل، ایک رفتار اور وضاحت کے ساتھ آگے بڑھتا تھا۔ شاید اسی لیے جب بھی پنجاب میں کسی ترقیاتی کام کا ذکر ہوتا ہے، لاشعوری طور پر تقابل“شہباز سپیڈ”سے ہو جاتا ہے، یہی معیار آج ایک طرزِ حکمرانی کی علامت بنا ہے۔ شہباز شریف کا امتیاز یہی تھا کہ وہ منصوبے بھی بناتے تھے اور نئے جدت پسندانہ رجحانات بھی متعارف کرواتے تھے۔ ان کے کئی فیصلے ابتدا میں شدید تنقید کی زد میں آئے۔ میٹرو بس کو“جنگلہ بس”کہا گیا، اربوں کے ضیاع کے طعنے دیے گئے، مگر وقت نے دکھایا کہ یہی تصور بعد ازاں پشاور کی بی آر ٹی، کراچی کی گرین لائن اور الیکٹرک بسوں کی صورت میں پورے ملک میں پھیل گیا۔ ڈولفن فورس پر ابتدا میں قہقہے لگے، بائیک ایمبولینس کو نمائشی قرار دیا گیا، مگر جب انہی ماڈلز کو دوسرے صوبوں نے اپنایا تو تنقید آہستہ آہستہ تقلید میں بدل گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ جن منصوبوں پر کل طنز تھا، آج وہی کریڈٹ کی جنگ کا میدان بن چکے ہیں،اور یہی کسی لیڈر کے ٹرینڈ سیٹر ہونے کی اصل دلیل ہوتی ہے۔ شہباز شریف کے دور میں انفراسٹرکچر، سیکیورٹی، توانائی، تعلیم، صحت اور شہری نظم و نسق،کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جو نظرانداز کیا گیا ہو۔ میٹرو بس، اورنج لائن، رنگ روڈ کی توسیع، فلائی اوورز،دیہاتی سڑکیں اور سگنل فری روڈزکے جال کے ساتھ ساتھ انرجی سیکٹر میں سولر پارک اور پاور پلانٹس نے بجلی کی قلت سے فوری ریلیف دیا۔صاف پانی کے منصوبے، تعلیم میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ، لیپ ٹاپ اسکیم، دانش اسکولز اور یوتھ پروگرامز نے ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا۔سستی روٹی سکیم،وائلڈ سٹی لاہور، ہاؤسنگ سکیمز،لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی،زراعت اور انڈسٹری پروموشن،زرعی اصلاحات، انڈسٹریل پارکس اور ایگریکلچر سپورٹ سکیمز اور ایسے دیگر منصوبہ جات بھی نمایاں ہیں۔صحت کے شعبے میں ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، برن یونٹس، پی کے ایل آئی، فرانزک لیب، ڈینگی کنٹرول اور ایمرجنسی رسپانس یہ سب وہ اقدامات تھے جو محض اعلانات نہیں، زمینی حقیقت تھے۔ حکمرانی اینٹ،پتھر اورسمینٹ سے بنی عمارتوں کا نام نہیں تھی بلکہ ایک جدید نظام کی تشکیل تھی۔ پنجاب پولیس میں اصلاحات، تھانہ کلچر میں تبدیلی، فرنٹ ڈیسک، کمپیوٹرائزڈ ایف آئی آر، سیف سٹیز اتھارٹی،ای خدمت سنٹرز،زیرو ٹارلنس کیساتھ اسٹریٹ کرائم کا خاتمہ یہ سب اسی سوچ کی کڑیاں تھیں۔ آج اگر انہی اصلاحات کو نئے ناموں جیسے پبلک سیفٹی سنٹرز، نئی یونیفارمز اور دفاتر کونئی تزئین کیساتھ دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے تو انگلیاں تو اُٹھیں گی کہ کیا نام بدلنا ہی سمت بدلنا ہوتا ہے؟ عوام کا پیسہ صرف ری برانڈنگ پر خرچ کر دینے سے اصلاح نہیں آتی، اصلاح کے لیے وژن اور اختیار درکار ہوتا ہے اور یہ سمت شہباز شریف بہت پہلے متعین کر چکے۔ صفائی کے نظام سامنے ہے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا قیام محض ایک ادارہ نہیں تھا، بلکہ شہری صفائی کو ادارہ جاتی شکل دینے کی سنجیدہ کوشش تھی۔ ڈیجیٹل مانیٹرنگ، پرائیویٹ پارٹنرشپ اور بین الاقوامی معیار یہ سب اس ماڈل کا حصہ تھے۔ آج اگر اسی نظام کو نئے نعروں کے ساتھ مزید شہروں تک پھیلایا جا رہا ہے تو یہ تسلسل تو ہے، مگر ایجاد نہیں۔ ای کامرس کے علاوہ ڈیجیٹلائزیشن کے باب میں بھی لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن، ایپ بیسڈ سروسز اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ اسی دور کی نشانیاں ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سوشل میڈیا ابھی طاقت نہیں بنا تھا، مگر اس کی سمت پہچان لی گئی تھی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی جیسے ادارے پر تو مسلم لیگ (ن) کے سخت ناقد حسن نثار بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ اسی دور میں کریم اور اوبر جیسی ایپ بیسڈ ٹرانسپورٹ سروسز کو ریگولیٹری سپیس دی گئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف شہریوں کو سہولت ملی بلکہ لاکھوں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر بعد میں آن لائن ڈیلیوری، مکینک، کاریگر اور فری لانسنگ کے بے شمار پلیٹ فارمز وجود میں آئے۔ آج اگر لوکل ایپس بین الاقوامی کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہیں تو یہ اسی سوچ کا تسلسل ہے جو برسوں پہلے متعارف کروائی گئی تھی۔آن لائنز کاروبار سے آج ایک بڑی تعداد منسلک ہو چکی ہے۔ اسی پس منظر میں جب ہم مریم نواز کے دور کو دیکھتے ہیں تو منظر بالکل وائیٹ اینڈ بلیک نہیں، انہوں نے کچھ پرانے منصوبوں کو بحال کیا، جیسے فری میڈیسن ڈیلیوری اور عوامی ریلیف اسکیمز، اور ساتھ ہی کچھ نئی انیشی ایٹوز بھی متعارف کروائیں ستھرا پنجاب، سیوریج و ڈرینج اپ گریڈیشن، ای ٹیکسی، الیکٹرک بسیں، آئی ٹی انٹرن شپس اور صحت کے چند منصوبے۔ یہ سب اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان میں سے کئی شہباز شریف کے انفراسٹرکچر وژن کا تسلسل محسوس ہوتے ہیں، نہ کہ کوئی بالکل نیا رجحان۔ تاہم، کچھ سکیمز کو ری برانڈ کیا گیا ہے۔بیوروکریسی کے حوالے سے، شہباز کو سخت کنٹرول والا دیکھا جاتا ہے، جبکہ مریم کے بارے عمومی رائے یہ ہے کہ بیوروکریسی انہیں چلا رہی ہے۔ شہباز شریف کو چین کی جانب سے“پنجاب سپیڈ”کا لقب یوں ہی نہیں ملا تھا۔ سی پیک منصوبوں کی برق رفتاری اس کی گواہ ہے۔ آج کام تو نظر آ رہا ہے، مگر رفتار اور نظم میں وہ گرفت دکھائی نہیں دیتی۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ کھلامین ہول جو ماں بیٹی کو نگل گیا، انتظامی غفلت اور بعد ازاں معذرت نامے یہ سب سست روی کی علامت ہیں،عوام ششد ر ہے شہبازشریف کی حکومت میں سودن سے پہلے منصوبے کیسے مکمل ہوجاتے تھے اور اب کیوں نہیں۔ چند روز قبل پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی حفظان صحت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ کا آغاز تو ہوا مگر اِس کی پہلی اینٹ بھی 2016میں رکھی گئی تھی۔ بسنت پر کیا لکھا جائے۔سپریم کورٹ کی جانب سے لگائی گئی 2005 میں پابندی کے حوالے سے شہباز دور میں اس پر مؤثر عملدرآمد ہوا۔ مریم نواز کے دور میں قواعد و ضوابط کے ساتھ دوبارہ بحالی اپنی ہی جماعت کے نظریات کی نفی ہے، خود سوچیں کہ جب ہیلمٹ ہی ابھی تک سو فیصد یقینی نہیں بنائے جا سکے تو ہواؤں میں اڑتے ضابطے کیسے نافذ ہوں گے؟ خدشات کو صرف خدشات نہیں لکھا جا سکتا،تجربات او رحقائق کچھ اور یاد دلا رہے ہیں۔ آج بعض جگہوں پر خوبصورتی کے نام پر ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو طویل المدت فائدے کے بجائے وقتی نمائش کا تاثر دیتے ہیں۔ سڑکوں پر موٹر ٹریک کے نام پرگرین پٹیاں جو بارش کی نظر چکیں، انڈر پاسز میں پودے کے باعث ایمرجنسی لینز کا متاثر ہونا یہ سب نیک نیتی کے باوجود انتظامی کمزوری کی مثالیں ہیں۔ یہ تحریر کسی کی نفی نہیں، ایک حقیقت کی نشاندہی ہے۔ مریم نواز میں توانائی بھی ہے، نیت بھی اور خواہش بھی، مگر وزارتِ اعلیٰ سیکھنے کی کرسی نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سیکھا ہوا آزمایا جاتا ہے۔ اگر وہ واقعی پنجاب کی سیاست میں اپنا مستقل مقام چاہتی ہیں تو انہیں محض ناموں کے ردوبدل اور رنگ روغن سے آگے بڑھنا ہو گا، اور ایسے دیرپا رجحانات متعارف کروانے ہوں گے جو وقت کی کسوٹی پر پورے اتریں،ناقدین آج بھی پرویز الہی کے دور کے 1122جیسے منصوبے کی تعریف کر تے ہیں۔مریم نواز نئی پیکنگ میں پرانا مال بیچنے کے بجائے نیا مال نئی پیکنگ پرغور وفکر کریں،مانا کہ ابھی آغاز ہے لیکن اُن کے لئے کچھ نیا نہیں سیاسی تربیت گاہ گھر میں باپ او رچچا کی صورت میں موجود ہے۔ سمجھ لیں کہ قیادت وراثت سے نہیں، قابلیت سے پرکھی جاتی ہے۔ پنجاب کو آج بھی نعروں سے زیادہ نظم و نسق، اور تشہیر سے زیادہ انتظام درکار ہے۔ اور انتظام کے باب میں، کم از کم فی الحال، پیمانہ اب بھی وہی ہے،جسے عرفِ عام میں“شہباز سپیڈ”کہا جاتا ہے۔
|