سیف الاسلام قذافی کی شہادت- لیبیا میں امکان مکان کا قتل
(Rai Muhammad Hussain Kharal, Arifwala)
|
سیف الاسلام قذافی کی شہادت — لیبیا میں امکان کا قتل رائے محمد حسین کھرل وہ شخص جس کے پاس نہ فوج تھی، نہ شہر، نہ تیل کے کنویں، نہ کوئی باقاعدہ جماعت — پھر بھی اسے مار دینا ضروری سمجھا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ بعض اوقات اصل خطرہ بندوق نہیں ہوتی، شناخت اور امکان ہوتے ہیں۔ سیف الاسلام لیبیا کے کسی حصے پر قابض نہیں تھے۔ ان کی سیاست زمین پر نہیں، لوگوں کے دلوں میں تھی۔ وہ کسی محاذ کے کمانڈر یا کسی چیک پوسٹ کے مالک نہیں تھے، مگر وہ اس خیال کی یاددہانی تھے کہ فوج، قبائل، عام آدمی اور ریاست ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ایک ہی ڈھانچے کے حصے ہو سکتے ہیں۔ اور آج کے لیبیا میں برسرِپیکار قوتوں کے نزدیک یہی خیال سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ وہ واحد چہرہ تھے جسے لیبیا کا مشرق بھی جانتا تھا، مغرب بھی، اور جنوب بھی پہچانتا تھا۔ قبائل میں ان کا نام ایک تعلق کی صورت زندہ تھا۔ ان کے پیچھے بندوقیں نہیں تھیں، لوگ تھے۔ اور لیبیا جیسے ملک میں، جہاں ہر بندوق کا کوئی نہ کوئی مالک ہے، وہاں لوگوں کا کسی ایک شخصیت کے گرد مجتمع ہو جانا ہی سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ ملیشیائی نظام درحقیقت ریاست نہیں، ایک کاروبار ہے۔ لوٹ کا کاروبار، اسمگلنگ کا کاروبار، تیل کی بندر بانٹ کا کاروبار۔ اس کاروبار کی بقا تقسیم میں ہے، جبکہ مرکزیت اس نظام کے لیے موت کے مترادف ہے۔ اور سیف الاسلام قذافی مرکزیت کی آخری امید سمجھے جاتے تھے۔ لیبیا میں بندوقیں لڑتی ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بندوق سے نہیں، علامتوں سے بنتی ہیں۔ اسی لیے ماضی کی اس علامت کو مٹا دینا ضروری سمجھا گیا۔ سیف الاسلام کے قتل کے ساتھ ہی قذافی نواز بیانیہ بھی دفن ہو گیا۔ اب کوئی قومی سطح کا چہرہ باقی نہیں رہا، نہ کوئی ایسا مشترکہ پرچم جس کے نیچے بکھرے ہوئے لوگ اکٹھے ہو سکیں۔ لیبیا اب پہلے سے کہیں زیادہ بندوق کے رحم و کرم پر ہو گا۔ نقصان عام آدمی کا ہوا ہے، اور قتل صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ امکان اور امید کا ہوا ہے۔ صدام حسین اور معمر قذافی اگرچہ آمر تھے، مگر اپنی ریاستوں کی مرکزیت اور استحکام کے آخری ستون بھی تھے۔ جب یہ ستون گرائے گئے تو ملبے تلے صرف یہ دو ریاستیں نہیں دبیں، بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کی نذر ہو گیا۔ صدام اور قذافی وہ مضبوط ڈھالیں تھے جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو بکھرنے سے روکے رکھا۔ ان کے ہٹتے ہی عراق، شام، لیبیا اور یمن جس آگ میں جھونکے گئے، وہ آگ اب ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی طرف بڑھتی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ محض داخلی خانہ جنگیاں نہیں بلکہ مسلمان ریاستوں کو کمزور اور بے وقعت کرنے کا ایک عالمی ایجنڈا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اس نام نہاد دجالی ریاست کی تکمیل کی طرف جاتا ہے، جس کی راہ میں ہر مضبوط مسلمان فوج اور ہر خود مختار قیادت رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔ اور جو آنکھ آج بھی ان بکھری ہوئی کڑیوں کو جوڑ کر اس آنے والے خطرے کو نہیں دیکھ پا رہی، وہ شاید تاریخ کے سب سے بڑے اور خطرناک فریب کا شکار ہے ۔ |
|