سورج پہ کمند
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
سورج پہ کمند تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
سورج کی سرگرمیاں نہ صرف زمینی موسم بلکہ جدید انسانی تہذیب کے تکنیکی ڈھانچے پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ شمسی طوفان، مقناطیسی دھماکے اور توانائی کے شدید اخراج سیٹلائٹ نظام، مواصلاتی نیٹ ورکس، بجلی کی ترسیل اور حتیٰ کہ خلائی مشنوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں چین نے شمسی تحقیق اور خلائی موسم کی بروقت نگرانی کے لیے ایک نئے اور غیر معمولی خلائی مشن شی حہ۔ٹو کے اجرا کا منصوبہ تیار کیا ہے، جو عالمی شمسی تحقیق میں ایک نئی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ چین 2028 سے 2029 کے درمیان شی حہ۔ٹو نامی شمسی تحقیقاتی سیٹلائٹ کو زمین اور سورج کے نظام کے لیگر ینج پوائنٹ فائیو پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ مشن نہ صرف سورج کی سرگرمیوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرے گا بلکہ خلائی موسم کے خطرناک رجحانات کی کئی دن پہلے پیش گوئی کی صلاحیت بھی فراہم کرے گا، جو زمینی سطح پر بروقت حفاظتی اقدامات کے لیے انتہائی اہم ہے۔
شی حہ۔ٹو مشن کو لیگر ینج ۔فائیو سولر آبزرویٹری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ نانجنگ یونیورسٹی، چائنا میٹیورولوجیکل ایڈمنسٹریشن اور شنگھائی اکیڈمی آف اسپیس فلائٹ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے تجویز کیا گیا ہے۔ سیٹلائٹ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ سورج کے مقناطیسی میدان کی انتہائی درست پیمائش کر سکے، شمسی دھماکوں کی سہ جہتی ساخت کو واضح کرے اور سورج سے پیدا ہونے والی توانائی کے بہاؤ کا مسلسل تجزیہ فراہم کرے۔
لیگر ینج پوائنٹ فائیو زمین سے تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک ایسا مقام ہے جہاں سورج اور زمین کی کششِ ثقل ایک توازن پیدا کرتی ہے۔ اس مقام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں موجود خلائی آلہ سورج کی سطح اور اس سے خارج ہونے والی سرگرمیوں کو ایک منفرد زاویے سے مسلسل دیکھ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے شی حہ۔ٹو کو اس مقام پر تعینات کرنے سے شمسی طوفانوں اور خطرناک خلائی موسمی واقعات کی چار سے پانچ دن پہلے پیش گوئی ممکن ہو سکے گی، جو موجودہ نظاموں کے مقابلے میں نمایاں بہتری سمجھی جاتی ہے۔
یہ مشن ایک اور لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ دنیا کا پہلا مصنوعی خلائی آلہ ہوگا جو لیگر ینج پوائنٹ فائیو پر تعینات کیا جائے گا۔ اگرچہ اب تک دنیا بھر میں ستر سے زائد شمسی تحقیقاتی مشن خلا میں بھیجے جا چکے ہیں، تاہم کسی بھی مشن نے اس مقام کو بطور مستقل مشاہداتی مرکز استعمال نہیں کیا۔ اس نئے مقام سے حاصل ہونے والا ڈیٹا شمسی طبیعیات، خلائی موسم اور زمین پر اس کے اثرات کو سمجھنے میں ایک نیا زاویہ فراہم کرے گا۔
تکنیکی اعتبار سے شی حہ۔ٹو کو کم توانائی میں مدار برقرار رکھنے کی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کیا گیا ہے۔ لیگر ینج پوائنٹ پر پہنچنے کے بعد سیٹلائٹ کو مدار میں رہنے کے لیے نسبتاً کم ایندھن درکار ہوگا، جس کے باعث اس کی متوقع سروس مدت سات برس تک رکھی گئی ہے۔ اس طویل المدتی مشاہدے کے دوران حاصل ہونے والا مسلسل ڈیٹا عالمی سائنسی برادری کے لیے نہایت قیمتی ثابت ہو سکتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ چین نے اکتوبر 2021 میں اپنا پہلا شمسی تحقیقاتی سیٹلائٹ شی حہ کامیابی سے لانچ کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد سورج کی ایچ۔الفا سپکٹرل امیجنگ تھا۔ یہ سیٹلائٹ زمین سے 571 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں گردش کرتا رہا اور شمسی تحقیق کے میدان میں اہم سائنسی نتائج فراہم کیے۔ نیا شی حہ۔ٹو مشن اسی سلسلے کی توسیع ہے، تاہم اس کا دائرہ کار، تکنیکی سطح اور عالمی اثرات کہیں زیادہ وسیع تصور کیے جا رہے ہیں۔
شمسی تحقیق کے ساتھ ساتھ یہ مشن جدید انسانی معاشرے کے تحفظ کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں سیٹلائٹس، نیویگیشن سسٹمز، مواصلاتی نیٹ ورکس اور بجلی کے گرڈز شمسی طوفانوں سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ خلائی موسم کی بروقت اور درست پیش گوئی ان نظاموں کو محفوظ بنانے، خلائی مشنز کے خطرات کم کرنے اور زمینی معیشت کو ممکنہ نقصانات سے بچانے میں مدد فراہم کرے گی۔
مجموعی طور پر شی حہ۔ٹو شمسی مشن چین کی خلائی تحقیق میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف شمسی سائنس میں نئے سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش ہے بلکہ خلائی موسم کی عالمی نگرانی اور انسانی معاشرے کے تحفظ کی سمت ایک عملی قدم بھی ہے۔ جدید سائنس، خلائی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی سائنسی تعاون کے تناظر میں شی حہ ۔ٹو آنے والے برسوں میں عالمی شمسی تحقیق کے نقشے پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ |
|