ایک عجیب ریاست کی عجیب کہانی
(Ali Raza Jamali, New Saeedabad, District Matiari, Sindh)
|
ایک عجیب ریاست کی عجیب کہانی آج دنیا کے نقشے میں میں نے ایک عجیب ریاست کے بارے میں کچھ پڑھا ہے۔ یہ ریاست دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں موجود ہے اور اس ریاست کو اکثر پیار سے لوگ مسنگستان کہتے ہیں۔
یہ ملک بہت خوبصورت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں کے رہنے والوں کے لیے یہ ملک کسی جہنم سے کم نہیں، اور ساتھ ہی امیروں کے لیے یہ ملک جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔
یہ ملک اپنے آپ کو جمہوری ملک کہلواتا ہے، لیکن حقیقت میں وہاں جمہوریت کا “ج” بھی ابھی تک نہیں پہنچا۔ اس ملک میں ہمیشہ ایک مخصوص طبقے کی داداگیری چلتی ہے۔
اس ملک کے مالک (داداگیر) ظالم، جابر اور بے رحم ہیں۔ اس ملک میں رہنے کے چند قوانین ہیں، جن میں سب سے اہم قانون یہ ہے کہ سچ کوئی بھی نہ لکھے گا اور نہ ہی بولے گا۔ اس ملک کے بڑوں کو سچ سے ایک قسم کی چِڑ اور نفرت ہے۔ یعنی ملک کے مالک اُن لوگوں سے بھی نفرت کرتے ہیں جو سچ لکھتے ہیں، پڑھتے ہیں یا سچ بولتے ہیں۔
اس ملک میں سچ کا ساتھ دینا داداگیروں کے قانون کی خلاف ورزی میں شامل ہوتا ہے، اس لیے یہاں سچ بولنے والوں کو طرح طرح کی سزائیں دی جاتی ہیں یا اُن پر تشدد کیا جاتا ہے۔ جبری گم کر دیا جاتا ہے یا جان سے مار کر ختم کر کے سکون کا سانس لیا جاتا ہے۔ اس ملک میں نہ کوئی صحافی، نہ کوئی وکیل، نہ کوئی سماجی رہنما اور نہ کوئی ایماندار انسان محفوظ ہے۔ ایسی ریاستوں کو نوم چومسکی دہشت گرد ریاست کہتا تھا۔
اس ملک کے مالک داداگیروں کو چند رنگ پسند نہیں، بلکہ وہ اُن رنگوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اُن میں ایک رنگ ہے سرخ۔
ملک کے مالکوں کو سرخ رنگ سے سخت نفرت اور تعصب ہے، اور وہ سرخ رنگ کے عاشقوں سے بھی اکثر نفرت کرتے ہیں، کیونکہ سرخ رنگ تو انقلاب کی نشانی ہے اور داداگیروں کو انقلاب سے نفرت ہے۔ ریاست کے مالک سرخ رنگ کے عاشقوں کو اکثر دہشت گرد یا ایجنٹ کا ٹیگ لگا کر طرح طرح کی سزائیں دیتے ہیں، جبری گم کر دیتے ہیں یا گولیاں مار کر ختم کر دیتے ہیں۔
دوسرا رنگ جس سے اِن داداگیروں کو نفرت ہے وہ رنگ ہے سفید۔
ملک کے مالکوں کو سفید رنگ سے بھی نفرت اور چِڑ ہے۔ حقیقت میں یہ رنگ تو امن کی نشانی ہے، مگر اُنہیں امن بھی پسند نہیں۔
ملک کے مالکوں کو سفید رنگ اس لیے بھی پسند نہیں کہ سفید رنگ کے عاشق اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور اِن داداگیروں کی اصلیت پوری دنیا کو دکھاتے ہیں، اور یہ داداگیر اُنہیں حق دینے کے بجائے اُن کی ماؤں کو اُن کی لاشیں دے دیتے ہیں، اور ایسا کر کے وہ خوش بھی ہوتے ہیں اور جشن بھی مناتے ہیں۔
اس ملک کے مالک اپنے آپ کو وقت کا فرعون سمجھتے ہیں، اور اُن کی فرعونیت دنیا بھی دیکھتی ہے کہ کبھی صحافی گم، کبھی سماجی رہنما گم، کبھی وکیل گم۔ آخر کب تک چلے گی یہ فرعونیت؟ اور وہ یاد رکھیں کہ فرعون آیا تو موسیٰ بھی ضرور آئے گا، اور اُن کی فرعونیت ایک دن ضرور نیست و نابود ہوگی، اور پھر ہر کوئی سکون کا سانس لے کر شام گزارے گا۔ آؤ ہم سب مل کر اُس ملک کے رہنے والوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور امید دلائیں کہ موسیٰ ضرور آئے گا۔ مصنف: علی رضا جمالي | نیو سعیدآباد (ضلع مٹیاری، سندھ) |
|