چین میں انسان نما روبوٹس کا عروج

چین میں انسان نما روبوٹس کا عروج
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں روبوٹس کا تصور طویل عرصے تک کارخانوں اور گاڑیوں کی اسمبلی لائنوں تک محدود سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں صنعتی روبوٹک بازو پیداوار کا اہم حصہ تھے۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ تصور تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب روبوٹس نہ صرف صنعت بلکہ روزمرہ زندگی، خدمات، تفریح اور گھریلو استعمال میں بھی جگہ بنا رہے ہیں۔ خاص طور پر انسان نما روبوٹس کی بڑھتی ہوئی موجودگی چین کی صارف منڈی میں نئی حرکیات اور توانائی پیدا کر رہی ہے، جو ملکی کھپت اور جدید صنعتوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

چین میں انسان نما روبوٹس کا استعمال اب محض نمائشی یا تجرباتی مرحلے تک محدود نہیں رہا۔ مختلف صوبوں میں یہ روبوٹس استقبال، رہنمائی، ترسیل، صفائی، تفریح اور معاون خدمات جیسے شعبوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ چین بھر کے مختلف علاقوں میں روبوٹس کے اطلاقی منظرنامے تیزی سے وسعت اختیار کر رہے ہیں۔

ملک کے معروف شہروں میں درجنوں روبوٹکس کمپنیاں اپنی مصنوعات پیش کر رہی ہیں۔ گھریلو استعمال کے سادہ اور نسبتاً کم قیمت روبوٹس سے لے کر اعلیٰ درجے کے انسان نما روبوٹس تک دستیاب ہیں، جو صارفین کے ساتھ براہِ راست تعامل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے مراکز روبوٹس کی فروخت، خدمات، تربیت اور مختلف استعمالی حل ایک ہی جگہ فراہم کر کے صارفین اور اداروں کے لیے سہولت پیدا کر رہے ہیں۔

جیسے جیسے روبوٹس کے استعمال کے مواقع بڑھ رہے ہیں، ویسے ویسے اداروں کی ضروریات کے مطابق روبوٹس کی تخصیص بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔ کاروباری اداروں، شاپنگ مالز اور تقریبات کے لیے روبوٹس کی کرایہ پر فراہمی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے روبوٹ معیشت میں فوری تجارتی امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب نے روبوٹ بنانے والی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع کھول دیے ہیں۔ انسان نما روبوٹس کی تیاری میں حرکت، توازن اور کنٹرول کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ساختی ڈیزائن میں بہتری، مکینیکل ڈھانچے کی اصلاح اور حرکیاتی الگورتھمز کی اپ گریڈیشن کے ذریعے روبوٹس کو زیادہ مستحکم، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنایا جا رہا ہے۔ اس عمل میں ہونے والی معمولی پیش رفت بھی ٹیکنالوجی کے ایک نئے مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے۔

انسان نما اور چار ٹانگوں والے روبوٹس کو صنعتی پیداوار، ہنگامی امداد، معائنہ، تلاش اور کھوج جیسے مختلف شعبوں میں استعمال کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اس تنوع نے روبوٹس کو محض صنعتی آلات کے بجائے ایک ہمہ جہت خدماتی اور صارف دوست مصنوعات میں تبدیل کر دیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 تک چین میں انسان نما روبوٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کی تعداد 140 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 330 سے زائد انسان نما روبوٹ ماڈلز منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران خدماتی روبوٹس کی پیداوار 2024 کی مجموعی سالانہ سطح سے بھی بڑھ گئی، جو اس صنعت کی تیز رفتار ترقی کا واضح ثبوت ہے۔

یہ تیز رفتار ترقی چین کی صارف منڈی میں بھی نمایاں اثرات مرتب کر رہی ہے۔ عالمی تحقیقی اداروں کے مطابق 2025 میں چین میں ذہین اور فزیکل صلاحیت رکھنے والے روبوٹس پر صارفین کے اخراجات ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، جبکہ آئندہ چند برسوں میں اس رقم میں غیر معمولی اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ روبوٹس اب محض صنعتی سرمایہ کاری نہیں بلکہ صارفین کی روزمرہ کھپت کا بھی حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چین روبوٹس کی بڑے پیمانے پر تیاری اور لاگت پر کنٹرول کے حوالے سے پہلے ہی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ اب صنعت کی ترقی کا انحصار محض سپلائی چین کی مضبوطی پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ روبوٹس کو کن نئے اور مؤثر استعمالی منظرناموں میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں چین اعلیٰ معیار کی صارف مصنوعات اور خدمات کی فراہمی کو وسعت دینے پر کام کر رہا ہے، تاکہ اندرونی کھپت کو مزید متحرک کیا جا سکے۔

ملکی سطح پر جاری پالیسی سمت بھی اسی رجحان کی تائید کرتی ہے۔ حالیہ منصوبہ جاتی سفارشات میں برانڈ سازی، معیار کی بہتری اور نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ پر زور دیا گیا ہے، تاکہ صارفین کے اخراجات میں وسعت اور معیار دونوں پہلوؤں سے اضافہ ہو سکے۔

چین میں انسان نما روبوٹس کا فروغ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کس طرح صنعت اور روزمرہ زندگی کے درمیان فاصلے کم کر رہی ہے۔ روبوٹس اب صرف کارخانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ صارف منڈی، خدمات اور تفریح کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف نئی صنعتی ترقی کو جنم دے رہا ہے بلکہ چین کی کھپت پر مبنی معیشت کو بھی نئی سمت فراہم کر رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں انسان نما روبوٹس کا پھیلاؤ اس بات کا تعین کرے گا کہ ٹیکنالوجی، صارف رویّوں اور معاشی ترقی کا یہ امتزاج کس حد تک چین کی جدید کاری کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1878 Articles with 1093564 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More