ایک مردِ درویش کی رخصتی اور ہمارے لیے پیغام

ایک مردِ درویش کی رخصتی اور ہمارے لیے پیغام
حسیب اعجاز عاشرؔ
یہ دنیا دارالامتحان ہے؛ یہاں ہر سانس گواہی ہے، ہر قدم حساب ہے، اور ہر لمحہ ابدی انجام کی طرف ایک خاموش پیش قدمی۔ کبھی کبھی زمانہ ایسی ہستیوں کو اپنے دامن میں سمو لیتا ہے جن کی سادہ سی زندگی، اپنے باطن میں ایک کامل دعوت، ایک روشن چراغ، اور ایک مسلسل نصیحت بن کر رہ جاتی ہے۔ محمد حسین آزاد صاحب بھی انہی نفوسِ قدسیہ میں سے تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی دینِ مبین کی تبلیغ و محنت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ اُن کی وفات کی خبر نے دلوں پر ایک ایسی اداسی بکھیر دی جس میں حزن بھی تھا اور رشک بھی،حزن اس جدائی کا، اور رشک اُس انجام کا جس کی تمنا ہر صاحبِ ایمان کے دل میں کہیں نہ کہیں موجزن رہتی ہے۔
آزاد صاحب سے جو بھی ملا، یہی محسوس ہوا گویا برسوں کی شناسائی ہو۔ مسکراہٹ اُن کے چہرے کی پہچان تھی، عاجزی اُن کی گفتگو کا اسلوب، اور محبت اُن کی نشست و برخاست کا رنگ۔ کوئی اُن سے دعا کی درخواست کرتا تو نہایت انکسار سے کہتے:“تم میرے لیے دعا کرو، تم بہتر ہو۔”یہ انداز ایک تربیت ہے، نفس کو جھکانے کی، خود کو کم تر سمجھنے کی، اور دوسروں کے لیے خیر چاہنے کی۔ قد اگرچہ جسمانی اعتبار سے کم تھا، مگر اعمال کا قد و قامت ایسا بلند کہ دیکھنے والا بے اختیار سر جھکا دیتا۔
اکرامِ مسلم کا جذبہ اُن کے وجود میں یوں رچا بسا تھا کہ جیب میں ہمیشہ گولیاں اور ٹافیاں رہتیں، اور جو بھی ملتا، اُس کے ہاتھ میں محبت کا ایک چھوٹا سا تحفہ تھما دیتے۔ یہ بظاہر معمولی عمل دراصل اُس نبوی خلق کی جھلک تھا جس کے متعلق رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:“آپس میں تحفے دیا کرو، محبت بڑھے گی۔”
پھر وہ دن آیا جب یہ مردِ خدا اپنے رب کے حضور حاضر ہوا۔ کچھ جنازے ایسے ہوتے ہیں جن میں شرکت سے جنازہ والے کی مغفرت کی امید بندھتی ہے، اور کچھ جنازے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں شرکت کرنے والا اپنے لیے بخشش کا سامان تلاش کرتا ہے۔ آزاد صاحب کا جنازہ انہی سعادت مند مواقع میں سے تھا۔ اُن کے چہرے پر اطمینان کی کیفیت، نورانیت کی جھلک، گویا ربِ کریم نے اپنے وعدہ رحمت کے خزانے اُن کے لیے ظاہر دیے ہوں۔ قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:یاد رکھو! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”
مساجد جہاں کبھی ایک دو صفیں بھی مشکل سے بڑھتی ہیں، وہاں اُس روز ظہر کی نماز کے لیے مسجد تنگ پڑ گئی۔ اذان کے بعد امام صاحب کو اعلان کرنا پڑا کہ جماعت ہونے کو ہے، سنتیں مؤخر کیجیے اور جنازہ گاہ کی طرف تشریف لے جائیے تاکہ دوسری باجماعت بھی ممکن ہو سکے۔ ایک مجمع نماز پڑھ کر نکل رہا تھا اور دوسرا اندر داخل ہو رہا تھا۔ جنازہ گاہ بھی چھوٹی پڑ گئی؛ صفیں سمیٹی گئیں، پھر بھی چاہنے والوں کا ہجوم کم نہ ہوا۔ مسلسل آنے والے لوگوں کے باعث جنازے میں تاخیر ہوئی، اور اس وقفے میں امام صاحب مرحوم کی دینی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے حاضرین کو قبر و آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرتے رہے۔یہ منظر خود بغیر منبر کے ایک خطبہ تھاکہ جو اللہ کے دین کے لیے جیتا ہے، اللہ اُس کے لیے دلوں میں محبت کے در کھول دیتا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ ہے:“جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیلؑ کو پکارتا ہے۔۔ پھر زمین میں اُس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔”
قبرستان کا منظر بھی غیر معمولی تھا۔ جہاں عموماً تدفین کے بعد لوگ وحشت کے باعث رکے نہیں رہتے، وہاں ایک جمعِ غفیر ذکر و تلاوت میں مشغول رہا،گویا مرحوم کی دلجوئی کے لیے، اور اپنے لیے عبرت کے لیے۔ ہر آنکھ اشک بار، ہر دل بوجھل؛ مگر اس بوجھ میں بھی ایک عجیب سی طمانیت تھی کہ یہ رخصتی خسارہ نہیں، ایک کامیاب واپسی ہے۔
یہ جنازہ درحقیقت ایک بیدار کُن پیغام تھا کہ جو اپنی جان، مال اور وقت اللہ کے لیے، دینِ محمدی ﷺ کی خدمت میں صرف کرتا ہے، اللہ اُس کے لیے دنیا میں بھی مرنے کے بعد محبتوں کا پروٹوکول جاری فرما دیتا ہے، تاکہ دیکھنے والے سمجھ جائیں کہ یہی راستہ صراطِ مستقیم ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہوں۔۔ آزاد صاحب کی زندگی اسی نفع رسانی کی عملی تفسیر تھی۔
دعوت و تبلیغ کا کارواں صدیوں سے رواں ہے۔ آج بھی دنیا کے کونے کونے میں جماعتیں نکلتی ہیں، مساجد آباد ہو رہی ہیں، بے نمازیوں کے قدم صفوں سے جڑ رہے ہیں، اور غیر مسلم حلقہ بگوشِ اسلام ہو رہے ہیں۔ یہ سب اُس وعدہ الٰہی کی جھلک ہے:“وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا، خواہ کافر ناپسند کریں۔(الصف: 8)”ایسے میں سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم نے اب تک کیا کیا؟ ہماری مساجد سے ہمارا رشتہ کتنا مضبوط ہے؟ ہمارے دن کا کتنا حصہ اللہ کے دین کے لیے وقف ہے؟”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کوئی اصطلاحات نہیں،صرف درس و تدریس کا حصہ نہیں، اُمت کی شناخت ہیں۔ قرآن حکم دیتا ہے،“تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔”آزاد صاحب کی زندگی اسی آیت کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ انہوں نے نہ شہرت چاہی، نہ منصب، بس ایک محنت،گلیوں، مسجدوں، محفلوں میں لوگوں کو رب کی طرف بلانے کی۔
قبر اور آخرت کا تصور دلوں کو نرم کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لذتوں کو توڑ دینے والی چیز (یعنی موت) کو کثرت سے یاد کیا کرو۔”(ترمذی)۔ جب جنازہ سامنے ہوتا ہے تو انسان کو اپنی باری یاد آتی ہے؛ جب مٹی کی تہیں بند ہوتی ہیں تو دل پر حقیقت کی دستک سنائی دیتی ہے کہ یہاں نہ دولت ساتھ جاتی ہے، نہ عہدہ؛ صرف اعمال کا قافلہ ہم سفر بنتا ہے۔ قرآن کی صدا ہے:“جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، مگر وہ جو اللہ کے حضور سلامتی والا دل لے کر آئے۔الشعراء”۔دین کی محنت صرف وعظ نہیں یہ اپنے اخلاق کو سنوارنے، معاملات کو درست کرنے، اور لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا نام ہے۔ آزاد صاحب کی رخصتی ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ہم نے اپنے دل کو کتنا سلیم بنایا؟ ہماری نمازوں میں کتنی حضوری ہے؟ ہماری زبان سے کتنی بار کلمہ خیر نکلا؟ ہم نے کتنے دل جوڑے اور کتنے ٹوٹنے سے بچائے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو چھوٹی چھوٹی درسگاہیں بنائیں، اپنی مساجد سے رشتہ جوڑیں، اپنی نسلوں کو قرآن کی روشنی سے آشنا کریں، اور اپنے اوقات میں سے کچھ حصہ دین کی محنت کے لیے مخصوص کریں جو ختم نبوتﷺ کی وجہ سے ہم سب سے ذمہ ہے اوروقت نکال کر سوچیں دنیا کی دوڑ میں ہم نے بہت کچھ پایا، مگر کیا ہم نے وہ پایا جو قبر کی تنہائی میں چراغ بن سکے؟
آئیے اس مردِ درویش کی یاد کو آنسوؤں تک محدود نہ رکھیں؛ اسے عزم میں ڈھالیں۔ اپنے آپ سے عہد کریں کہ ہم نمازوں کی پابندی کریں گے، نیکی کی دعوت دیں گے، برائی سے روکیں گے، اور اپنی بساط کے مطابق دین کی محنت میں حصہ لیں گے۔ شاید ہمارے چھوٹے چھوٹے قدم کسی بڑے انجام کا پیش خیمہ بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ نصیب عطا فرمائے کہ جب ہماری باری آئے تو چہروں پر اطمینان ہو، دلوں میں محبت ہو، اور زمین پر ہمارے لیے قبولیت کی خوشبو بکھری ہو۔اللہ مرحوم محمد حسین آزاد صاحب کی مغفرت فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند کرے، اور ہمیں اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔
Haseeb Ejaz Aashir | 03344076757
Haseeb Ejaz Aashir
About the Author: Haseeb Ejaz Aashir Read More Articles by Haseeb Ejaz Aashir: 181 Articles with 177939 views https://www.linkedin.com/in/haseebejazaashir.. View More