خدا وقت کا حاکم
(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
| وقت گزر جاتا ہے، قوانین بدل جاتے ہیں، کائنات سکڑتی اور پھیلتی ہے—مگر وقت کا خالق اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ |
|
|
وقت کوئی ازلی اور خودمختار حقیقت نہیں، بلکہ ایک پیدا کردہ نظم ہے—اور ہر پیدا کردہ شے لازماً کسی خالق کی محتاج ہوتی ہے۔ اگر وقت بذاتِ خود قائم ہوتا تو وہ تغیر سے پاک ہوتا، حالانکہ وقت کی اصل پہچان ہی تغیر ہے۔ اسی لیے فلسفہ، الٰہیات اور وحی—تینوں ایک ہی نکتے پر آ کر ٹھہرتے ہیں: وقت خدا کی تخلیق ہے، اور خدا وقت کے تابع نہیں۔ امام غزالیؒ تہافُت الفلاسفہ میں واضح کرتے ہیں کہ زمان و مکان علتِ اوّل نہیں ہو سکتے، کیونکہ جو چیز تبدیلی قبول کرے وہ واجب الوجود نہیں ہو سکتی۔ ان کے نزدیک وقت بھی حادث ہے، یعنی پیدا کیا گیا، اور ہر حادث کسی محدث (خالق) کا محتاج ہوتا ہے۔ اس استدلال کی رو سے وقت بذاتِ خود کوئی مستقل طاقت نہیں بلکہ خدائی ارادے کا نتیجہ ہے۔ اسی تصور کو سینٹ آگسٹین یوں بیان کرتے ہیں “Time was created by God; before creation, there was no ‘before’.” یعنی وقت خود تخلیق کا حصہ ہے، خدا اس سے پہلے بھی تھا اور اس کے بعد بھی رہے گا۔ خدا کے لیے ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم بے معنی ہے، کیونکہ یہ تقسیم خود وقت کے اندر ہے—اور خدا وقت کے اندر نہیں۔ قرآنِ مجید جب اعلان کرتا ہے وَالْعَصْرِ تو یہ زمانے کو خودمختار نہیں بناتا بلکہ انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ وقت بھی ایک نشانی ہے، ایک گواہ ہے، اور یہ گواہی صرف اسی ہستی کے اختیار میں ہے جس نے اسے پیدا کیا۔ اسی لیے قرآن میں ایسے واقعات بیان کیے گئے جہاں وقت نے اپنا “معمول” چھوڑ دیا—اصحابِ کہف کی صدیوں پر محیط نیند، یا سو سال بعد زندہ کیا جانا—یہ سب اس بات کے شواہد ہیں کہ وقت خدا کے حکم کا پابند ہے، کسی طبیعی جبر کا نہیں۔ فلسفی ارسطو وقت کو حرکت کی پیمائش کہتا ہے، مگر خود ارسطو بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اگر حرکت نہ ہو تو وقت کا تصور باقی نہیں رہتا۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے: حرکت کو کس نے وجود دیا؟ اسلامی فلسفہ اس سوال کا جواب صاف دیتا ہے: حرکت، زمان اور مکان—تینوں خدا کی تخلیق ہیں۔ ملا صدرا الحکمة المتعالیة میں لکھتے ہیں کہ زمان دراصل وجود کے درجات کا ایک پہلو ہے، اور وجود کی اصل علت خدا ہے؛ یوں وقت بالواسطہ نہیں بلکہ براہِ راست خدائی ارادے سے جڑا ہوا ہے۔ جدید فلسفہ بھی بالآخر اسی نکتے کے گرد گھومتا ہے۔ کانٹ (Immanuel Kant) وقت کو ایک “ذہنی قالب” قرار دیتا ہے—یعنی وقت بذاتِ خود خارجی حقیقت نہیں بلکہ ادراک کا طریقہ ہے۔ اگر وقت انسانی شعور سے وابستہ ہے، تو پھر اس شعور کا خالق کون ہے؟ یہ سوال خود بخود انسان کو خدا تک لے جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب وقت کو قانون بھی مانتا ہے اور استثنا بھی۔ قانون اس لیے کہ کائنات نظم کے ساتھ چلے؛ اور استثنا اس لیے کہ انسان یہ نہ بھولے کہ قانون بنانے والا خود قانون کا پابند نہیں۔ خدا جب چاہے وقت کو تیز کر دے، جب چاہے سست؛ چاہے تو لمحے کو صدی بنا دے اور چاہے تو صدی کو لمحہ۔ آخرکار، وقت ہمیں خدا کی طرف رہنمائی کرتا ہے، خود اپنی طرف نہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو شے بہتی دکھائی دیتی ہے، وہ محتاج ہے؛ اور جو ہستی غیر متغیر ہے، وہی اصل حاکم ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، قوانین بدل جاتے ہیں، کائنات سکڑتی اور پھیلتی ہے—مگر وقت کا خالق اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ وقت خدا کا قانون ہے، اور خدا اس قانون پر بھی حاکم ہے |
|