چاند کی تحقیق میں بڑی سائنسی پیش رفت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چاند کی تحقیق میں بڑی سائنسی پیش رفت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چاند کی سطح پر موجود گڑھوں اور نشانات کا مطالعہ نظامِ شمسی کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ برسوں سے ماہرینِ ارضیات اور فلکیات دان اس سوال پر تحقیق کرتے رہے ہیں کہ چاند کے مختلف حصوں پر شہابی تصادم کی نوعیت اور رفتار کیا یکساں رہی یا نہیں۔ اس حوالے سے حالیہ سائنسی پیش رفت نے ایک دیرینہ بحث کو فیصلہ کن سمت دے دی ہے۔ چین کی قیادت میں کی گئی تازہ تحقیق نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ چاند کے قریب اور دور دونوں حصوں پر تصادم کی شرح بنیادی طور پر یکساں رہی، جس سے ایک عالمی سطح پر یونیفائڈ قمری زمانی نظام قائم کرنے کی مضبوط بنیاد فراہم ہو گئی ہے۔
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی کے مطابق چینی سائنس دانوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ چاند کے دونوں حصوں، یعنی زمین کی جانب رخ رکھنے والے حصے اور مخالف سمت والے حصے، پر شہابی تصادم کی شرح میں کوئی بنیادی فرق نہیں پایا جاتا۔ یہ تحقیق چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف جیالوجی اینڈ جیو فزکس کی قیادت میں انجام دی گئی، جس میں ریموٹ سینسنگ تصاویر کے تفصیلی تجزیے کے ذریعے کئی دہائیوں سے رائج قمری تصادم کے زمانی ماڈل پر نظرثانی کی گئی۔ یہ مطالعہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ابتدائی قمری تاریخ میں شہابی تصادم کے واقعات کسی اچانک یا شدید اتار چڑھاؤ کے بجائے بتدریج کم ہوتے گئے۔ یہ نتیجہ ان مفروضات کی نفی کرتا ہے جن میں چاند پر کسی مخصوص دور میں انتہائی شدید تصادم، جیسے ’’دیرینہ شدید بمباری‘‘، کا تصور پیش کیا جاتا رہا تھا۔
چاند کی سطح کی عمر جاننا اس کی ارضیاتی ارتقا کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ماضی میں سائنس دان غیر نمونہ شدہ علاقوں کی عمر کا اندازہ سطح پر موجود گڑھوں کی تعداد کے ذریعے لگاتے تھے، جہاں زیادہ گڑھے قدیم سطح کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ تاہم یہ طریقہ کار ایک بڑی حد تک محدود تھا، کیونکہ اس کی بنیاد صرف چاند کے قریب والے حصے سے حاصل کردہ نمونوں پر تھی، جن کی زیادہ سے زیادہ عمر تقریباً چار ارب سال تک محدود رہی۔
یہ محدودیت چاند کی ابتدائی تاریخ سے متعلق مسلسل سائنسی بحث کا باعث بنی رہی۔ اس صورتحال میں ایک اہم پیش رفت جون 2024 میں سامنے آئی، جب چین کے چھانگ عہ-6 مشن نے چاند کے دور والے حصے میں واقع جنوبی قطب-ایٹکن بیسن سے 1935 گرام قمری نمونے زمین پر واپس لائے۔ یہ علاقہ چاند کا سب سے بڑا اور قدیم تصادمی ڈھانچہ سمجھا جاتا ہے۔ ان نمونوں کے تجزیے سے دو اہم اقسام کی چٹانوں کی نشاندہی ہوئی۔ ایک نسبتاً کم عمر باسالٹ، جس کی عمر تقریباً 2.807 ارب سال پائی گئی، اور دوسری قدیم نوریٹ، جو تقریباً 4.25 ارب سال قبل تشکیل پائی تھی۔ خاص طور پر نوریٹ چٹان اس عظیم تصادمی واقعے کے بعد وجود میں آئی جس سے جنوبی قطب-ایٹکن بیسن تشکیل پایا۔ ان نمونوں نے چاند کی ابتدائی تاریخ کی ازسرِنو تشکیل میں ایک مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کی۔
تحقیق کے دوران چھانگ عہ-6 کے لینڈنگ علاقے اور پورے جنوبی قطب-ایٹکن بیسن میں گڑھوں کی کثافت کو اعلیٰ معیار کی ریموٹ سینسنگ تصاویر کے ذریعے منظم انداز میں نقشہ بند کیا گیا۔ بعد ازاں ان اعداد و شمار کو اپالو، لونا اور چھانگ عہ-5 مشنز سے حاصل شدہ تمام سابقہ قمری نمونوں کے ڈیٹا کے ساتھ یکجا کیا گیا۔ اس جامع تجزیے کے نتیجے میں قمری تصادم کا ایک نیا اور زیادہ مکمل زمانی ماڈل تیار کیا گیا۔
نتائج سے واضح ہوا کہ چاند کے دور والے حصے کے گڑھوں کی کثافت کے اعداد و شمار، قریب والے حصے پر مبنی ماڈل کی سائنسی حدوں کے عین مطابق ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پورے چاند پر تصادم کی شدت یکساں رہی، جو عالمی سطح پر ایک یونیفائڈ قمری زمانی نظام کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد بنیاد فراہم کرتی ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف چاند کی تصادمی تاریخ کے بارے میں فہم کو بنیادی طور پر آگے بڑھاتی ہے بلکہ چھانگ عہ-6 مشن سے حاصل ہونے والے نمونوں کی غیر معمولی سائنسی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ نیا زمانی ماڈل آئندہ قمری تحقیق کے لیے زیادہ درست حوالہ فراہم کرے گا، اور ساتھ ہی نظامِ شمسی کے دیگر اجرامِ فلکی کی سطحوں کی عمر متعین کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
چین کی اس تازہ سائنسی پیش رفت نے چاند کے مطالعے میں ایک اہم سنگِ میل قائم کر دیا ہے۔ چاند کے دونوں حصوں پر تصادم کی یکساں نوعیت کی تصدیق نے برسوں سے جاری سائنسی ابہام کو دور کر دیا ہے اور ایک عالمی قمری زمانی نظام کی راہ ہموار کر دی ہے۔ جدید خلائی مشنز، معیاری نمونہ جات اور جامع ڈیٹا کے امتزاج سے حاصل ہونے والے یہ نتائج نہ صرف قمری سائنس بلکہ مجموعی طور پر سیاروی علوم کے لیے بھی دور رس اہمیت رکھتے ہیں، جو مستقبل کی خلائی تحقیق کو زیادہ مستحکم سائنسی بنیادیں فراہم کریں گے۔ |
|