اسمیش۔۔ایک ہی ضرب دو محاذ
(Haseeb Ejaz Aashir, Lahore)
اسمیش۔۔ایک ہی ضرب دو محاذ حسیب اعجاز عاشرؔ تیزگام ساعتوں میں جب دنیا کی فضاؤں پر خوف و امید کے متضاد سائے ایک ساتھ رقصاں ہیں، مشرق کے افق سے آنے والی ایک ایسی خبر جس نے اہلِ نظر کے دلوں میں تعجب، فخر اور اندیشہ تینوں کی آگ یکجا بھڑکا دی ہے۔ ریاض کی سرزمین، جو کبھی قافلوں کی گزرگاہ اور نخلستانوں کی خاموشی کی امین تھی، آج فولادی ارادوں اور آہنی تدابیر کی نمائش گاہ بن گئی۔ اسی بزمِ حرب و ہنر میں پاکستانی صنعتِ دفاع کی نمائندہ جماعت گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز نے“اسمیش”نامی ایک ایسا آہنگِ آتش متعارف کرایا جس کی گونج محض ہالوں کی دیواروں تک محدود نہ رہی، بلکہ خطّوں اور افقوں کے پار تک سنائی دی۔ اسمیش، عزمِ مسلسل، تحقیق کی ریاضت اور قومی خودداری کی طویل شب بیداریوں کا حاصل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تیرِ تیزگام سمندر کی موجوں پر تیرتے اہداف کو بھی ڈھونڈ نکالے اور خشکی کی آغوش میں چھپے نشانات تک بھی پہنچ جائے،یعنی دوہرا کردار، ایک ہی قالب میں دو جہانوں کی حکایت۔ اس وصف میں ایک طرح کی شعری صنعت بھی ہے: ایک ہی مصرع میں دو معنی،ایک موجوں کا، ایک مٹی کا۔ اسمیش،تیز رفتاری، درست رہنمائی، اور آخری لمحوں میں قریباً عمودی زاویے سے نزول کا آمتزاج ہے۔ سمندری ہدف کے لیے اس کی مسافت کی حد، وارہیڈ کا بوجھ، اور رہنمائی کے پیچیدہ نظام،یہ سب اعداد و اصطلاحات بظاہر خشک معلوم ہوتے ہیں، مگر درحقیقت یہ اس طویل علمی سفر کے سنگِ میل ہیں جس میں انجینئر کے قلم، سائنس دان کی خلوت اور سپاہی کی امید،تینوں شریکِ کار ہوتے ہیں۔ ایچ ڈی جی این ایس سے معاونت یافتہ انرشیل نیویگیشن اور ایکٹو ریڈار سیکر،یہ الفاظ اگرچہ عوامی سماعت کو اجنبی لگیں، مگر ان کے پسِ پردہ وہی قدیم داستان ہے: نشانے کی تلاش، راستے کی پہچان، اور خطا سے بچنے کی آرزو۔خشکی کے اہداف کے لیے جو صورت ترتیب دی گئی، اس میں وارہیڈ کا وزن بڑھا دیا گیا،یعنی ضرب کی شدت میں اضافہ،مگر رہنمائی کا انحصار پھر بھی اسی باوقار نظام پر رکھا گیا۔ یہاں بھی وہی راکٹ موٹر، وہی دوہرا تھرسٹ، اور وہی رفتار کی بلند پروازی،گویا ایک ہی ساز سے دو راگ چھیڑے جا رہے ہوں: ایک بحری، ایک بری۔ دفاعی ماہرین کی رائے میں ایسے ہتھیار اُن خطّوں میں خاص اہمیت رکھتے ہیں جہاں فضا میں بے یقینی کی گرد معلق ہو، اور افق پر خطرات کی مبہم لکیریں کھنچی ہوں۔ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ماورا علاقوں میں طویل فاصلے تک درست ضرب لگانے کی صلاحیت رکھنے والے نظاموں کی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ طلب خود اس بات کی گواہ ہے کہ دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں امن کی خواہش اور خوف کی حقیقت ساتھ ساتھ چلتی ہیں،جیسے رات اور سحر ایک ہی افق پر آن ملیں۔ کسی کو بلاوجہ خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ قومیں جب اپنے حصار مضبوط کرتی ہیں تو اس کا مقصد اکثر جنگ چھیڑنا نہیں، بلکہ جنگ کو دور رکھنا ہوتا ہے۔ طاقت کا توازن یہ وہ نازک پیمانہ ہے جس پر عالمی سیاست کی سانسیں آہستہ آہستہ چلتی ہیں۔ اگر ایک جانب آہنی بازو بلند ہوں تو دوسری جانب سفارتی عقل کی شمع بھی روشن رہنی چاہیے، وگرنہ روشنی کے بغیر طاقت اندھا دھند بن جاتی ہے۔ہم اِس سبق سے بھی غافل نہیں کہ ہتھیار خواہ کتنے ہی جدید کیوں نہ ہوں، اصل معرکہ انسان کے باطن میں برپا ہوتا ہے،جہاں خوف اور امید کی کشمکش جاری رہتی ہے۔ اگر عقل کی باگ مضبوط رہے تو طاقت محافظ بن جاتی ہے؛ اگر جذبات کی باگ چھوٹ جائے تو یہی طاقت مصیبت کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔ خدا کرے کہ یہ برقِ خرام صرف deterrence کی حد تک رہے، اور دنیا کے افق پر امن کی صبح جلد طلوع ہو،ایسی صبح جس میں فولاد کے سائے مختصر ہوں اور انسان کی مسکراہٹ طویل۔ کیونکہ آخرکار، تاریخ کی سب سے خوبصورت سطر وہی ہوتی ہے جس میں جنگ کی جگہ حکمت، اور خوف کی جگہ امید لکھ دی جائے۔
|