خاموشی کبھی کبھی سب سے بلند چیخ بن جاتی ہے۔ میں بھی اب اُسی خاموشی میں رہتا ہوں جہاں کوئی دستک نہیں دیتا، کوئی آواز نہیں آتی۔ میری خلوت، میری پناہ ہے۔ وہ جگہ جہاں میں اپنے زخموں کو چھُپاتا نہیں، ان سے بات کرتا ہوں۔ مگر لوگ سمجھتے ہیں کہ تنہائی بیماری ہے، حالانکہ یہ وہ واحد شفا ہے جس نے مجھے اب تک زندہ رکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی میری خَلوَتوں میں مخل نہ بنے۔ یہ جو میں ہوں، یہ جو باقی رہ گیا ہوں، یہ بہت نازک سا وجود ہے۔ ذرا سی بات، ذرا سی یاد، ذرا سا لمس، سب کچھ توڑ دیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں دور بھاگ رہا ہوں، مگر میں تو خود کو ڈھونڈنے نکلا ہوں۔ ہر دن، ہر لمحہ میں اپنی راکھ سے خود کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہوں۔ غمِ بے کراں، یہ کوئی لفظ نہیں، یہ وہ کیفیت ہے جس نے میرے اندر گھر بنا لیا ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ غم میرا نہیں، میں اس کا ہوں۔ میں اس کے سائے میں رہتا ہوں، اس کے ساتھ سانس لیتا ہوں۔ جب لوگ پوچھتے ہیں، ”کیسے ہو؟“ تو دل چاہتا ہے کہ کہہ دوں، ”غم کے ساتھ ٹھیک ہوں، تم فکر نہ کرو۔“ یہ جو تمہارے لیے ملال ہے، وہ بھی بے حد ہے۔ پر یہ ملال کسی شکایت کا نہیں، کسی گِلہ کا نہیں۔ یہ ایک تھکن ہے، دل کے اندر کی خاموش تھکن۔ وہ جو برسوں کے صدمے سہہ کر انسان کے لہجے میں اتر آتی ہے، جو مسکراہٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ کچھ غموں کو بیان نہیں کیا جاتا۔ وہ صرف محسوس کیے جاتے ہیں، جیسے ہوا میں نمی، جیسے رات میں ادھورا خواب۔ میری خَلوَت اسی احساس سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں کوئی ہنسی نہیں، کوئی شور نہیں، صرف وہ سانسیں ہیں جو بوجھل مگر سچی ہیں۔ تمہیں لگتا ہوگا کہ میں بدل گیا ہوں، ہاں، میں بدل گیا ہوں۔ اب میں ان باتوں پر نہیں ہنستا جو کبھی زندگی لگتی تھیں۔ اب میں ان لوگوں کو نہیں پکارتا جو جا چکے ہیں۔ اب میں صرف اپنے غم کے ساتھ بیٹھتا ہوں، اور اُسے کہتا ہوں، ”آ، آج پھر تھوڑا سا جییں۔“ میری خَلوَتوں میں مخل نہ بنو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں میں اپنی شکست کے ساتھ امن میں ہوں۔ یہ وہ خاموشی ہے جہاں میرے زخم سانس لیتے ہیں، اور جہاں میرا دل، اپنے بے کراں ملال کے ساتھ، اب بھی محبت پر یقین کرنے کی ہمت جمع کرتا ہے۔ |