خاموشی کے اُس پار


شہر کے بیچوں بیچ ایک پرانی لائبریری تھی،
جس کی کھڑکیوں سے شام کا سنہرا نور اندر آ کر
کتابوں کی پشتوں پر ٹھہر جاتا تھا۔
وہاں بیٹھا ایک قاری اکثر دیر تک ایک ہی صفحہ دیکھتا رہتا—
جیسے الفاظ نہیں، اپنی ذات پڑھ رہا ہو۔
زندگی بھی عجیب کتاب ہے؛
کچھ ابواب ہم شوق سے پڑھتے ہیں،
کچھ زبردستی پلٹنے پڑتے ہیں،
اور کچھ صفحات ایسے ہوتے ہیں
جن پر آنسو گِر جائیں تو سیاہی پھیل جاتی ہے۔
مگر سچ یہ ہے کہ
سیاہی پھیلنے سے عبارت ختم نہیں ہوتی،
بس معنی گہرے ہو جاتے ہیں۔
انسان جب دنیا کے ہنگاموں سے تھک کر
اپنے باطن کی دہلیز پر بیٹھتا ہے،
تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ
اصل شور باہر نہیں، اندر ہے۔
اور اصل سکون بھی باہر نہیں، اندر ہی کہیں پوشیدہ ہے۔
حکمت شاید یہ نہیں کہ ہم ہر سوال کا جواب ڈھونڈ لیں،
بلکہ یہ ہے کہ ہم ہر جواب کے پیچھے
اپنی نیت کو درست کر لیں۔
جو شخص اپنے باطن کی اصلاح میں مصروف ہو جائے،
وہ دنیا کی اصلاح کا دعویٰ نہیں کرتا—
مگر اُس کی خاموشی بھی درس بن جاتی ہے۔
اور جب انسان اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر کے
ربِّ کائنات کے حضور جھک جاتا ہے،
تو وہ ہار کر بھی جیت جاتا ہے۔
زندگی کا وقار شہرت میں نہیں،
بلکہ اُس لمحے میں ہے
جب کوئی بندہ تنہائی میں بھی سچ کا ساتھ نہ چھوڑے۔
لفظ اگر کردار سے خالی ہوں
تو محض آواز رہ جاتے ہیں؛
اور کردار اگر اخلاص سے بھر جائے
تو خاموشی بھی حکمت بن جاتی ہے۔
اگر آپ ایسے ہی فکری، تہہ دار اور ناول نما اقتباسات روز پڑھنا چاہتے ہیں تو جُڑ جائیں:
🔗 Follow the احساسِ قلم channel on WhatsApp:
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7tjKi0Qeae0oZGWS0F�
لفظوں کا یہ سفر محض مطالعہ نہیں…
شاید یہ خود سے ملاقات کا آغاز ہو۔ ✍️
Asif Jaleel
About the Author: Asif Jaleel Read More Articles by Asif Jaleel: 232 Articles with 327314 views میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے.. View More