اسپرنگ فیسٹیول میں روبوٹس کی شمولیت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
اسپرنگ فیسٹیول میں روبوٹس کی شمولیت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین میں اسپرنگ فیسٹیول صدیوں پر محیط روایات، خاندانی میل جول اور ثقافتی سرگرمیوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ماضی قریب تک اس تہوار کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا تصور کم ہی پایا جاتا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں چین کی روبوٹکس صنعت کی تیز رفتار ترقی نے اس قدیم تہوار میں ایک نئی اور مستقبل نما جہت شامل کر دی ہے۔ روبوٹس کی بڑھتی ہوئی موجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح روایتی مواقع کو بھی نئے انداز میں ڈھال رہی ہے۔
چین میں روبوٹس اب صرف صنعتی کارخانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اسپرنگ فیسٹیول سمیت مختلف سماجی اور تجارتی مواقع کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ شادی کی تقریبات، کارپوریٹ گالا شوز، شاپنگ مالز کی تشہیری سرگرمیاں اور ثقافتی تقریبات میں روبوٹس کی شمولیت ایک نمایاں رجحان کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ان مواقع پر روبوٹس استقبال، رہنمائی، اشیاء کی ترسیل اور نمائشی پرفارمنس جیسے کردار ادا کر رہے ہیں۔ چین کے بڑے شہروں میں روبوٹ کرایے پر فراہم کرنے والی منڈیاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اسپرنگ فیسٹیول کے موقع پر روبوٹ پرفارمرز اور خدماتی روبوٹس کے لیے بکنگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رجحان محض وقتی تجسس نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا تجارتی شعبہ بنتا جا رہا ہے۔ روبوٹ کرایے پر فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز مختلف تقریبات کے لیے روزانہ کی بنیاد پر خدمات پیش کر رہے ہیں، جن کی فیس ہزاروں بلکہ بعض صورتوں میں دسیوں ہزار یوان تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ منڈی بتدریج ایک منظم تجارتی ماڈل کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے روبوٹ فراہم کرنے والے اداروں اور صارفین کے درمیان رابطہ آسان بنایا جا رہا ہے، تاکہ بکھری ہوئی سپلائی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان خلا کو پُر کیا جا سکے۔ اس کے پس منظر میں چین کی قومی صنعتی حکمتِ عملی بھی کارفرما ہے، جہاں روبوٹکس کو مستقبل کی معاشی ترقی کا ایک اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں چین میں روبوٹ کرایے کی منڈی کا حجم تقریباً ایک ارب یوان تک پہنچ چکا تھا، جبکہ 2026 میں اس کے کم از کم دس ارب یوان تک بڑھنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس تیز رفتار وسعت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ کارکردگی کے انسان نما روبوٹس کی خریداری عام کاروباری اداروں یا تقریبات کے منتظمین کے لیے مہنگی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ ان کی قیمتیں لاکھوں یوان تک پہنچ سکتی ہیں۔
اسی تناظر میں کرایے کا ماڈل ایک مؤثر حل کے طور پر ابھرا ہے، جو وقتی ضرورت کے لیے روبوٹس کے استعمال کو ممکن بناتا ہے۔ اس سے نہ صرف کاروباری لاگت کم ہوتی ہے بلکہ صارفین کو کم خطرے کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی آزمانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ دوسری جانب، صنعت کے لیے یہ ماڈل حقیقی استعمال سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا ایک قیمتی ذریعہ بنتا جا رہا ہے، جو مستقبل کی مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی بہتری میں مدد فراہم کرتا ہے۔
چین میں انسان نما روبوٹس کی بڑے پیمانے پر تیاری نے بھی اس منڈی کو تقویت دی ہے۔ 2025 کو چین میں انسان نما روبوٹس کی کمرشل پیداوار کا پہلا اہم سال قرار دیا جا رہا ہے، جس کے دوران درجنوں کمپنیوں نے سینکڑوں مختلف ماڈلز متعارف کرائے۔ اس سپلائی میں اضافے کے نتیجے میں روبوٹ کرایے کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی، جس سے یہ خدمات مزید قابلِ رسائی ہو گئیں۔
روبوٹ کرایہ منڈی کو منظم کرنے کے لیے بڑے پلیٹ فارمز سامنے آ رہے ہیں، جو روبوٹ ساز اداروں، مقامی سروس فراہم کرنے والوں اور صارفین کو ایک ہی ڈیجیٹل نظام میں جوڑتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے بکنگ، ادائیگی، انشورنس، تکنیکی معاونت اور خدمات کے معیارات کو یکجا کیا جا رہا ہے، تاکہ روبوٹ کرایے پر حاصل کرنا بھی سواری بُلانے جیسا آسان ہو جائے۔
تاہم اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ فی الحال روبوٹس کا زیادہ تر استعمال نمائشی اور تفریحی سرگرمیوں تک محدود ہے، جس سے صارفین میں یکسانیت کا احساس پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اس لیے صنعت کو محض ’’نمائش‘‘ سے آگے بڑھ کر حقیقی خدمات فراہم کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت پلیٹ فارمز اب مکمل تجربات فراہم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں، جن میں ترتیب شدہ پرفارمنس، روشنی، آواز اور اسٹیج ڈیزائن شامل ہوتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ موجودہ روبوٹس بڑی حد تک پہلے سے تیار کردہ پروگرامز اور انسانی کنٹرول پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود طویل المدت رجحان تفریح سے آگے بڑھ کر صنعت، تجارت اور گھریلو استعمال کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ لاجسٹکس، رہنمائی، نگہداشت اور ابتدائی گھریلو معاونت جیسے شعبے آئندہ مرحلے کے امکانات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
اسپرنگ فیسٹیول جیسے روایتی موقع پر روبوٹس کی شمولیت اس بات کی واضح علامت ہے کہ چین میں ٹیکنالوجی اور روزمرہ زندگی کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ روبوٹ کرایے کی منڈی محض ایک عارضی رجحان نہیں بلکہ ایک لچکدار اور پائیدار تجارتی ماڈل بنتی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرتی جائے گی، روبوٹس کا کردار تفریح سے آگے بڑھ کر عملی خدمات میں وسعت اختیار کرے گا، اور یہ تبدیلی چین کی معیشت اور سماجی ڈھانچے میں ایک گہرے اور دیرپا اثر کے طور پر ابھر سکتی ہے۔
|
|