چین میں فیوچر انڈسٹریز کا فروغ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں فیوچر انڈسٹریز کا فروغ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی معیشت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں مسابقت کا دارومدار محض روایتی صنعتوں پر نہیں بلکہ جدید اور انقلابی ٹیکنالوجیز پر ہے۔ ایسے میں فیوچر انڈسٹریز قومی طاقت، تکنیکی خود انحصاری اور طویل المدت معاشی نمو کے لیے کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ چین نے اسی تناظر میں فرنٹئیر ٹیکنالوجیز میں مسلسل پیش رفت کو اپنی ترقیاتی حکمتِ عملی کا اہم ستون بنایا ہے، تاکہ نئی معاشی محرکات کو فروغ دیا جا سکے اور صنعتی ڈھانچے کو اعلیٰ معیار کی سمت میں منتقل کیا جا سکے۔
چین میں فیوچر انڈسٹریز کو بصیرت افروز، اسٹریٹجک اہمیت کی حامل اور انقلابی صلاحیت رکھنے والے شعبوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان میں کوانٹم ٹیکنالوجی، بایو مینوفیکچرنگ، ہائیڈروجن اور نیوکلیئر فیوژن توانائی، برین کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی، مجسم مصنوعی ذہانت اور 6G موبائل مواصلات جیسے شعبے شامل ہیں۔ ان چھ شعبوں کو گزشتہ برس اکتوبر میں جاری کی گئی پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کی سفارشات میں واضح طور پر اجاگر کیا گیا۔
دستاویز میں ان صنعتوں کے لیے متنوع ٹیکنالوجی راستوں کی تلاش، نمائندہ اطلاقی منظرناموں کی نشاندہی، قابلِ عمل کاروباری ماڈلز کی تیاری اور مناسب مارکیٹ ضوابط وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، تاکہ انہیں مستقبل میں معاشی نمو کے نئے محرکات کے طور پر پروان چڑھایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ صنعتیں پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ اور دیگر شعبوں پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2024 میں ان صنعتوں کی مجموعی پیداوار تقریباً 11.7 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 اور 2026 میں اس کے بالترتیب 13.4 اور 15.5 ٹریلین یوان تک بڑھنے کا امکان ہے، جو تقریباً 15 فیصد سالانہ شرح نمو کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس پیش رفت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چین تکنیکی اور صنعتی جدت کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دے رہا ہے، اداروں کو اختراعی عمل میں قائدانہ کردار دے رہا ہے اور ان شعبوں کے لیے اہدافی پالیسی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ جنوری میں چینی حکام نے اعلان کیا کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران فیوچر انڈسٹریز میں اسٹریٹجک نوعیت کے سائنسی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، جبکہ مقامی حکومتوں کو اپنی علاقائی خصوصیات کے مطابق ان شعبوں کی ترقی کی حمایت کی جائے گی۔ مرکزی ہدایات کے مطابق صوبائی حکومتیں بھی اپنے وسائل اور صنعتی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ جیانگ سو نے فیوچر انڈسٹریز کے فروغ کے لیے تین سالہ ایکشن پلان کو مزید گہرا کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ زے چیانگ نے دس نئے پائلٹ زون قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اسی طرح سی چھوان نے بھی فیوچر انڈسٹریز کے لیے پیشگی انتظامات کا آغاز کر دیا ہے۔
مقامی حکومتیں اپنی وسیع منڈی، مکمل صنعتی چین اور تیز رفتار تکنیکی صلاحیتوں کو یکجا کر کے عالمی مسابقت رکھنے والے صنعتی کلسٹرز تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں ادارہ جاتی اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال ممکن ہو سکے۔
شنگھائی میں قائم فاؤنڈیشن ماڈل انوویشن سینٹر اس کا ایک نمایاں نمونہ ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کے لارج ماڈلز کی نمو کے لیے مربوط معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ کمپیوٹنگ پاور، ڈیٹا سیٹس، مالیاتی سہولت، افرادی قوت اور اطلاقی منظرناموں تک رسائی جیسے عناصر کو یکجا کر کے اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو درپیش رکاوٹیں کم کی جا رہی ہیں۔ اسی نوعیت کے مراکز بیجنگ اور شینزین سمیت دیگر شہروں میں بھی تیزی سے ابھر رہے ہیں، جہاں کوانٹم معلومات، 6G مواصلات اور ذہین ہارڈ ویئر جیسے جدید شعبوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کاروباری ماحول میں بھی نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ 2025 کے ابتدائی گیارہ ماہ کے دوران فیوچر انڈسٹریز سے متعلق تقریباً 2 لاکھ 83 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا، جو سالانہ بنیادوں پر 35 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ بالخصوص جنریٹو مصنوعی ذہانت اور انسان نما روبوٹکس سے متعلق کمپنیوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم ماہرین کے مطابق فیوچر انڈسٹریز طویل مدتی سرمایہ کاری اور خطرات کی حامل ہوتی ہیں، جن کے لیے نجی شعبے کے جرات مندانہ اقدام کے ساتھ ساتھ مسلسل حکومتی حمایت بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت مالی و ٹیکس پالیسیوں کو بہتر بنانے، ٹیکنالوجی پر مبنی مالی خدمات کو مضبوط کرنے اور افرادی قوت کی تربیت و تقویت پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مؤثر ضابطہ کاری کے ذریعے ممکنہ خطرات سے بچاؤ کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
چین میں فیوچر انڈسٹریز کا فروغ اس بات کی علامت ہے کہ ملک سائنسی اختراعات کو براہِ راست صنعتی اور معاشی اطلاق سے جوڑنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ کوانٹم ٹیکنالوجی سے لے کر مجسم مصنوعی ذہانت اور 6G تک، مختلف شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی معاونت مستقبل کی معیشت کے خدوخال متعین کر رہی ہے۔ مسلسل پالیسی حمایت، صنعتی ہم آہنگی اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے چین ان نوخیز صنعتوں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کر کے انہیں قومی ترقی کے نئے اور پائیدار محرکات میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ |
|