بایوبوٹس اور مستقبل کی جنگیں:دنیاکےلئے ایک نیا چیلنج

بایوبوٹس اور مستقبل کی جنگیں:دنیاکےلئے ایک نیا چیلنج

غلام مرتضیٰ باجوہ ایوان اقتدارسے

کاکروچوں کی فوج، میدانِ جنگ کے لیے تیار۔ یہ بغیر کسی سوال کے احکامات پر عمل کرتی ہے۔ سائنس فکشن؟ فینٹسی؟ ہرگز نہیں۔ بایوبوٹس، یعنی روبوٹس اور ننھے جاندار حشرات کے امتزاج سے تخلیق کردہ یہ نظام اب جدید جنگی حکمت عملی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ وہ تصورات جو کبھی ناولوں اور فلموں تک محدود تھے، آج عسکری تحقیق اور دفاعی سائنس کی بدولت حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔اکیسویں صدی کی جنگیں اب روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہیں۔ آج کی جنگ ایک ہمہ جہتی تصور بن چکی ہے، جس میں سائبر، خلائی، معلوماتی اور اب حیاتیاتی ٹیکنالوجی بھی شامل ہو چکی ہے۔ بایوبوٹس اسی نئی جنگی حقیقت کا ایک خطرناک مگر خاموش ہتھیار ہیں۔ ان میں کاکروچ، بھنبھریاں اور دیگر حشرات کے اعصابی نظام میں مائیکرو چِپس نصب کر کے انہیں ریموٹ کنٹرول یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے مخصوص اہداف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
عالمی دفاعی ادارے اس ٹیکنالوجی کو نگرانی، جاسوسی، شہری علاقوں میں معلومات کے حصول اور دشمن کی تنصیبات کے قریب خاموش رسائی کے لیے آزما رہے ہیں۔ امریکی دفاعی تحقیقاتی ادارہ DARPA اس میدان میں طویل عرصے سے تجربات کر رہا ہے، جہاں حیاتیاتی اجسام کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کر کے کم لاگت مگر مؤثر جنگی نظام تیار کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق بایوبوٹس کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی پوشیدگی ہے۔ روایتی ڈرونز یا نگرانی کے آلات ریڈار، کیمروں یا الیکٹرانک سسٹمز کے ذریعے شناخت ہو سکتے ہیں، مگر ایک ننھا سا حشرہ کسی بھی عمارت، فوجی اڈے یا شہری علاقے میں بآسانی داخل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں یہ ٹیکنالوجی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان کی سکیورٹی ڈاکٹرائن ہمیشہ بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق خود کو ڈھالتی رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ، ہائبرڈ وارفیئر، سائبر حملے اور پراکسی تنازعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطرات کی نوعیت وقت کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے۔ بایوبوٹس اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی ہیں، جو دفاعی منصوبہ بندی میں سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔اگر دشمن مستقبل میں بایوبوٹس کو جاسوسی، حساس تنصیبات کی نگرانی یا حتیٰ کہ تخریبی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے تو روایتی دفاعی نظام غیر مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو نہ صرف فوجی اہداف بلکہ شہری آبادی، اہم سرکاری عمارتوں اور اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے تناظر میں اس ٹیکنالوجی کو محض ایک سائنسی تجربہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سکیورٹی ڈاکٹرائن کا بنیادی اصول پیشگی تیاری اور خطرات کی بروقت شناخت ہے۔ بایوبوٹس جیسے غیر روایتی ہتھیار اس امر کے متقاضی ہیں کہ دفاعی ادارے تحقیق، کاؤنٹر ٹیکنالوجی اور قوانین سازی پر بیک وقت کام کریں۔ایک اور اہم پہلو اخلاقی اور قانونی ہے۔ کیا زندہ جانداروں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا درست ہے؟ کیا عالمی قوانین اس ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ فی الحال اس حوالے سے کوئی واضح بین الاقوامی فریم ورک موجود نہیں، جس سے خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی ایک نئی اسلحہ جاتی دوڑ کو جنم دے سکتی ہے۔
حکومت پاکستان کی پالیسی ہمیشہ ذمہ دارانہ دفاع، علاقائی استحکام اور عالمی قوانین کی پاسداری پر مبنی رہی ہے۔ اسی تناظر میں بایوبوٹس جیسی ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی واضح سرخ لکیریں کھینچنا ناگزیر ہے۔ دفاعی تحقیق کو انسانی جانوں کے تحفظ، قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں اور ریسکیو آپریشنز تک محدود رکھنا ایک دانشمندانہ راستہ ہو سکتا ہے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ اگر دشمن اس ٹیکنالوجی کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے تو محض اخلاقی برتری کافی نہیں ہوگی۔ پاکستان کو اپنے دفاعی نظام میں ایسے سینسرز، بائیولوجیکل ڈیٹیکشن ٹولز اور الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز شامل کرنا ہوں گے جو بایوبوٹس جیسے خطرات کی نشاندہی اور روک تھام کر سکیں۔
مستقبل کی جنگیں شور سے نہیں، خاموشی سے لڑی جائیں گی۔ نہ بموں کی آواز ہوگی، نہ میزائلوں کی گھن گرج، بلکہ ننھے جاندار، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت فیصلہ کریں گے کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ ایسے میں سکیورٹی ڈاکٹرائن کو صرف روایتی ہتھیاروں کے گرد نہیں بلکہ غیر مرئی خطرات کے گرد بھی تشکیل دینا ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بایوبوٹس محض ایک سائنسی پیش رفت نہیں بلکہ عالمی سکیورٹی کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بدلتی ہوئی جنگی حقیقت کو سمجھے، اس پر تحقیق کرے اور اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔ کیونکہ آنے والی جنگ شاید نظر نہ آئے، مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہوں گے۔
Ghulam Murtaza Bajwa
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 55 Articles with 53995 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.