“میں نے نظریہ چُنا — اقتدار نہیں: میرا سفر جماعت اسلامی کے ساتھ
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ" (بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔) — سورۃ الرعد: 11 یہ آیت میرے لیے محض ایک روحانی نصیحت نہیں بلکہ ایک انقلابی پیغام ہے۔ اسی پیغام نے مجھے 2014 میں ایک ایسا فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا جو میری زندگی کا رخ متعین کرنے والا ثابت ہوا۔ وہ فیصلہ تھا جماعت اسلامی میں شمولیت کا — ایک نظریاتی تحریک کے ساتھ وابستگی کا فیصلہ۔ سن 2014 میں موجودہ نائب امیر جماعت اسلامی اسلام آباد تحسین خالد صاحب کی دعوت پر میں نے اس قافلے میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی سادگی، اخلاص اور خدمتِ دین کا جذبہ میرے لیے متاثر کن تھا۔ میں نے ان میں وہ قیادت دیکھی جو اقتدار کے لیے نہیں بلکہ کردار کی تعمیر کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کی بنیاد مفکرِ اسلام ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اگر ہم واقعی مسلمان ہیں تو ہمیں اپنی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی نظام کو بھی قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ان کی فکر نے مجھے یہ شعور دیا کہ سیاست کو دین سے جدا کرنا دراصل معاشرے کو اخلاقی بنیادوں سے محروم کرنا ہے۔ قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے: "كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ" (تم بہترین امت ہو، جو نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی ہے۔) — آل عمران: 110 یہ آیت دراصل ایک ذمہ داری ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صرف خطبات کا موضوع نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا تقاضا ہے۔ جب معاشرے میں بدعنوانی عام ہو، جب انصاف کمزور ہو، جب نوجوان مایوس ہوں — تو خاموش رہنا ایمان کا تقاضا نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔" (مسلم) اسی حدیث نے میرے اندر یہ جذبہ پیدا کیا کہ میں خاموش تماشائی نہ بنوں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد میں حصہ لوں۔ جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم میرے لیے اسی جدوجہد کا ذریعہ بنا۔ جب مجھے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کا موقع ملا تو میں نے اسے اقتدار کی سیڑھی نہیں بلکہ خدمت کی امانت سمجھا۔ میں گلی محلوں میں گیا، لوگوں کے مسائل سنے، نوجوانوں کی پریشانیاں دیکھیں، بزرگوں کی امیدیں محسوس کیں۔ میں نے جان لیا کہ سیاست اگر عوام کے درمیان نہ ہو تو وہ محض ایک کھیل بن جاتی ہے۔ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے: "اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهْلِهَا" (بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں تک پہنچاؤ۔) — النساء: 58 ووٹ ایک امانت ہے۔ قیادت ایک امانت ہے۔ سیاست ایک امانت ہے۔ اگر ہم ان امانتوں میں خیانت کریں تو ہم صرف عوام کے نہیں بلکہ اللہ کے سامنے بھی جواب دہ ہوں گے۔ جماعت اسلامی کی سب سے بڑی طاقت اس کا نظریہ اور اس کا نظم ہے۔ یہاں شخصیت پرستی نہیں بلکہ اصولوں کی پاسداری ہے۔ یہاں وقتی مفاد نہیں بلکہ طویل المدتی اصلاح کا تصور ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے 2014 میں اس تحریک کے ساتھ جوڑا اور آج تک وابستہ رکھا ہوا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ راستہ آسان نہیں۔ نظریاتی سیاست میں مشکلات آتی ہیں، وسائل کم ہوتے ہیں، نتائج فوری نہیں ملتے۔ مگر قرآن ہمیں عمل کی دعوت دیتا ہے: "وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ" (کہہ دیجئے کہ عمل کرو، اللہ تمہارے عمل کو دیکھے گا اور اس کا رسول اور مومن بھی۔) — التوبہ: 105 یہی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ کامیابی کا معیار صرف دنیاوی نتیجہ نہیں بلکہ نیت اور عمل کی سچائی ہے۔ میرا اعلان، میرا عہد آج میں پورے یقین کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ میرا راستہ مفاد کا نہیں، نظریے کا راستہ ہے۔ میرا مقصد عہدہ نہیں، خدمت ہے۔ میری سیاست اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت کی ذمہ داری ہے۔ میں نے 2014 میں جو قدم اٹھایا تھا وہ وقتی جوش نہیں تھا — وہ ایک عہد تھا۔ اللہ سے بھی اور اپنی قوم سے بھی۔ یہ عہد تھا کہ میں ظلم کے سامنے خاموش نہیں رہوں گا، کرپشن کے نظام کا حصہ نہیں بنوں گا، اور اصولوں کا سودا نہیں کروں گا۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سیاست سمجھوتے کا نام ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ جب سیاست دین سے جڑ جائے تو وہ استقامت کا نام بن جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ حق پر ڈٹ جانے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے، ان کی جدوجہد نسلوں کو راستہ دکھاتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کردار کا انقلاب برپا کریں۔ نوجوان آگے آئیں، دیانت کو شعار بنائیں، اور اس وطن کو عدل و انصاف کا گہوارہ بنانے کی جدوجہد کریں۔ میں اس قافلے کا حصہ ہوں، اور ان شاء اللہ رہوں گا۔ میں اصولوں پر قائم رہوں گا۔ میں اقامتِ دین کی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ✊ عزم بھی ہمارا، ✊ راستہ بھی ہمارا، ✊ اور ان شاء اللہ مستقبل بھی ہمارا۔ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو خالص کرے اور ہماری اس جدوجہد کو قبول فرمائے۔ آمین۔ |
|