ریاست: بقا کی آخری پناہ گاہ

ریاست: بقا کی آخری پناہ گاہ
رائے محمد حسین کھرل

اسلامی سیاسی فکر میں اجتماعی نظم اور فتنہ سے اجتناب کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی معروف تصنیف ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء میں خلافت کے انعقاد کی چھ مختلف صورتیں بیان کرتے ہوئے “استیلاء” کو چھٹی صورت کے طور پر ذکر کیا ہے؛ “استیلاء” یعنی اگر کوئی شخص قوت کے ذریعے نظمِ مملکت سنبھال لے اور مزید فتنہ و فساد سے بچنے کے لیے اہلِ رائے اس کی امارت تسلیم کر لیں تو نظمِ اجتماعی کے تحفظ کی خاطر اس کی خلافت منعقد ہو جاتی ہے۔

اسی طرح جمہور ائمہ و فقہاء نے یہ اصول بیان کیا کہ اگر حکمران مسلمان ہو—خواہ اس میں ظلم یا فسق پایا جاتا ہو—تو اس کے خلاف مسلح بغاوت کو جائز قرار نہیں دیا جائے گا، اس اندیشے کے تحت کہ اس سے خونریزی اور فساد جنم لے گا۔ ان کے نزدیک زیادتی پر صبر کرنا خانہ جنگی سے بہتر ہوتا ہے، کیونکہ داخلی تصادم پوری ریاست کو کمزور کر دیتا ہے۔

یہ آرا اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ریاست کا استحکام اجتماعی بقا کا تقاضا ہے۔ (واضح رہے کہ ہماری بحث خلافت یا آمریت کی نہیں، بلکہ ریاست کے استحکام پر مرکوز ہے)

حکمرانوں سے اختلاف، نظام سے گلہ شکوہ اور پالیسیوں پر تنقید آپ کا حق ہے، لیکن اختلاف یا سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر ریاستی بیانیے کو نقصان پہنچانا دراصل اپنی ہی بنیادیں کھودنا ہے۔

ریاست وہ سائبان ہے جس کے نیچے ہماری نسلیں پروان چڑھتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ سائبان باقی نہ رہے تو ملبہ کسی ایک سیاسی گروہ یا جماعت پر نہیں، بلکہ پوری قوم پر گرتا ہے۔ فلسطین، لیبیا، عراق، یمن اور سوڈان کے حالات بتاتے ہیں کہ جب ریاست کمزور ہوتی ہے تو شہریوں کی عزت، جان اور مال عالمی برادری کے "مذمتی بیانات" کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں۔ اور دنیا آپ کے زخموں پر صرف لفظی مرہم رکھتی ہے؛ آپ کی حفاظت صرف آپ کی اپنی ریاست کر سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی دو طاقتور ترین مسلم ریاستوں ایران اور عراق کو پہلے باہم لڑا کر کمزور کیا گیا، اور پھر انہیں نشانہ بنایا گیا۔ اور اب وہی کھیل ہمارے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ افغانستان میں امداد کے نام پر آنے والے امریکی ڈالر ہوں یا جاتے وقت وہاں جدید اسلحہ چھوڑ جانا ہو، یا ہندوستان اور ہندوستان کی پشت پر کھڑی دجالی ریاست، ان سب کا نشانہ وہ ایٹمی ڈھال اور مضبوط دفاع ہے جو ہماری بقا کی واحد ضمانت ہے۔

اگر خدانخواستہ یہ ڈھال ہٹ گئی تو تاریخ کے پاس ہماری نسلوں کو دینے کے لیے عراق، سوڈان اور لیبیا جیسی عبرت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ یہ ڈھال صرف بیرونی خطرات سے نہیں گرتی، یہ اندر سے بھی کمزور ہوتی ہے—جب صوبائیت اور لسانیت کو سیاسی ہتھیار بنا کر زبان اور علاقے کی بنیاد پر نفرت کو ہوا دی جائے۔ ایسی تقسیم ریاست کو باہر سے نہیں، اندر سے توڑتی ہے، اور یہ سب ہمارے ریاستی وجود پر پہلے بھی بیت چکا ہے۔ 
Muhammad Hussain Kharal
About the Author: Muhammad Hussain Kharal Read More Articles by Muhammad Hussain Kharal: 21 Articles with 21963 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.